ہومکالم وبلاگزمحسن سپیڈ  اور  مولانا فضل الرحمن کاگفٹ

محسن سپیڈ  اور  مولانا فضل الرحمن کاگفٹ

تحریر: سفیان چیمہ ایڈووکیٹ

                وزیرداخلہ محسن نقوی کو داد نہ دینا زیادتی ہوگی کہ انہوں نے شاہراہ دستور جو  اب ’ریڈ زون‘ بن چکی ہے،  اور اسلام آباد کے مرکزی شاہراہوں کو بڑی تیزی سے توسیع دے کر ٹریفک کی بہائو کو آسان بنادیا ہے۔ کشمیر چوک کی تعمیر تیس دِن یا اس سے بھی پہلے مکمل کرلینے کا اعلان اُن کی یکسوئی اور اپنے کام کو تیزی سے مکمل کرلینے کی صلاحیت کا اظہار ہے جس کی تعریف یقینا خوشامد نہیں کہلائے گی لیکن اسلام آباد کے دیہی علاقوں کی حالت کی طرف جب ہم دیکھتے ہیں تو بے اختیار دِل سے یہ دعا نکلتی ہے کہ اے ارش عظیم کے مالک ’اِک زرا محسن سپیڈاِس طرف بھی‘!

                سیکٹروں اور دیہات میں تقسیم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد  کو دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے جیسے  سیکٹروں والے برہمن ہوں اور دیہات میں رہنے والے شودر۔ ریڈ زون وفاقی دارالحکومت کے اقتدار کی شَہ رگ ہے اور پاکستان کی شان وشکوہ کی علامت بھی۔ مرحوم مزاح نگار سرفراز شاہد نے اسلام آباد کے بارے میں فرمایا تھا

                عجب  سیکٹر زدہ  کچھ  لوگ  اس  بستی میں  رہتے ہیں

                کہ  جیسے  گول کیپر  اپنی اپنی  ’’ڈی‘‘  میں رہتے ہیں

                چلے  گا  کس  طرح  اب  عشق لیلیٰ  اور  مجنوں  میں

                وہ  سیکٹر  ’’ای‘‘  میں رہتی ہے یہ سیکٹر ’’جی‘‘ میں رہتے ہیں

                سرفراز شاہد خود بھی چونکہ اسلام آباد کے رہائشی تھے لہذا انہوں نے سیکٹروں کے اندر بھی ذات پات کے نظام اور سام، دام، بھید، ڈنڈ کو محسوس کرلیا تھا۔ اسلام آباد کے دیہی علاقوں کے رہنے والے سہولیات تو کیا مانگیں گے کیونکہ اُن کے منتخب نمائندے دیہی علاقوں میں آنا بھی شاید اپنی توہین سمجھتے ہیں اور سرکاری افسران یا عملہ صرف توڑپھوڑ کے ارادے سے ہی اِن دیہات کا رُخ کرتا ہے۔ دیہی علاقوں کے باشندوں کو  اب ہر دَم یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کب سی ڈی اے کا عملہ چونے کا تھیلا اٹھائے مغل بادشاہوں کے شکاری لشکر کی طرح آنکلے اور ساری زندگی کی جمع پونجی سے بنائے گھر پر چونا پھیر کر چلا جائے کہ یہ غیرقانونی ہے۔  

                جیسے بنی گالہ میں صرف ایک گھر قانونی ہے اور باقی تمام علاقہ غیرقانونی،  اسی طرح اسلام آباد کے دیہاتی علاقوں میں نہ سکول کی حالت کی کسی کو فکر ہے اور نہ ہی صحت کی، نہ پانی اور بجلی کی اور نہ ہی سڑک اور پٹوار کی۔حکومت کسی کی بھی ہو، چئیرمین سی ڈی اے یا چیف کمشنر کوئی بھی ہو، شاہراہ دستور کی ترقی رُکتی نہیں اور دیہی علاقوں کی حالت کبھی بدلتی نہیں۔  نظام کولیپس ہوجانے کی بات سُن کر ایک فلم یا یہ ڈائیلاگ یاد آگیا کہ ’’کمپنی کا دیوالہ نکل گیا ہے لیکن پھر بھی منافع میں چل رہی ہے۔‘‘  زاہد ملک صاحب نے جب اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی تحریک کا آغاز کیا تو ہر طرف سے بہت مثبت جواب آیا اور اسلام آباد کے اصل اور مقامی رہائشیوں میں یہ امید جاگی کہ شاید اب اُنہیں بھی وفاقی دارالحکومت کا شہری تصور کرکے بنیادی سہولیات کی فراہمی کے قابل سمجھا جائے گا۔   

                نظا م کی کئی بار مارکھانے والے موجودہ مشیر وزیراعظم اور سینئر سیاستدان رانا ثناء اللہ خان بھی محسن نقوی سپیڈ کے قائل ہیں اور انہوں نے یہ بات کہی تھی کہ تیس سال کا سفر ساڑھے تین سال میں طے کرلیا۔ لیکن شاید رانا صاحب بھی اُسی طرح کی ترقی کی بات کررہے ہیں جیسے اسلام آباد کے ریڈ زون اور دیہی علاقوں کی ترقی کے درمیان فرق سمجھا اور دیکھا جاتا ہے کیونکہ سیاسی جماعتوں کے کارکن ساری زندگی اپنی جماعتوں کی خاطرداری میں گزار دیتے ہیں لیکن پھر بھی کارکن کے کارکن ہی رہتے ہیں۔ 

                خاموشی سے اپنا کام کرتے نظر آنے والے محسن نقوی صاحب کی اب سیاست میں بھی ’سپیڈ‘ دکھائی دینے لگی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی شان میں جس طرح انہوں نے ’ فیصل واوڈا کی زمین میں‘ کلام پیش کیاہے ، اُس دِن سے ایوان کے اندر ہی نہیں باہر بھی شور مچا ہوا ہے۔ خواجہ محمد آصف صاحب نے بھی تازہ غزل پیش کی جس سے محفل شباب پر آچکی ہے۔  مولانا فضل الرحمن زبان وبیان اورمنطق وکلام میں اپنا ثانی نہیں رکھتے لیکن پہلی بار انہیں بھی یہ اندازہ ہوا ہوگا کہ ادب میں ادب نہ رہے تو پھر محفل کا لطف کیا ہوتا ہے ۔ مولانا بھی سوچتے ہوں گے کہ پی ٹی آئی کے دور میں بھی وہ دشنام کا نشانہ رہے اور جن پہ تکیہ تھا وہی پتے اب ہوا دینے لگے ہیں۔ ایک وہ دور تھا کہ ہر طرف حضرت مولانا ، حضرت مولانا کی صدائیں تھیں اور ایک وقت یہ آیا ہے کہ مولانا کے گھر کے باہر رکھا جنریٹر بھی سی ڈی اے کو نظر آگیا ہے۔ 

                 ایک سوال مولانا فضل الرحمن سے متعلق بھی سمجھ سے بالاتر محسوس ہورہا ہے اور وہ یہ کہ مولانا کو حکومت میں خامیاں اب ہی کیوں نظرآنے لگی ہیں۔ ابھی تو چھبیس ویں ترمیم کی منظوری میں وہ پیش پیش تھے۔ پی ٹی آئی کو بھی منانے میں مصروف عمل تھے۔ پی ٹی آئی اور اس کے بانی کے بارے میں اُن کی رائے بھی کوئی راز نہیں۔ انہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ کس طرح صیہونی ایجنڈے کے تحت پی ٹی آئی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو پامال کرنے کے لئے آلہ کار بنی ہوئی ہے۔  2024 کے انتخابات کو گزرے بھی عرصہ ہوا__ پھر اب مولانا کا احتجاجی رویہ سمجھ سے باہر ہے۔ شاید سہیل وڑائچ صاحب یا حامد میر صاحب جیسے کوئی جید صحافی ہم عوام کو سمجھا سکیں کہ اندر کی بات اصل میں ہے کیا؟

                سینئر صحافی طارق سمیر صاحب نے ایک واقعہ بیان کرکے تجویز دی ہے کہ مولانا کو کیسے راضی کیا جاسکتا ہے۔ وہ پی ٹی آئی کے دورِ اقتدار کے دوران کا واقعہ سناتے ہیں کہ حضرت مولانا فضل الرحمن کی سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اُن کی رہائش گاہ پر طعام پر ملاقات ہوئی۔ اس دوران گرما گرمی ہوگئی تاہم کھانے اور ملاقات کے بعد جب مولانا رخصت ہونے لگے تو جنرل صاحب کی طرف سے انہیں پرفیوم کا تحفہ پیش کیا گیا۔ طارق سمیر صاحب کی تجویز مجھے کام کرتی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ محسن نقوی صاحب کے بیان کا سادہ مطلب یہی ہے کہ اب کوئی گفٹ نہیں ملے گا۔ اسلام آباد کے شہری اس لئے زیادہ پریشان ہیں کہ اسلام آباد میں آمدورفت پہلے ہی اذیت بن چکی ہے اور پی ٹی آئی کے دھرنوں  اور کنٹینروں سے تنگ آئی عوام کو اگر جے یو آئی (ف) کے احتجاج سے پالا پڑ گیا تو پھر کیا ہوگا؟

(کالم کار اسلام آباد ہائیکورٹ کے وکیل ہیں ۔ انہیں ای میل(Sufianakram371@gmail.com) پر رابطہ کیاجاسکتا ہے

٭٭٭٭٭٭

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔