ہومپاکستانملک مہنگائی کی شرح بڑھ کر 12.31فیصد ہوگئی، ایل پی جی اور ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ

ملک مہنگائی کی شرح بڑھ کر 12.31فیصد ہوگئی، ایل پی جی اور ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ

اسلام آباد (سب نیوز)ملک میں قلیل مدتی مہنگائی کی سالانہ شرح بڑھ کر 12 اعشاریہ31 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس کی بڑی وجہ ایل پی جی اور جلد خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 54اعشاریہ18فیصد جبکہ ایل پی جی کی قیمت میں 3اعشاریہ72فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سالانہ بنیادوں پر ایل پی جی کی قیمت میں 114اعشاریہ88 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 5 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمت اشاریے (ایس پی آئی)کی بنیاد پر قلیل مدتی مہنگائی کی شرح سالانہ بنیادوں پر 12اعشاریہ31 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

ادارہ شماریات ملک کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے 51 ضروری اشیا اور خدمات کی قیمتیں جمع کرتا ہے، جن کی بنیاد پر ہر ہفتے حساس قیمت اشاریہ مرتب کیا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ کئی ہفتوں سے قلیل مدتی مہنگائی کی شرح مسلسل دوہرے ہندسوں میں برقرار ہے، جس کی بڑی وجہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ رہا ہے۔تاہم گزشتہ 3 روز سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بتدریج کمی آ رہی ہے، جس کے اثرات آئندہ جائزے میں سامنے آئیں گے۔ دوسری جانب ایل پی جی کی قیمت میں غیر معمولی اضافے نے قلیل مدتی مہنگائی کی شرح کو مزید بڑھا دیا ہے۔ادارہ شماریات کے مطابق زیر جائزہ ہفتے کے دوران 51 ضروری اشیا میں سے 21 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جو مجموعی اشیا کا 41اعشاریہ18 فیصد بنتا ہے۔ اسی طرح 10 اشیا کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جن کا تناسب 19اعشاریہ60 فیصد رہا، جبکہ 20 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں، جو مجموعی تعداد کا 39اعشاریہ22 فیصد ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر حساس قیمت اشاریے میں 0اعشاریہ29 فیصد اضافہ ہوا، جو غذائی اور غیر غذائی اشیا کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پیٹرولیم لیوی میں کمی پر آمادہ نہیں اور پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رکھے ہوئے ہے۔توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف مہنگائی میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں بلکہ اشیا اور خدمات کی قیمتیں بڑھنے سے سیلز ٹیکس کی وصولیوں میں بھی بالواسطہ اضافہ ہو رہا ہے۔یہ صورتحال لاگت میں اضافے کے باعث پیدا ہونے والی مہنگائی کی مثال ہے، جس میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اشیائے خورونوش کو بھی مہنگا کر دیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں گھریلو صارفین پر بڑھتی ہوئی قیمتوں کا دبا مزید بڑھ رہا ہے۔ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں ٹماٹر کی قیمت میں سب سے زیادہ 54اعشاریہ18فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایل پی جی 3 اعشاریہ72 فیصد، آلو 2اعشاریہ07 فیصد، انڈے 1اعشاریہ17 فیصد، لہسن 1اعشاریہ06 فیصد اور جلانے کی لکڑی 1اعشاریہ01 فیصد مہنگی ہوئی۔اسی طرح پسا ہوا نمک 0اعشاریہ91 فیصد، سادہ ڈبل روٹی 0اعشاریہ64 فیصد، تازہ دودھ 0اعشاریہ49فیصد، دہی 0اعشاریہ41 فیصد، ماچس 0اعشاریہ16 فیصد اور شرٹنگ کا کپڑا 0اعشاریہ15 فیصد مہنگا ہوا۔

ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 4اعشاریہ20 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 2اعشاریہ97 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔اسی طرح چنے کی دال 1اعشاریہ08 فیصد، کیلے 0اعشاریہ85 فیصد، پیاز 0اعشاریہ82 فیصد، خشک دودھ 0 اعشاریہ 73فیصد، مرغی کا گوشت 0اعشاریہ61فیصد، چینی 0اعشاریہ40 فیصد، گندم کا آٹا 0اعشاریہ34 فیصد اور مونگ کی دال 0اعشاریہ27 فیصد سستی ہوئی۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ایل پی جی کی قیمت میں سب سے زیادہ 114اعشاریہ88 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ٹماٹر 78اعشاریہ89 فیصد اور پہلی سہ ماہی کے لیے بجلی 52 اعشاریہ38فیصد مہنگی ہوئی۔سالانہ بنیادوں پر ڈیزل کی قیمت میں 39اعشاریہ27فیصد، پیٹرول 36اعشاریہ34 فیصد، گندم کا آٹا 33اعشاریہ95 فیصد، مرغی کا گوشت 31اعشاریہ81 فیصد اور پسی ہوئی مرچ کی قیمت میں 15اعشاریہ55فیصد اضافہ ہوا۔اسی طرح بکرے کا گوشت 14اعشاریہ54فیصد، پیاز 13اعشاریہ64فیصد، سادہ ڈبل روٹی 12اعشاریہ35 فیصد اور گائے کا گوشت 11اعشاریہ06 فیصد مہنگا ہوا۔ادارہ شماریات کے مطابق سالانہ بنیادوں پر آلو کی قیمت میں 37اعشاریہ24 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ انڈے 27اعشاریہ59 فیصد اور چینی 25اعشاریہ03 فیصد سستی ہوئی۔اسی طرح پسا ہوا نمک 14اعشاریہ09 فیصد، گڑ 7اعشاریہ75 فیصد، مسور کی دال 7اعشاریہ49 فیصد، مونگ کی دال 6اعشاریہ79 فیصد اور اری 6/9 چاول کی قیمت میں اعشاریہ79 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔