ہومکالم وبلاگزکالمزشہیدِ صحافت ملک محمد اسماعیل خان: عزم و استقلال اور سچی صحافت کا ایک روشن باب

شہیدِ صحافت ملک محمد اسماعیل خان: عزم و استقلال اور سچی صحافت کا ایک روشن باب

تحریر: عبدالوحید خان، برمنگھم (برطانیہ)
پاکستان میں جب کسی صحافی کو قتل کر دیا جاتا ہے تو اس کی کہانی عموما ایک غیر حل شدہ پولیس کیس کی نذر ہو کر فالوں تلے دب جاتی ہے۔ بیس سالوں سے ہم نے اپنے جیسے کئی خاندانوں کو اس ناقابلِ برداشت درد سے گزرتے ہوئے دیکھا ہے، ایک ایسا درد جو انصاف کے مکمل فقدان سے پیدا ہوتا ہے، جہاں گھنانے جرائم کا ارتکاب کرنے والے اور پسِ پردہ ڈوریاں ہلانے والے دندناتے پھرتے ہیں لیکن قانون کی گرفت سے دور رہتے ہیں اور مقتول کے ورثا سسکتے رہ جاتے ہیں۔ ہم اس اذیت، اس کرب اور اس گھٹن کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں کیونکہ یہ درد میرے اپنے خاندان پر گزر چکا ہے اور دو دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ہمارا زخم ہرا ہے۔ بیس سال پہلے میرے بڑے بھائی، ملک محمد اسماعیل خان کو ہم سے زبردستی چھین لیا گیا تھا۔ وہ اسلام آباد کی صحافتی دنیا کا ایک معتبر چہرہ، پاکستان پریس انٹرنیشنل (پی پی آئی) نیوز ایجنسی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر اور ڈیلی “دی فرنٹیئر پوسٹ” کے سابق بیورو چیف تھے۔ وہ ابھی صرف 53 سال کے تھے اور اپنے کیریئر اور زندگی کے قابلِ رشک عروج پر تھے جب جنرل پرویز مشرف کی آمریت کے دورِ تاریک میں انہیں انتہائی پراسرار اور سفاکانہ حالات میں بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔وہ 31 اکتوبر 2006 کی ایک سیاہ رات تھی جب وفاق کے سب سے محفوظ سمجھے جانے والے علاقے میں نامعلوم قاتلوں نے انہیں نشانہ بنایا اور ان کی لاش کو گرین بیلٹ ایریا F-6/1 میں ان کے دفتر کے قریب شہیدِ ملت روڈ کے ساتھ گرین بیلٹ ایریا میں پھینک دیا گیا- یہ وہی مقام ہے جہاں اس وقت اسلام آباد کا نیشنل پریس کلب قائم ہے۔ یکم نومبر 2006 کا دن ہمارے خاندان کے لئے کسی قیامت سے کم نہیں تھا، یہ وہ ہولناک دن تھا جب پولیس کے بقول ان کا جسدِ خاکی صبح برآمد ہوا اور ہمارے خاندان اور ان کے دفتر کے ساتھیوں کو لاش کو پمز ہسپتال منتقلی کے بعد دوپہر میں بتایا گیا۔ اس لرزہ خیز واقعے پر تھانہ کوہسار نے نامعلوم قاتلوں کے خلاف دفعہ 302/34 PPC کے تحت (ایف آئی آر نمبر 466) تو درج کر لی، لیکن پولیس رپورٹ کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا جب دو دہائیاں بیت جائیں اور قاتل قانون کی پہنچ سے دور رہیں۔اس ہائی پروفائل قتل کیس کی سنگینی اور صحافی برادری کے احتجاج کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) بھی تشکیل دی گئی تھی لیکن روایتی سستی اور نہ جانے کن مصلحتوں کے باعث وہ جے آئی ٹی بھی قاتلوں کے بارے میں کوئی ٹھوس حقیقت یا سراغ سامنے لانے میں مکمل ناکام رہی۔ صحافی برادری کے دبا اور معاملے کو دبتے دیکھ کر بعد ازاں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) نے بھی اس کیس کی الگ سے ایک جامع تفتیشی رپورٹ تیار کی تھی۔ مگر ستم ظریفی اور ناانصافی کی انتہا دیکھیے کہ اس رپورٹ کو فائلوں کی نذر کر کے ہم سے چھپایا گیا اور ہمیں جن کی دنیا اجڑ چکی تھی کو اس تفتیشی رپورٹ کو پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسلام آباد پولیس اور تفتیشی ادارے یہ پتہ لگانے میں ناکام رہے یا شاید جان بوجھ کر سچ کو سامنے لانے سے کتراتے رہے کہ اس قتل کے اصل محرکات کیا تھے اور اس کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔ ان کی شہادت پر تعزیت کرنے والی سیاسی جماعتیں اور معروف سیاسی شخصیات بعد میں خود اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھے، لیکن میرے بھائی کے خون کا مقدمہ آج بھی حل طلب ہے۔ان کی شہادت ایک ایسا سانحہ تھا جس نے پورے ملک کی صحافی برادری کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ بین الاقوامی صحافتی تنظیموں، بشمول کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) نے اس بہیمانہ قتل پر سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور عالمی سطح پر آواز اٹھائی۔ پاکستان بھر کی صحافی برادری سراپا احتجاج بن گئی۔ اسلام آباد سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں پریس کلبوں نے اس ظلم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے اور دھرنے دیے۔ یہ احتجاج صرف سڑکوں تک محدود نہ رہا، بلکہ ملک کی مقننہ یعنی قومی اسمبلی سے صحافیوں نے اس سفاکانہ واقعے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے واک آٹ کیا اور اپوزیشن جماعتوں نے تحریک التوا جمع کروای-صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کی صوبائی اسمبلی نے متفقہ طور پر تعزیتی اور مذمتی قرارداد منظور کی، جب کہ آبائی ضلع اٹک کی ضلعی اسمبلی اور مقامی یونین کونسل نے بھی تعزیتی قراردادوں کے ذریعے ان کی گراں قدر صحافتی و سماجی خدمات پر بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا اور انکی خدمات کے اعتراف میں اٹک میں “دورداد روڈ” اور “پیپلز کالونی اٹک کے چوک” کو باقاعدہ طور پر ان کے نام سے منسوب کیا گیا اور وہاں ان کے نام کے بورڈ آویزاں کیے گئے۔میرے بڑے بھائی کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی یا جھگڑا نہیں تھا۔ وہ ایک بے داغ ماضی کے مالک تھے جنہیں پوری صحافتی برادری میں ان کی ذاتی شرافت، ملنساری، عاجزی اور پیشہ ورانہ مہارت کی وجہ سے بے حد پسند کیا جاتا تھا۔ وہ ایک نرم گو، شریف النفس، شاستہ، باوقار ، جمہوریت پسند اور پریس کی مکمل آزادی و خودمختاری پر پختہ یقین رکھتے تھے۔ صحافت ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھی اور اصول پسندی ان کی میراث تھی۔ وہ 14 فروری 1953 کو ضلع اٹک (کیمبل پور) کے تاریخی گاں دورداد میں پیدا ہوئے۔ وہ ہمارے مرحوم والد محمد یعقوب خان کے زیرِ سایہ پلے بڑھے، جو تحریکِ پاکستان کے ایک سرگرم کارکن تھے اور جنہوں نے جنرل ایوب خان کے مارشل لا کے خلاف بطور منتخب بی ڈی ممبر محترمہ فاطمہ جناح (مادرِ ملت) کے ساتھ کھڑے ہونے کی پاداش میں قید و بند کی سختیاں برداشت کیں تھیں۔ اسماعیل بھائی نے اپنے والد کی اسی نظریاتی اور انقلابی جدوجہد کو ہمیشہ اپنے سینے پر سجایا اور معاشرے میں ایک شاندار کردار نبھایا جہاں وہ ہمیشہ دوسروں کے لئے سچے ہمدرد اور مددگار تھے۔انہوں نے اپنے 30 سالہ طویل صحافتی سفر کا آغاز 1976 میں اٹک سے روزنامہ “تعمیر” اور پی پی آئی کے مقامی نمائندے کے طور پر کیا۔ اسی ابتدائی دور میں ان کی شادی اس وقت کے ضلعی افسرِ اطلاعات اور معروف شاعر سید ماجد الباقری کی صاحبزادی سے ہوئی۔ انہوں نے آغاز میں مختلف ھفت روزہ جراد میں سیاسی ڈاری نویسی بھی کی اور اردو صحافت کے ساتھ ساتھ جلد ہی انگریزی صحافت میں بھی اپنے قدم جمائے اور ڈیلی “دی مسلم” (The Muslim) اور “دی فرنٹیئر پوسٹ” کے لیے غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کی- انہوں نے ایسے دور میں جب صحافت پابندیوں اور سنسرشپ کی سخت زد میں تھی سچ لکھنے، اپنی بات کہنے اور حقائق سامنے لانے کی مثال قام کی۔ جب ملک میں تحریکِ بحالیِ جمہوریت (MRD) اپنے عروج پر تھی، تو وہ پی پی آئی کے پشاور میں بیورو چیف کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ بعد میں انہوں نے فرنٹیئر پوسٹ اسلام آباد کے سینئر اسٹاف رپورٹر اور بیوروچیف کے طور پر اپنی بے باک تحریروں سے اپنی ایک منفرد پہچان بنائی اسی دوران انہوں نے ک خبروں پر حکومت وقت اور طاقتور حلقوں کی ناراضگی بھی مول لی۔وہ روزنامہ “مشرق” کے مترجم، اداریہ نویس اور کالم نگار بھی رہے، اور جب “آن لائن نیوز ایجنسی” کا اجرا ہوا تو انہوں نے بطور چیف رپورٹر جوان کیا اور بعد میں ڈپٹی ایڈیٹر رپورٹنگ کے طور پر بھی کام کیا۔ وہ ریڈیو پاکستان کے لئے بطور سکرپٹ رائٹر اور پی ٹی وی نیوز جیسے بڑے ادارے کے ساتھ بطور کنٹریبیوٹر بھی منسلک رہے۔وہ سیاسی امور کے علاوہ سپریم کورٹ، پارلیمنٹ، فارن آفس اور غیر ملکی سفارت کاری سے متعلق رپورٹنگ سے منسلک رہے اور ہمیشہ ذمہ درانہ رپورٹنگ اور غیر جانبدارانہ تجزیہ نگاری کی جسکی وجہ سے اعلی حلقوں میں انہیں انتہائی احترام سے پڑھا جاتا تھا۔ اس سب کے ساتھ، اپنے والد کی خواہش پر، وہ 1983 میں اپنے گاں دورداد سے منتخب کونسلر بھی رہے اور صحافت کے ساتھ ساتھ عملی طور پر اپنے علاقے کی بے لوث خدمت کی اور علاقے میں تعلیم، صحت، مواصلات، بجلی کی سہولیات کی فراہمی میں بھرپور کردار ادا کیا- اجتماعی کاموں کیساتھ ساتھ لوگوں کے بے لوث ہو کر ذاتی کام بھی کروائے یہی وجہ ہے کہ اپنے علاقے کے لوگ اور ان کو جاننے والے آج بھی ان کو عزت و احترام سے یاد کرتے ہیں-ان کی ناگہانی موت اور المناک شہادت نے ہمارے ہنستے بستے خاندان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور ایسے غم و الم سے دوچار کیا جس کا اظہار ناقابل بیان ہے- ان کی شہادت اور قاتلوں کی عدم گرفتاری پر نوحہ کناں ہماری بوڑھی اور ضعیف والدہ “ماں جی” اپنے جوان بیٹے کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں دیکھنے کی حسرت لئے 2010 میں وفات پا گئیں۔ اس کے بعد ان سے چھوٹے بھای، اور ہم اس وقت حیات تین بھایوں سے بڑے بھائی محمد خطیب خان جو خود بھی ایک شاعر اور لکھاری تھے اپنے بڑے بھائی کے غم میں گھلتے گھلتے 2013 میں چل بسے۔ اور آخر کار جنوری 2016 میں اسماعیل بھائی جان شہید کی اہلیہ محترمہ بھای صاحبہ بھی اسی صدمے سے لڑتے لڑتے دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ خاندان کے یہ لوگ باری باری ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ اس دنیا سے کوچ کر گئے لیکن اپنی زندگیوں میں شہید صحافی کے قاتلوں کو قانون کی گرفت میں نہ دیکھ سکے۔آج بیس سال گزرنے کے بعد بھی جہاں پوری صحافی برادری انہیں ایک پروفیشنل، باکردار، نڈر صحافی اور شفیق استاد کے طور پر خراجِ تحسین پیش کرتی ہے، وہاں یہ تلخ حقیقت بھی ہمارے سامنے ہے کہ پاکستان میں آزادیِ صحافت آج بھی ایک دور کا سراب ہے۔ صحافی آج بھی آگ کی لکیر پر کھڑے ہو کر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ہمیں ذاتی طور پر اب اس دنیا کے قانون یا پولیس سے کوئی امید باقی نہیں رہی۔ لیکن ایک سوگوار خاندان کے طور پر، ہمارا یقین اس سب سے اعلی اور برتر ذات پر ہے جس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ محمد اسماعیل بھائی جان شہید کے قاتل انسانوں کی بنائی ہوئی عدالتوں سے تو بچ نکلے ہوں گے، لیکن وہ اللہ تعالی کے آخری اور حتمی انصاف سے کبھی نہیں بچ سکیں گے۔ ایک دن انہیں اپنے ہر ظلم کا حساب دینا پڑے گا۔بھائی جان! ہم آپ کو ہر روز، ہر لمحہ یاد کرتے ہیں۔ آپ کے اصول اور آپ کی پاکیزہ میراث ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ اللہ تعالی شہیدِ صحافت کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔(آمین)

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔