ہومکالم وبلاگزمیرا مسئلہ میرے لیے اہم ہے، دوسرے کے لیے نہیں!

میرا مسئلہ میرے لیے اہم ہے، دوسرے کے لیے نہیں!

چراغِ راہ

تحریر: شاہد زمان

سیرتِ نبوی ﷺ سے ایک سبق

رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں طائف کا واقعہ صبر، برداشت اور بلند ظرفی کی عظیم مثال ہے۔ جب طائف کے لوگوں نے آپ ﷺ کی دعوت کی مخالفت کی اور آپ ﷺ کو اذیت پہنچائی تو آپ ﷺ نے انتقام کے بجائے ان کی ہدایت کی امید کو ترجیح دی۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق، آپ ﷺ نے اس امید کا اظہار فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو صرف اسی کی عبادت کریں گے۔ (صحیح بخاری، حدیث 3231)

طائف کا یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دوسروں کے ناموافق رویّے سے دل آزردہ ہونے کے باوجود اپنے ردِعمل میں حکمت اور تحمل برقرار رکھنا چاہیے۔ ہماری توقعات پوری نہ ہوں تو شکایت میں الجھنے کے بجائے حالات کو سمجھنا اور بہتری کا راستہ تلاش کرنا زیادہ مفید ہے۔

آخر کیوں ہم توقع کرتے ہیں کہ جس مسئلے کو ہم اہم سمجھتے ہیں، دوسرا بھی اسے اتنی ہی اہمیت دے؟ یہی سوال ہمیں انسانی رویّوں اور اپنی توقعات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

ہر شخص کی اپنی دنیا ہے

کبھی آپ نے محسوس کیا ہے کہ آپ کسی مسئلے کی وجہ سے سخت پریشان ہیں، بار بار اس کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی آپ کی بات سنے، آپ کی پریشانی سمجھے اور حل تلاش کرنے میں مدد کرے۔ لیکن جب آپ کسی سے بات کرتے ہیں تو وہ اتنی توجہ نہیں دیتا جتنی آپ توقع کر رہے ہوتے ہیں۔

آپ کو دکھ ہوتا ہے اور دل میں خیال آتا ہے: ’’کیا اسے میری پریشانی کا احساس نہیں؟ کیا میں اس کے لیے اہم نہیں؟‘‘

لیکن ذرا رک کر سوچیے! کیا ہمارا ہر اہم مسئلہ دوسروں کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہونا ضروری ہے؟

زندگی میں ہر انسان اپنی ذمہ داریوں، ضرورتوں اور پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے۔ جس مسئلے نے ہماری نیند اڑا رکھی ہو، ممکن ہے دوسرے شخص کو اس کی سنگینی کا اندازہ ہی نہ ہو۔ وہ خود کسی ایسی مشکل سے گزر رہا ہو جس کا ہمیں علم نہ ہو۔

ایک شخص کاروبار کے نقصان سے پریشان ہے، دوسرا اپنے بچے کی تعلیم کے بارے میں فکرمند ہے، تیسرا بیماری سے نبرد آزما ہے اور چوتھا گھر کے اخراجات پورے کرنے کی فکر میں مبتلا ہے۔ ہر شخص کو اپنا مسئلہ فوری اور اہم محسوس ہوتا ہے، کیونکہ وہ اس کی زندگی اور حالات سے جڑا ہوتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے مسائل معمولی ہیں یا دوسروں کی بے توجہی ہمیشہ درست ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم جس مسئلے کو اپنی ترجیح سمجھتے ہیں، ضروری نہیں کہ دوسرا شخص بھی اسے اپنی ترجیح بنائے۔

ہم اکثر چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری پریشانی خود سمجھ جائیں، ہماری ضرورت کا اندازہ لگا لیں اور ہماری مدد کے لیے آگے بڑھیں۔ لیکن دوسروں کو ہماری اندرونی کیفیت کا مکمل علم نہیں ہوتا، اور نہ ہی ہر شخص کے پاس ہماری توقعات پوری کرنے کا وقت یا صلاحیت ہوتی ہے۔

توقعات جب شکایت بن جائیں

ہم نے کسی کے لیے وقت نکالا تھا، اس لیے توقع کرتے ہیں کہ وہ بھی ہمارے لیے وقت نکالے گا۔ ہم نے اس کی مشکل میں مدد کی تھی، اس لیے چاہتے ہیں کہ وہ بھی ہماری مشکل میں اسی طرح ساتھ دے۔ جب ایسا نہیں ہوتا تو مایوسی جنم لیتی ہے۔

لیکن کیا ہر انسان کے حالات، وسائل اور ترجیحات یکساں ہوتے ہیں؟

ممکن ہے سامنے والا ہماری ضرورت کو سمجھ نہ پایا ہو، مدد کرنا چاہتا ہو مگر اس کے پاس وسائل نہ ہوں، یا وہ ہمارے مسئلے کی اہمیت کو ہماری طرح محسوس نہ کرتا ہو۔ اس لیے فوری طور پر کسی کو خود غرض یا بے حس قرار دینے کے بجائے صورتِ حال کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

البتہ اگر کوئی شخص بار بار ہماری جائز ضرورت کو نظر انداز کرتا ہے تو ہمیں اپنی توقعات اور اس تعلق کی نوعیت پر بھی غور کرنا چاہیے۔

شکایت سے پہلے اپنی بات سمجھائیں

ڈیل کارنیگی کی کتاب How to Win Friends and Influence People سے ایک اہم عملی سبق یہ ملتا ہے کہ انسانی تعلقات بہتر بنانے کے لیے دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنا اور اپنی بات ایسے انداز میں کہنا ضروری ہے کہ سامنے والا اسے سن سکے۔

فرض کریں آپ کسی دوست کو فون کرتے ہیں۔ آپ پریشان ہیں، مگر وہ مصروف ہونے کی وجہ سے مختصر بات کرکے فون بند کر دیتا ہے۔ آپ کو دکھ پہنچتا ہے اور آپ سوچتے ہیں کہ اسے آپ کی کوئی پروا نہیں۔

لیکن ممکن ہے وہ واقعی کسی ضروری کام میں مصروف ہو۔ اگر آپ نے اسے یہ بتایا ہی نہیں کہ آپ کسی اہم مسئلے سے گزر رہے ہیں اور آپ کو اس کے مشورے کی ضرورت ہے تو وہ آپ کی کیفیت کا اندازہ کیسے لگائے گا؟

’’آپ کو میری کبھی پروا نہیں ہوتی‘‘ کہنے کے بجائے یوں کہنا زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے:

’’میں ان دنوں ایک اہم مسئلے سے گزر رہا ہوں۔ اگر آپ کچھ وقت نکال سکیں تو مجھے آپ سے بات کرکے اچھا محسوس ہوگا۔‘‘

پہلے جملے میں الزام ہے، جبکہ دوسرے میں ضرورت کا واضح اظہار۔ الزام سن کر انسان اپنا دفاع کرنے لگتا ہے، لیکن احترام سے بات کی جائے تو مسئلے کو سمجھنے اور حل کرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

اپنی ضرورت واضح کرنا کمزوری نہیں، اور دوسرے کی مصروفیت کا احترام کرنا اپنی اہمیت کم کرنا نہیں۔

اگر پھر بھی مدد نہ ملے؟

ہم اپنی بات مؤثر انداز میں پیش کر سکتے ہیں، لیکن دوسرے شخص کو مدد کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ اگر مطلوبہ تعاون نہ ملے تو مایوسی میں وقت ضائع کرنے کے بجائے متبادل راستہ تلاش کرنا زیادہ مفید ہے۔

مالی مسئلے کے لیے کسی تجربہ کار شخص سے مشورہ کیا جا سکتا ہے، قانونی معاملے میں متعلقہ ماہر سے رجوع کیا جا سکتا ہے اور ذہنی پریشانی میں کسی قابلِ اعتماد دوست یا گھر کے فرد سے بات کی جا سکتی ہے۔

مدد مانگنے کا مطلب اپنی ذمہ داری کسی دوسرے کے حوالے کرنا نہیں۔ مشورہ اور تعاون حاصل کرنا سمجھ داری ہے، لیکن اپنے حالات بہتر بنانے کے لیے ممکنہ اقدامات کرنا ہماری اپنی ذمہ داری بھی ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر شخص ہر مسئلے میں ہمارا ساتھی نہیں بن سکتا۔ بعض اوقات ہم کسی سے ایسی توقع وابستہ کر لیتے ہیں جسے پورا کرنے کی اس میں صلاحیت ہی نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں حقیقت کو قبول کرنا، توقعات میں مناسب تبدیلی لانا اور آگے بڑھنا دل کا بوجھ کم کر سکتا ہے۔

شکایت نہیں، حل کی طرف بڑھیں

جب کوئی مسئلہ پریشان کرے تو صرف یہ سوچتے رہنے کے بجائے کہ دوسرے میری مدد کیوں نہیں کر رہے، چند عملی قدم اٹھائیں۔

1۔ مسئلے کو واضح کریں۔

کاغذ پر لکھیں کہ اصل مشکل کیا ہے، اسے حل کرنے کے لیے کس قسم کی مدد درکار ہے اور کون سا کام آپ خود کر سکتے ہیں۔ بعض اوقات مسئلہ واضح ہوتے ہی اس کا آدھا حل سامنے آ جاتا ہے۔

2۔ درست شخص سے مدد مانگیں۔

ہر شخص ہر معاملے میں ہماری مدد نہیں کر سکتا۔ مالی مسئلہ ہو تو کسی تجربہ کار شخص سے مشورہ لیں، تعلیمی معاملہ ہو تو متعلقہ استاد سے بات کریں اور قانونی مسئلہ ہو تو کسی مستند ماہر سے رجوع کریں۔

3۔ اپنی بات مختصر اور واضح انداز میں کہیں۔

یہ کہنے کے بجائے کہ ’’کوئی میری مدد نہیں کرتا‘‘، متعلقہ شخص سے کہیں:

’’مجھے اس معاملے میں آپ کے مشورے کی ضرورت ہے۔ کیا آپ آج یا کل پندرہ منٹ نکال سکتے ہیں؟‘‘

اس طرح سامنے والے کو معلوم ہوگا کہ آپ اس سے کیا چاہتے ہیں اور کتنا وقت درکار ہے۔

4۔ جواب کے لیے مناسب وقت دیں۔

اگر سامنے والا فوراً جواب نہ دے تو کچھ مہلت دیں۔ ضرورت ہو تو مؤدبانہ انداز میں دوبارہ رابطہ کریں۔ اگر وہ مدد نہ کر سکے تو اس کی مجبوری سمجھیں اور کسی دوسرے مناسب ذریعے سے رجوع کریں۔

5۔ اپنے اختیار میں موجود قدم اٹھائیں۔

اگر کسی نے مدد کا وعدہ کیا ہے تو اس کا انتظار کرتے ہوئے اپنا کام مکمل طور پر نہ روکیں۔ جو معلومات جمع کر سکتے ہیں، جس درخواست کی تیاری کر سکتے ہیں یا جس ماہر سے رابطہ ممکن ہے، اس پر خود پیش رفت کریں۔

6۔ اپنی توقعات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں۔

اگر کوئی شخص مسلسل آپ کی جائز ضرورت کو نظر انداز کرتا ہے تو بار بار شکایت کرنے کے بجائے اس سے اپنی توقعات کم کریں اور تعاون کے لیے دوسرے قابلِ اعتماد ذرائع تلاش کریں۔ اس کا مطلب لازماً تعلق ختم کرنا نہیں، بلکہ اپنے وقت اور ذہنی سکون کی حفاظت کرنا ہے۔

آخر میں خود سے ایک سوال ضرور کریں: آج میں اپنے مسئلے کے حل کے لیے کون سا ایک قدم اٹھا سکتا ہوں؟

اس سوال کا جواب تلاش کرکے اسی دن اس پر عمل کریں۔ چھوٹا قدم بھی بے عملی اور مسلسل شکایت سے بہتر ہے۔

دوسروں کے لیے بھی وہی رویہ اپنائیں جس کی خود توقع رکھتے ہیں

اس معاملے کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری بات سنیں تو ہمیں بھی دوسروں کے مسائل کو توجہ سے سننے کی عادت ڈالنی چاہیے۔

کیا ہم کسی پریشان شخص کی بات سنتے ہوئے فوراً اپنی کہانی شروع کر دیتے ہیں؟ کیا ہم اس کی مشکل کو یہ کہہ کر معمولی سمجھتے ہیں کہ اس سے بڑے مسائل تو ہمارے اپنے ہیں؟

ہر مسئلے کا حل ہمارے پاس ہونا ضروری نہیں۔ بعض اوقات کسی کی بات خاموشی سے سن لینا، اس کی پریشانی کو سمجھنا اور اسے مناسب مشورہ دینا ہی بڑی مدد ثابت ہوتا ہے۔

البتہ دوسروں کی مدد کرتے ہوئے اپنی استطاعت اور حدود کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ خلوص کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی ذمہ داریاں نظر انداز کرکے ہر شخص کا مسئلہ اپنے سر لے لیں، بلکہ یہ ہے کہ جہاں اور جتنا ممکن ہو، دیانت داری سے تعاون کریں۔

ایک آخری بات، اپنے آپ سے!

ممکن ہے آج آپ کسی ایسے مسئلے سے پریشان ہوں جسے آپ کے اردگرد کے لوگ اتنی اہمیت نہیں دے رہے جتنی آپ چاہتے ہیں۔ آپ کو ان کی بے توجہی سے دکھ پہنچ رہا ہو۔ ایسے میں اپنی تکلیف کو نظر انداز نہ کریں، مگر اپنی تمام امیدیں بھی کسی ایک شخص کے رویّے سے وابستہ نہ کر دیں۔

اپنی بات واضح کریں، مناسب مدد مانگیں، دوسروں کے حالات کو سمجھیں اور ضرورت پڑنے پر متبادل راستہ اختیار کریں۔ اپنے تعلقات میں خلوص برقرار رکھیں، لیکن اپنی توقعات کو حقیقت کے مطابق رکھنا بھی سیکھیں۔

آج سے میرا عہد ہے کہ میں اپنی پریشانی کو دوسروں کی بے توجہی کا مستقل شکوہ بنانے کے بجائے اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کروں گا۔ اپنی ضرورت احترام سے بیان کروں گا، دوسروں کے حالات کا خیال رکھوں گا اور جب کوئی اپنی مشکل لے کر میرے پاس آئے گا تو حتی الامکان اس کی بات توجہ سے سنوں گا۔

یاد رکھیے! ہر شخص ہمارے مسئلے کو ہماری نظر سے نہیں دیکھ سکتا، لیکن ہم اپنے مسئلے کو سمجھنے، اس کا حل تلاش کرنے اور دوسروں کے دکھ کو محسوس کرنے کا ہنر ضرور سیکھ سکتے ہیں۔ شکایت سے نہیں، سمجھ داری سے آگے بڑھیے؛ کیونکہ زندگی آسان تب نہیں ہوتی جب سب ہماری توقع کے مطابق چلیں، بلکہ تب ہوتی ہے جب ہم دوسروں کو سمجھتے ہوئے اپنے راستے خود بنانا سیکھ لیتے ہیں۔

— چراغِ راہ

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔