اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان میں رومانیہ کے سفیر ڈاکٹرڈان سٹونیسکو نے کہا ہے کہ پاکستان اور رومانیہ کی معیشتوں کا حجم توقعات کے برعکس ایک دوسرے کے کافی قریب ہے، حالانکہ دونوں ممالک کی آبادی میں بہت بڑا فرق ہے۔انہوں نے بتایا کہ رومانیہ کی آبادی تقریبا ایک کروڑ 90 لاکھ ہے اور 2026 میں اس کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تخمینہ 470 ارب امریکی ڈالر ہے، جبکہ پاکستان کی آبادی تقریبا 25 کروڑ 90 لاکھ اور جی ڈی پی کا تخمینہ 450 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ان اعدادوشمار کے مطابق رومانیہ کی معیشت پاکستان کے مقابلے میں تقریبا 20 ارب ڈالر یا 4.4 فیصد بڑی ہے۔ تاہم، یہ اعدادوشمار دونوں ممالک کی مجموعی اقتصادی پیداوار ظاہر کرتے ہیں اور فی کس آمدنی یا مقامی قوتِ خرید میں فرق کی عکاسی نہیں کرتے۔
سفیر ڈاکٹر دان سٹونیسکو نے کہا کہ آبادی میں نمایاں فرق کے باوجود دونوں ممالک کی معیشتوں کا تقریبا یکساں حجم دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے لیے اہم مواقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت، ٹیکسٹائل، صنعتی پیداوار اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے لیے وسیع امکانات موجود ہیں۔ پاکستانی کمپنیاں رومانیہ کی مارکیٹ میں نئے صارفین اور کاروباری شراکت دار تلاش کر سکتی ہیں، جبکہ رومانیہ کی کمپنیاں پاکستان کی بڑی صارف مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کے مواقع تلاش کر سکتی ہیں۔رومانیہ کے سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے صرف معاشی اعدادوشمار کافی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے درمیان براہِ راست روابط، ایک دوسرے کی مارکیٹوں کی ضروریات کو سمجھنے اور قابلِ اعتماد شراکت داریوں کا قیام بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری سطح پر براہِ راست ملاقاتوں، مثر تجارتی وفود کے تبادلوں اور برآمدکنندگان کو عملی سہولتیں فراہم کرنے سے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر دان سٹونیسکو نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں زیادہ سے زیادہ پاکستانی اور رومانیہ کی کمپنیاں ایک دوسرے کے ممالک میں کاروباری سرگرمیاں شروع کریں گی اور مشترکہ تجارتی شراکت داریوں کو وسعت دیں گی۔انہوں نے کہا کہ دستیاب اقتصادی اعدادوشمار دونوں ممالک کو باہمی تجارتی امکانات کی جانب متوجہ کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، تاہم اصل ضرورت ان امکانات کو عملی کاروباری تعلقات میں تبدیل کرنے کی ہے۔
