ہومبریکنگ نیوزمراقبہ — اپنے باطن سے ملاقات کا ایک راستہ

مراقبہ — اپنے باطن سے ملاقات کا ایک راستہ

تحریر: شاہد زمان

کبھی آپ نے محسوس کیا ہے کہ آپ کا جسم تو ایک جگہ بیٹھا ہے، مگر ذہن کہیں اور بھٹک رہا ہے؟ آپ کسی سے بات کر رہے ہوتے ہیں، لیکن خیالات کا سلسلہ کسی دوسری فکر میں الجھا ہوتا ہے۔ کبھی ماضی کی کوئی بات پریشان کرتی ہے، کبھی مستقبل کا کوئی اندیشہ ذہن پر چھایا رہتا ہے۔ موبائل ہاتھ میں ہو تو ایک پیغام سے دوسرے پیغام تک سفر جاری رہتا ہے، لیکن اپنے آپ کے ساتھ چند لمحے گزارنے کا وقت نہیں ملتا۔

ہم اپنے موبائل کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں، گاڑی کی سروس کرواتے ہیں، گھر کی صفائی کرتے ہیں اور اپنے کاروبار یا ملازمت کی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن کیا کبھی اپنے ذہن، اپنے خیالات اور اپنی اندرونی کیفیت کا جائزہ بھی لیتے ہیں؟

شاید اسی لیے آج دنیا میں مراقبے، ذہنی یکسوئی اور خود آگہی کی بات پہلے سے زیادہ ہو رہی ہے۔

مراقبہ دراصل اپنے اندر جھانکنے، ذہن کو یکسو کرنے اور اپنی سوچ و احساسات کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ لیکن کیا یہ صرف بدھ مت کی عبادت ہے؟ کیا اسلام میں بھی مراقبے کی کوئی بنیاد موجود ہے؟ کیا نماز بھی مراقبے کی ایک شکل ہے؟ اور کیا ہر انسان کے لیے باقاعدہ مراقبہ کرنا ضروری ہے؟

آئیے ان سوالات کو آسان انداز میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مراقبہ کیا ہے؟

مراقبہ کا لفظ سنتے ہی اکثر لوگوں کے ذہن میں ایک ایسی تصویر آتی ہے جس میں کوئی شخص آنکھیں بند کرکے خاموش بیٹھا ہے۔ لیکن مراقبہ صرف آنکھیں بند کرکے بیٹھنے کا نام نہیں۔

سادہ الفاظ میں یہ ایسی مشق یا کیفیت ہے جس میں انسان کچھ وقت کے لیے بیرونی مصروفیات سے توجہ ہٹا کر اپنے ذہن، خیالات، احساسات اور باطنی کیفیت پر توجہ دیتا ہے۔

اس کا مقصد مختلف طریقوں میں مختلف ہو سکتا ہے۔ کوئی ذہنی یکسوئی کے لیے مراقبہ کرتا ہے، کوئی اپنے جذبات کو سمجھنے کے لیے، کوئی روحانی تربیت کے لیے اور کوئی اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق خدا سے تعلق مضبوط کرنے کے لیے۔

مثلاً ایک شخص خاموش بیٹھ کر اپنی سانس پر توجہ دیتا ہے۔ جب ذہن کسی دوسری سوچ کی طرف جاتا ہے تو وہ نرمی سے اپنی توجہ واپس سانس کی طرف لے آتا ہے۔ دوسرا شخص اپنے دن کے واقعات پر غور کرتا ہے کہ کہاں اس نے اچھا فیصلہ کیا اور کہاں اسے اپنے رویّے میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

یہ دونوں طریقے ایک جیسے نہیں، لیکن دونوں میں اپنی توجہ کو شعوری طور پر استعمال کرنے کی کوشش موجود ہے۔

کیا مراقبہ بدھ مت کی عبادت ہے؟

اس سوال کا مختصر جواب ہے: نہیں، مراقبہ صرف بدھ مت تک محدود نہیں۔

یہ درست ہے کہ بدھ مت کی مختلف روایات میں مراقبہ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ وہاں ذہنی سکون، یکسوئی، آگہی اور دکھ کے اسباب کو سمجھنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ بعض طریقوں میں سانس پر توجہ دی جاتی ہے، بعض میں اپنے خیالات اور احساسات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے، جبکہ بعض میں مخصوص روحانی تصورات پر غور کیا جاتا ہے۔

لیکن مراقبے کی دوسری صورتیں بھی دنیا کے مختلف مذاہب اور روحانی روایات میں موجود ہیں۔ عیسائیت میں خاموش عبادت اور غوروفکر، اسلامی تصوف میں مراقبہ و ذکر، جبکہ غیر مذہبی دنیا میں ذہنی یکسوئی اور خود آگہی کی مشقیں بھی اسی وسیع موضوع سے تعلق رکھتی ہیں۔

اس لیے مراقبے کو کسی ایک مذہب کی ملکیت قرار دینا درست نہیں۔ البتہ ہر روایت کا اپنا عقیدہ، مقصد اور طریقۂ کار ہے۔ ان سب کو ایک ہی چیز سمجھنا بھی مناسب نہیں۔

اسلام میں مراقبے کا تصور

اسلام میں مراقبہ، ذکر، تفکر اور محاسبۂ نفس کے تصورات موجود ہیں۔ البتہ اسلامی تصورِ مراقبہ کی بنیاد محض ذہن کو خالی کرنا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی یاد، اس کی نگرانی کا احساس اور اپنے اعمال کی اصلاح ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے:

’’اور تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔‘‘
(سورۃ البقرہ، 2:152)

ایک اور مقام پر فرمایا گیا:

’’خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔‘‘
(سورۃ الرعد، 13:28)

قرآن مجید ہمیں صرف ذکر ہی نہیں، بلکہ کائنات اور اپنی زندگی پر غوروفکر کی بھی دعوت دیتا ہے۔ سورۃ آل عمران کی آیات 190 تا 191 میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے اللہ کو یاد کرتے اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور کرتے ہیں۔

یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے: اسلامی مراقبہ انسان کو زندگی سے کٹنے یا ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنے کی دعوت نہیں دیتا، بلکہ اسے اپنے اعمال، نیت اور کردار کے بارے میں زیادہ باشعور بناتا ہے۔

اسلامی اصطلاح میں مراقبہ کا ایک اہم مفہوم یہ ہے کہ انسان ہر وقت اس احساس کے ساتھ زندگی گزارے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اور اس کے ظاہر و باطن سے واقف ہے۔ یہی احساس اسے تنہائی اور اجتماع، دونوں حالتوں میں اپنے رویّے کا جائزہ لینے کی ترغیب دیتا ہے۔

سیرتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی

رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں غوروفکر، خاموشی، یکسوئی، ذکر اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی بڑی اہمیت نظر آتی ہے۔

نبوت سے پہلے آپ ﷺ غارِ حرا میں خلوت اختیار فرماتے اور عبادت و غوروفکر میں وقت گزارتے تھے۔ یہ آپ ﷺ کی زندگی کا ایک اہم پہلو تھا۔ بعد ازاں نبوت کے دور میں بھی اللہ تعالیٰ کی یاد، عبادت، دعا اور رات کی تنہائی میں قیام آپ ﷺ کی زندگی کا حصہ رہے۔

حدیثِ جبریل میں جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ سے احسان کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

’’احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘
(صحیح مسلم، حدیث 8)

اس ارشاد میں ایک ایسی باطنی آگہی کا تصور موجود ہے جو انسان کے پورے طرزِ زندگی کو بدل سکتی ہے۔ جب انسان یہ احساس پیدا کر لیتا ہے کہ اس کے اعمال، گفتگو اور نیت اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے معاملات میں دیانت، انصاف اور اچھے اخلاق کو اختیار کرے۔

یہی سیرتِ نبوی ﷺ سے ملنے والی ایک ایسی رہنمائی ہے جسے ہر انسان اپنے دائرۂ زندگی میں سمجھ سکتا ہے: اپنے اندر جھانکنا، اپنے رویّے کا جائزہ لینا اور اپنے کردار کو بہتر بنانا۔

کیا نماز بھی مراقبے کی ایک شکل ہے؟

یہ ایک اہم سوال ہے، جس کا جواب سمجھنے کے لیے نماز اور مراقبے کے مقاصد میں فرق جاننا ضروری ہے۔

نماز اسلام کی بنیادی عبادت ہے۔ اس کے مقررہ اوقات، طریقۂ ادائیگی، ارکان، قرأت اور اذکار ہیں۔ اس لیے نماز کو عام ذہنی مراقبے کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا۔

البتہ نماز میں یکسوئی، توجہ، خاموشی، ذکر اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی حاضری کا احساس شامل ہے۔ جب انسان نماز ادا کرتے ہوئے اپنے دل و دماغ کو بھی عبادت میں شریک کرتا ہے تو اسے خشوع و خضوع کہتے ہیں۔

قرآن مجید میں کامیاب اہلِ ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:

’’بے شک ایمان والے کامیاب ہوگئے، جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔‘‘
(سورۃ المؤمنون، 23:1-2)

اس لحاظ سے نماز میں ایسی باطنی توجہ اور یکسوئی موجود ہے جس کا تعلق مراقبے کے بعض بنیادی پہلوؤں سے ملتا ہے۔ لیکن نماز ایک مکمل اور مستقل اسلامی عبادت ہے؛ اسے صرف مراقبہ کہنا اس کی حقیقت کو محدود کر دے گا۔

یوں سمجھ لیجیے کہ نماز میں جسم، زبان اور دل تینوں عبادت میں شریک ہوتے ہیں۔ اصل کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم صرف نماز کے الفاظ ادا نہ کریں بلکہ ان کے مفہوم اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی حاضری کا شعور بھی پیدا کریں۔

خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب اور مراقبے کا فروغ

پاکستان میں مراقبے اور روحانی علوم کے موضوع پر جن شخصیات نے مسلسل کام کیا ہے، ان میں خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کا نام نمایاں ہے۔

انہوں نے اپنی تحریروں، تعلیمات اور سلسلۂ عظیمیہ کے ذریعے مراقبے کے موضوع کو عام فہم انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی کتابوں میں انسان، ذہن، روح، خود آگہی اور باطنی تربیت جیسے موضوعات پر گفتگو ملتی ہے۔ ان کے زیرِ سرپرستی مراقبہ ہالز کا قیام بھی اسی کوشش کا حصہ ہے، جہاں لوگوں کو مراقبے اور روحانی علوم سے متعارف کرایا جاتا ہے۔

عظیمی صاحب کے نزدیک مراقبہ محض خاموش بیٹھنے کا عمل نہیں، بلکہ انسان کے باطن اور اپنی ذات کو سمجھنے کی ایک تربیتی کوشش ہے۔ ان کے کام کا مطالعہ کرنے والے قارئین کو یہ بات بھی پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ ان کی بعض روحانی توضیحات ایک مخصوص روحانی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہیں اسلامی عقائد کی متفقہ یا واحد تشریح سمجھنے کے بجائے ان کے اپنے علمی و روحانی تناظر میں پڑھنا زیادہ مناسب ہے۔

ان کی اس موضوع پر خدمات کا ذکر اس لیے اہم ہے کہ انہوں نے مراقبے کو ایک سنجیدہ مطالعے اور عملی تربیت کے موضوع کے طور پر پیش کیا ہے۔

کیا مراقبہ کرنا ضروری ہے؟

اب بنیادی سوال کی طرف آتے ہیں: کیا ہر شخص کے لیے روزانہ مراقبہ کرنا ضروری ہے؟

اسلامی نقطۂ نظر سے نماز، ذکر، اللہ تعالیٰ کی یاد، فرائض کی ادائیگی اور اپنے اعمال کی اصلاح اہم دینی ذمہ داریاں ہیں۔ لیکن کسی مخصوص نشست، مخصوص وقت یا مخصوص طریقے سے مراقبہ کرنا ہر مسلمان پر فرض یا واجب نہیں۔

اگر کوئی شخص ذہنی یکسوئی، خود آگہی یا روحانی تربیت کے لیے کوئی مناسب اور محفوظ مشق اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے لیے مفید ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی ایسا عقیدہ یا عمل شامل نہ ہو جو اس کے مذہبی اصولوں سے متصادم ہو۔

غیر مذہبی افراد بھی اپنی توجہ بہتر بنانے، خیالات کو سمجھنے اور روزمرہ دباؤ سے نمٹنے کے لیے مراقبے کی بعض غیر مذہبی صورتیں اختیار کر سکتے ہیں۔

یہ بھی ضروری ہے کہ مراقبے کو ہر ذہنی یا جسمانی بیماری کا علاج نہ سمجھا جائے۔ اگر کوئی شخص شدید ذہنی پریشانی، اضطراب یا کسی بیماری کا سامنا کر رہا ہے تو اسے مناسب طبی یا نفسیاتی مدد بھی حاصل کرنی چاہیے۔ مراقبہ ضرورت پڑنے پر معاون مشق ہو سکتا ہے، علاج کا متبادل نہیں۔

آغاز کیسے کریں؟ چند آسان عملی قدم

اگر آپ مراقبے یا خود آگہی کی مشق شروع کرنا چاہتے ہیں تو ابتدا میں کسی پیچیدہ طریقے کی ضرورت نہیں۔

1۔ روزانہ پانچ منٹ اپنے لیے نکالیں۔

کسی پُرسکون جگہ بیٹھیں، موبائل ایک طرف رکھ دیں اور چند لمحے خاموشی سے گزاریں۔

2۔ اپنی سانس پر توجہ دیں۔

سانس کو زبردستی قابو کرنے کے بجائے قدرتی انداز میں آنے اور جانے دیں۔ جب ذہن بھٹکے تو نرمی سے توجہ واپس سانس کی طرف لے آئیں۔

3۔ اپنے خیالات کا مشاہدہ کریں۔

یہ دیکھیں کہ آپ کے ذہن میں کون سی باتیں بار بار آ رہی ہیں۔ انہیں فوراً اچھا یا برا قرار دینے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کریں۔

4۔ دن کے اختتام پر اپنا محاسبہ کریں۔

خود سے پوچھیں: آج میں نے کون سا اچھا کام کیا؟ کہاں میرے رویّے میں بہتری کی گنجائش تھی؟ کل میں کون سی ایک بات بہتر کر سکتا ہوں؟

5۔ اپنی مذہبی وابستگی کے مطابق ذکر و دعا کو اہمیت دیں۔

ایک مسلمان کے لیے نماز، تلاوت، ذکر اور دعا اس کے روحانی معمولات کا بنیادی حصہ ہیں۔ ان عبادات کو محض رسمی ادائیگی کے بجائے توجہ اور شعور کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کریں۔

یاد رکھیے، آغاز میں پانچ منٹ بھی کافی ہیں۔ مقصد کوئی غیر معمولی تجربہ حاصل کرنا نہیں، بلکہ اپنے آپ کو سمجھنے اور اپنے رویّے کو بہتر بنانے کی عادت پیدا کرنا ہے۔

ایک آخری بات، اپنے آپ سے!

ہم دوسروں کو سمجھنے، ان کی غلطیوں پر تبصرہ کرنے اور دنیا کے معاملات پر رائے دینے میں بہت وقت صرف کرتے ہیں۔ لیکن اپنے اندر جھانکنے کے لیے چند لمحے بھی نہیں نکالتے۔

کیا کبھی ہم نے خود سے پوچھا کہ ہماری بے چینی کی اصل وجہ کیا ہے؟ ہم بار بار ایک ہی غلطی کیوں دہراتے ہیں؟ غصے کے وقت ہمارا رویّہ کیوں بدل جاتا ہے؟ اور کیا ہم واقعی اپنے فیصلے سوچ سمجھ کر کرتے ہیں؟

مراقبہ ہمیں ان سوالات پر غور کرنے کا ایک موقع فراہم کر سکتا ہے۔ یہ کوئی جادوئی عمل نہیں، نہ ہی اس سے زندگی کے تمام مسائل ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن خاموشی، توجہ، ذکر اور خود احتسابی کے ذریعے انسان اپنے اندر بہتر تبدیلی کی ابتدا ضرور کر سکتا ہے۔

آج سے میرا عہد ہے کہ میں روزانہ چند لمحے اپنے لیے ضرور نکالوں گا۔ اپنے خیالات کو سمجھنے، اپنے اعمال کا جائزہ لینے اور اپنے کردار کو بہتر بنانے کی کوشش کروں گا۔ اگر میں نماز ادا کرتا ہوں تو اسے زیادہ توجہ اور خشوع کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کروں گا، اور اگر کسی مشکل سے دوچار ہوں تو مناسب رہنمائی اور مدد حاصل کرنے سے گریز نہیں کروں گا۔

یاد رکھیے! دنیا کو سمجھنے کے لیے ہم بہت کچھ پڑھتے ہیں، مگر اپنے آپ کو سمجھنے کے لیے کبھی خاموشی سے اپنے اندر بھی جھانکنا چاہیے۔ کیونکہ زندگی میں حقیقی بہتری کا آغاز اکثر اسی لمحے ہوتا ہے جب انسان خود سے ملنے کا وقت نکالتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔