تحریر: محمد محسن اقبال
تاریخ کے اوراق میں وہی قومیں دیرپا عزت حاصل کرتی ہیں جو اپنی سرحدوں کے دفاع کی قوت بھی رکھتی ہیں اور اپنے عزم کو امن کی ضمانت میں بدلنے کا شعور بھی۔ جنگ میدانِ کارزار میں دشمن کو پسپا کر سکتی ہے، مگر پائیدار امن کے لیے وہ بصیرت درکار ہوتی ہے جو نفرت کی شدت کو مکالمے کی قوت میں اور عسکری برتری کو سفارتی کامیابی میں ڈھال دے۔ سپاہی کا منصب وطن کی حفاظت ہے، لیکن جب اس کی نگاہ میدانِ جنگ سے آگے بڑھ کر خطے کے مستقبل پر مرکوز ہو جائے تو اس کی شخصیت دفاع کے دائرے سے نکل کر امن کی امید بن جاتی ہے۔ اصل قیادت کا امتحان صرف یہ نہیں کہ وہ جنگ جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ جنگ کے امکانات کو کم کرنے اور امن کے دروازے کھولنے کے لیے کس قدر دانش مندی سے کام لیتی ہے۔
پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں نے اس سوال کو نئی معنویت دی ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں تاریخی رقابتیں، سلامتی کے خدشات اور بڑی طاقتوں کے مفادات اکثر تصادم کو جنم دیتے ہیں، پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت کو محض طاقت کے اظہار تک محدود نہ رکھے، بلکہ اسے مکالمے، ثالثی اور علاقائی استحکام کے لیے بھی بروئے کار لائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سپاہی کی بہادری اور مدبر کی بصیرت ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتی ہیں؛ کیونکہ سرحدوں کا تحفظ قومی سلامتی ہے، مگر جنگ کے پھیلاؤ کو روکنا انسانیت کی خدمت میں پنہا ہے۔
مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید عسکری کشیدگی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں جنگ کا امکان محض دو ریاستوں کا مسئلہ نہیں۔ دونوں ممالک جوہری صلاحیت رکھتے ہیں، ان کی آبادی اربوں میں ہے اور کسی بڑے تصادم کے اثرات پورے خطے کی معیشت، سلامتی اور انسانی زندگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں دفاعی تیاری ناگزیر ہے، لیکن ذمہ دار قیادت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ طاقت کے استعمال کے ساتھ اس کے نتائج کا ادراک رکھا جائے۔ عسکری کامیابی اگر سفارتی حکمت سے محروم ہو تو کشیدگی کو ختم کرنے کے بجائے اسے اگلے تصادم کی بنیاد بھی بنا سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے اس تجربے کا سبق واضح ہے؛ مضبوط دفاع اور فعال سفارت کاری ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ دفاعی قوت ملک کو جارحیت کے مقابلے میں اعتماد دیتی ہے، جب کہ سفارت کاری اس اعتماد کو سیاسی امکانات میں تبدیل کرتی ہے۔ کسی ریاست کی حقیقی کامیابی صرف اس میں نہیں کہ وہ اپنے مخالف کو اپنی قوت کا احساس دلا دے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ وہ مخالف کو تصادم کے بجائے کسی قابلِ قبول حل کی طرف آنے کا راستہ فراہم کرے۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں برسوں کی رقابت نے مسلم دنیا کو سیاسی، مذہبی اور تزویراتی سطح پر تقسیم کیے رکھا۔ ان دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کی بحالی نے یہ امکان ضرور پیدا کیا کہ اختلافات کے باوجود بقائے باہمی کی بنیادیں استوار کی جا سکتی ہیں۔ تاہم سفارتی تعلقات کی بحالی اور حقیقی مفاہمت دو الگ مراحل ہیں۔ دیرپا بہتری کے لیے اعتماد سازی، علاقائی تنازعات میں محتاط طرزِ عمل، عدم مداخلت اور مشترکہ مفادات کے تحفظ پر مسلسل کام کرنا پڑتا ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ جغرافیائی محلِ وقوع، سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ تعلقات، ایران کے ساتھ ہمسائیگی اور مسلم دنیا میں اس کی سیاسی حیثیت پاکستان کو مکالمے کے لیے ایک موزوں مقام فراہم کرتی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت پاکستانی قیادت کی سفارتی کوششوں کی اہمیت اسی وقت پوری طرح سامنے آتی ہے جب انہیں محض ملاقاتوں یا بیانات کے بجائے کشیدگی میں کمی، رابطوں کے تسلسل اور قابلِ عمل نتائج کے پیمانے پر پرکھا جائے۔ کسی رہنما کی اصل سفارتی کامیابی اس کے استقبال یا ملاقاتوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس سے پیدا ہونے والی مثبت تبدیلی سے متعین ہوتی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بھی اسی نوعیت کی حکمتِ عملی کا تقاضا کرتی ہے۔ دونوں ممالک کے اختلافات میں جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی، پابندیاں اور باہمی عدم اعتماد جیسے پیچیدہ مسائل شامل ہیں۔ ان کے حل کے لیے کسی ایک ملاقات یا عارضی مفاہمت سے زیادہ درکار ہے۔ پاکستان اگر دونوں جانب رابطوں کے لیے قابلِ اعتماد راستہ فراہم کر سکتا ہے تو یہ اس کی سفارتی صلاحیت کا مثبت اظہار ہوگا۔ لیکن ثالثی کا مقصد کسی ایک فریق کی سیاسی فتح کو یقینی بنانا نہیں، بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن میں فریقین تصادم کے اخراجات کو سمجھتے ہوئے مذاکرات کو ترجیح دیں۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ثالثی اور سفارت کاری محض بحران کے وقت سرگرم ہونے کا نام نہیں؛ ان کی اصل افادیت بحران کے اسباب کو کم کرنے میں ہے۔ اگر جنگ بندی کے بعد بھی وہی اشتعال انگیز بیانات، وہی پراکسی تنازعات اور وہی باہمی بداعتمادی برقرار رہے تو خاموشی کو امن نہیں کہا جا سکتا۔ امن کی مضبوط بنیادیں اسی وقت استوار ہوتی ہیں جب سیاسی اختلافات کو قابو میں رکھنے کے اصول، رابطے کے مستقل ذرائع اور تنازعات کے حل کے قابلِ اعتماد طریقے موجود ہوں۔
مسلم دنیا کو بھی اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ مشترکہ مذہبی ورثہ خود بخود مشترکہ سیاسی حکمتِ عملی میں تبدیل نہیں ہوتا۔ فلسطین کا المیہ، علاقائی جنگیں، معاشی عدم مساوات، توانائی کے مفادات اور بیرونی طاقتوں کے ساتھ مختلف نوعیت کے تعلقات مسلم ممالک کی ترجیحات میں فاصلے پیدا کرتے ہیں۔ ان اختلافات کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان کے باوجود تعاون کے امکانات تلاش کرنا زیادہ حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔ مشترکہ سفارتی مشاورت، تجارت، توانائی، تعلیم، سائنسی تحقیق اور دفاعی تعاون مسلم ممالک کو محض ردِعمل کی سیاست سے نکال کر ایک مثبت اور مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تعاون بھی اسی وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ دفاعی شراکت داری قومی سلامتی کو تقویت دے سکتی ہے، مگر اس کی پائیدار افادیت اس وقت بڑھتی ہے جب اسے علاقائی استحکام، معاشی اشتراک اور سفارتی مشاورت کے ساتھ جوڑا جائے۔ مسلم دنیا کو ایسے تعلقات کی ضرورت ہے جو کسی نئے محاذ آرائی کے تصور کے بجائے مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنے، تنازعات کو محدود رکھنے اور ترقی کے امکانات بڑھانے پر مبنی ہوں۔
پاکستان کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی سفارتی سرگرمیوں کو مستقل پالیسی، ادارہ جاتی تسلسل اور واضح قومی مفادات سے ہم آہنگ رکھے۔ کامیاب سفارت کاری کسی ایک شخصیت کی کوششوں تک محدود نہیں رہ سکتی؛ اسے پیشہ ورانہ سفارتی اداروں، معاشی استحکام، داخلی سیاسی ہم آہنگی اور قومی اتفاقِ رائے کی پشت پناہی درکار ہوتی ہے۔ داخلی طور پر مضبوط ریاست ہی بیرونی دنیا میں دیرپا اعتماد پیدا کر سکتی ہے۔
آخرکار، سپاہی اور سفارت کار کے کردار میں تضاد نہیں، بشرطیکہ طاقت کا مقصد امن کی حفاظت ہو اور امن کی کوشش قومی وقار کی قیمت پر نہ کی جائے۔ دفاعی قوت قوم کو جارحیت کے سامنے سر اٹھا کر کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتی ہے، جب کہ سفارتی بصیرت اسے غیر ضروری جنگوں سے بچنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ دنیا کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو جنگ کی زبان سمجھتے ہوں، مگر مکالمے کی قدر بھی پہچانتے ہوں؛ جو اپنی سرحدوں کی حفاظت کریں، مگر اپنے خطے کے مستقبل کو محض سرحدوں تک محدود نہ رکھیں۔
کیونکہ تاریخ میں سب سے بڑی فتح ہمیشہ میدانِ جنگ میں حاصل نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی عظمت اس لمحے میں پوشیدہ ہوتی ہے جب ایک طاقت ور سپاہی تلوار اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہوئے بھی امن کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
