تحریر: شاہدزمان
ہم سب سکون چاہتے ہیں۔ کوئی زیادہ پیسہ کما کر سکون حاصل کرنا چاہتا ہے، کوئی اچھا گھر بنا کر، کوئی عہدہ اور عزت پا کر، تو کوئی اپنی اولاد کو کامیاب دیکھ کر۔ ہماری زندگی کا بڑا حصہ اسی کوشش میں گزر جاتا ہے کہ حالات بہتر ہو جائیں تو دل کو قرار آ جائے گا۔
لیکن کبھی آپ نے غور کیا کہ جب ہماری ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو کچھ ہی دن بعد کوئی نئی خواہش ہمارے سامنے کھڑی ہوتی ہے؟ ایک مسئلہ حل ہوتا ہے تو دوسرا ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ ہم منزل تک پہنچنے کی خوشی منانے کے بجائے اگلی منزل کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا سکون واقعی ہماری زندگی سے دور ہے، یا ہم اسے غلط جگہ تلاش کر رہے ہیں؟
دوسروں کی زندگی دیکھ کر اپنی زندگی سے شکایت
آج ہمارے بے سکون ہونے کی ایک بڑی وجہ دوسروں سے موازنہ بھی ہے۔ کسی نے نیا گھر بنا لیا، کسی نے نئی گاڑی خرید لی، کسی کے بچے بیرونِ ملک چلے گئے اور کسی کو بڑا عہدہ مل گیا۔ ہم دوسروں کی خوشی دیکھتے ہیں، لیکن یہ نہیں جانتے کہ ان کی زندگی میں کون سی پریشانیاں موجود ہیں۔
پھر اپنے حالات کا موازنہ ان کی کامیابیوں سے کرکے خود کو محرومی کا شکار سمجھنے لگتے ہیں۔
ذرا سوچیے! کیا کسی دوسرے کے پاس زیادہ ہونے سے ہمارے پاس موجود نعمتوں کی قدر کم ہو جاتی ہے؟ کیا پڑوسی کی گاڑی ہماری اپنی ضرورت پوری کرنے کی صلاحیت چھین لیتی ہے؟
ہرگز نہیں۔ مگر ہمارا ذہن اکثر ہمیں یہی احساس دلاتا ہے کہ ہمارے پاس وہ سب کچھ نہیں جو دوسروں کے پاس ہے۔
ہم دوسروں کی زندگی دیکھتے دیکھتے اپنی زندگی جینا بھول جاتے ہیں۔
ہر بات کو دل پر لینا بھی بے سکونی ہے
ہماری پریشانیوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ہر بات کا جواب دینا اور ہر اختلاف کو ختم کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ کسی نے ہماری بات نہیں مانی، کسی نے ہماری تعریف نہیں کی، کسی نے ہمارے بارے میں غلط رائے قائم کر لی۔ ہم گھنٹوں اسی بات کو سوچتے رہتے ہیں۔
کبھی کبھی ایک مختصر جملہ ہمارے پورے دن کا سکون چھین لیتا ہے، حالانکہ ممکن ہے کہ جس شخص نے وہ بات کہی ہو، وہ کچھ دیر بعد اسے بھول بھی چکا ہو۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر شخص کو قائل کرنا ہماری ذمہ داری نہیں، ہر تنقید کا جواب دینا ضروری نہیں اور ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا۔
بعض اوقات خاموشی کمزوری نہیں بلکہ سمجھ داری ہوتی ہے۔ بات بڑھنے سے پہلے چند لمحے رک جانا، غصے میں جواب نہ دینا اور دوسرے کی بات سمجھنے کی کوشش کرنا بڑے نقصان سے بچا سکتا ہے۔
جو شخص اپنے ردِعمل پر قابو پا لیتا ہے، وہ حالات کے دباؤ میں بھی بہتر فیصلہ کر سکتا ہے۔
سکون بڑے وسائل سے نہیں، چھوٹی عادتوں سے بھی ملتا ہے
ہم سمجھتے ہیں کہ سکون کے لیے حالات کا مکمل طور پر درست ہونا ضروری ہے۔ لیکن زندگی میں شاید ہی کبھی ایسا وقت آتا ہے جب ہر مسئلہ ختم ہو جائے۔ آمدنی اور اخراجات کا مسئلہ رہتا ہے، گھر میں اختلاف بھی ہو سکتا ہے، صحت کے تقاضے بھی ہوتے ہیں اور مستقبل کی فکر بھی۔
اگر ہم سکون کو تمام مسائل کے خاتمے سے وابستہ کر دیں تو ممکن ہے کہ اسے حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ انتظار ہی کرتے رہیں۔
اس کے بجائے ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ مسائل موجود ہوں تب بھی اپنے رویّے، سوچ اور روزمرہ معمولات کو بہتر کیسے بنایا جائے۔
کسی پریشان شخص کی بات توجہ سے سن لینا، گھر پہنچ کر اہلِ خانہ کو کچھ وقت دینا، اپنی استطاعت کے مطابق کسی کی مدد کرنا، فضول بحث سے بچنا اور دن کے اختتام پر اپنی نعمتوں کو یاد کرنا معمولی کام دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہی چھوٹی عادتیں زندگی میں بڑا فرق پیدا کر سکتی ہیں۔
اپنے دل کو بھی وقت دیجیے
ہم دوسروں کے پیغامات کا جواب دینے، ضروری کام نمٹانے اور دنیا کی خبروں سے باخبر رہنے کے لیے وقت نکال لیتے ہیں، مگر اپنے دل اور ذہن کی کیفیت پر غور کرنے کے لیے چند منٹ بھی نہیں نکالتے۔
رات کو سونے سے پہلے اپنے آپ سے تین سوال کیجیے:
آج میں نے کون سا اچھا کام کیا؟
آج کس بات نے میرا سکون متاثر کیا؟
کل میں اپنے رویّے میں کون سی ایک بہتری لا سکتا ہوں؟
ان سوالوں کے جواب کسی کو دکھانے کے لیے نہیں، اپنے آپ کو سمجھنے کے لیے دیجیے۔ ممکن ہے آپ کو معلوم ہو کہ آپ کی پریشانی کا سبب صرف حالات نہیں بلکہ ان کے بارے میں آپ کا اندازِ فکر بھی ہے۔
اگر بے چینی مسلسل رہے، روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے یا نیند اور معمولات میں نمایاں خرابی پیدا ہو تو اسے محض کمزور ارادے کا نام نہ دیں۔ کسی قابلِ اعتماد شخص اور ضرورت کے مطابق متعلقہ ماہر سے مدد لینا بھی دانش مندی ہے۔
اللہ سے تعلق اور دل کا اطمینان
ایک مسلمان کے لیے سکون کی تلاش میں اللہ تعالیٰ سے تعلق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ نماز، دعا، قرآنِ کریم کی تلاوت اور اللہ پر توکل انسان کو اپنی ترجیحات درست کرنے اور مشکلات کا سامنا کرنے میں سہارا دیتے ہیں۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُ
ترجمہ: خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔ (سورۃ الرعد: 28)
توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کوشش چھوڑ دے یا مسائل سے آنکھیں بند کر لے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری پوری کریں، درست راستہ اختیار کریں، غلطی ہو تو اصلاح کریں اور نتیجے کے معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھیں۔
ہم ہر واقعے کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں ڈھال سکتے، لیکن اپنے رویّے کو بہتر بنانے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں۔
سکون کی ابتدا کہاں سے ہو؟
شاید سکون کے سفر کی ابتدا کسی بڑی تبدیلی سے نہیں بلکہ ایک چھوٹے فیصلے سے ہوتی ہے۔ آج ہم کسی کو تلخ جواب دینے سے پہلے چند لمحے رک جائیں۔ کسی دوسرے کی کامیابی پر دل تنگ کرنے کے بجائے اسے مبارک باد دے دیں۔ گھر میں کسی کی بات تحمل سے سن لیں۔ اور جو کچھ ہمارے پاس ہے، اس پر شکر ادا کرتے ہوئے اپنی بہتری کے لیے کوشش جاری رکھیں۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں: سکون صرف اپنے اندر پیدا کرنا کافی نہیں؛ اسے اپنے گھر کے ماحول میں بھی منتقل کرنا ہے۔ اگر ہم خود تو پُرسکون ہوں لیکن ہماری گفتگو سے گھر والے خوف زدہ رہیں، تو ہماری کوشش ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ ہمارے وجود سے دوسروں کو بھی اطمینان ملے۔
زندگی میں مسائل رہیں گے، خواہشات بھی ہوں گی اور آزمائشیں بھی۔ ہمیں ان سب کے درمیان اپنا توازن برقرار رکھنے کا ہنر سیکھنا ہے۔
سکون شاید مسائل سے خالی زندگی کا نام نہیں، بلکہ مسائل کے درمیان بہتر سوچ، درست رویّے، شکر اور اللہ پر بھروسے کے ساتھ زندگی گزارنے کا نام ہے۔
چراغِ راہ — آج کا عملی قدم
آج صرف ایک دن کے لیے یہ تجربہ کیجیے: کسی تلخ بات کا جواب فوراً نہ دیں۔ چند لمحے رکیں، صورتِ حال کو سمجھیں اور پھر سوچ سمجھ کر جواب دیں۔ رات کو غور کریں کہ اس چھوٹی سی تبدیلی نے آپ کے دل اور گھر کے ماحول پر کیا اثر ڈالا۔
ممکن ہے سکون کی طرف آپ کا اگلا قدم اتنا ہی چھوٹا ہو۔
