ہومکالم وبلاگزکالمز​واخان راہداری کا شیطانی کھیل: افغان حماقت، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، خلیجی دلدل اور پاک-چین اتحاد کے خلاف بین الاقوامی سازش!

​واخان راہداری کا شیطانی کھیل: افغان حماقت، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، خلیجی دلدل اور پاک-چین اتحاد کے خلاف بین الاقوامی سازش!

​تحریر: سید منظور احمد شاہ
​
حالیہ دنوں میں افغان طالبان کے مسلح عناصر کی جانب سے واخان راہداری (Wakhan Corridor) میں دراندازی کی ناکام کوشش محض ایک اتفاقی واقعہ نہیں، بلکہ ایک گہری بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے۔ پامیر اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں میں گھری تقریباً 350 کلومیٹر لمبی یہ پٹی افغانستان کو چین سے جوڑتی ہے اور 1893ء میں برطانوی ہند اور روسی سلطنت کے درمیان ایک بفر زون کے طور پر قائم کی گئی تھی۔ آج یہ خطہ پاکستان، چین اور سی پیک (CPEC) کی دفاعی سلامتی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں چینی فورسز نے بروقت اور سخت ردِعمل دے کر افغان عناصر کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔
​
واخان راہداری کی ہلچل کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔بھارت مقبوضہ کشمیر کی دلدل میں ذلیل ہونے کے باوجود وہان اپنا فوجی قبضہ جاری رکھنا چاہتا ہے اسی مقصد کے تحت بھارت نے مقبوضہ وادی کو دنیا کا سب سے بڑا جیل خانہ بنا رکھا ہے، جہاں 8 لاکھ سے زائد قابض فوج کشمیریوں کے حقوق کچل رہی ہے۔ بھارتی عدلیہ فاشسٹ ہندوتوا ایجنڈے کی آلہ کار بن چکی ہے؛ آرٹیکل 370 کی منسوخی، حریت رہنماؤں (جیسے یاسین ملک , شبیر شاہ اسیہ انداربی, مسرت عالم بٹ,ظفر اکبر بٹ, شیخ محمد اقبال پیر سجاد منظور احمد کولگامی,ڈاکٹر قاسم فکتو, ڈاکٹر حمید فیاض,سید محمد عبداللہ شاہ,ڈاکٹر شفیع شریتی اور ہزارون کشمیری مزاحمتی سیاسی کارکنان کو جھوٹے مقدمات میں سزائیں دینا، اور ڈیموگرافک تبدیلی کے منصوبے “عدالتی دہشت گردی” کی واضح مثال ہیں۔
​بھارت کا اندرونی سیاسی بحران اور جنگ جوئی کے سستے حربے۔
بھارت اس وقت شدید معاشی ناہمواری، بے روزگاری، کسان تحریکوں، شمال مشرق کی خانہ جنگی اور اقلیتوں پر مظالم جیسے اندرونی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے۔ ان ناکامیوں اور اندرونی احتجاجی لہروں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے مودی حکومت پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشنز اور سرحدی اشتعال انگیزی کو ہوا دے رہی ہے تاکہ جنگی جنون کی آڑ میں ہندو قوم پرست ووٹ بینک کو متحد رکھا جا سکے۔
​مشرقِ وسطیٰ کی زبوں حالی اور سامراجی بوکھلاہٹ
یوکرین کے محاذ پر روس کی پیش قدمی اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ و اسرائیل کو ملنے والی تاریخی ہزیمت نے مغرب کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے یہ عوامل بھی خطے مین بد امنی پھیلانے کی وجوہات کا حصہ ہین ۔ اپنی ان شکستوں اور معاشی زبوں حالی کی پردہ پوشی کے لیے امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا گٹھ جوڑ ایک نئے جنگی کھیل میں مصروف ہے۔ اس کا مقصد سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کو خلیج کی جنگ اور حوثی تنازع میں مستقل طور پر الجھائے رکھنا ہے تاکہ مسلم دنیا کی ابھرتی ہوئی طاقتوں کو مفلوج کیا جا سکے۔
​پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن وار اور مشترکہ حکمتِ عملی اور پاکستان کو اندرونی و بیرونی محاذوں مین الجھاے رکھنا اس سہ فریقی مسلم دشمن شیطانی گٹھ جوڑ کا حصہ ہے
اس عالمی سازش کا مرکزی ہدف پاکستان اور پاک-چین اتحاد ہے۔ بھارت کی را (RAW)، امریکی انٹیلی جنس اور اسرائیلی موساد مشترکہ فنڈز کے ذریعے افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے TTP، TTA اور BLA جیسے عناصر کو پاکستان کے خلاف پراکسی وار کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا حتمی مقصد پاکستان کو اندرونی و بیرونی محاذوں پر اس حد تک تھکا دینا ہے کہ اس کے ایٹمی اثاثوں کو غیر فعال کیا جا سکے۔
تاہم، اسلام آباد اور بیجنگ اس مکارانہ تکون کا مکمل ادراک رکھتے ہیں۔ مشترکہ انٹیلی جنس، سرحدی نگرانی اور مربوط عسکری حکمتِ عملی کے ذریعے اس شیطانی اتحاد کے تمام عزائم کو خاک میں ملا دیا جائے گا، کیونکہ پاک-چین اتحاد خطے کی ایک ناقابلِ تسخیر تزویراتی حقیقت ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔