ہومکالم وبلاگزکالمزجب دشمنی انتخابی ہتھیار بن جائے

جب دشمنی انتخابی ہتھیار بن جائے

تحریر:محمد محسن اقبال


جمہوریت کا حسن اس میں ہے کہ حکمران اپنی کارکردگی کے بل پر عوام کا اعتماد حاصل کریں اور حزبِ اختلاف اپنی بہتر تجاویز اور متبادل پروگرام کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے۔ انتخابات دراصل عوام کی عدالت ہوتے ہیں، جہاں روزگار، مہنگائی، تعلیم، صحت، انصاف اور اداروں کی کارکردگی جیسے معاملات پر حکمرانوں کے مستقبل کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ مگر جب کارکردگی کا دامن خالی ہونے لگے، وعدے وفا نہ ہوں اور عوامی سوالات کا جواب دینا مشکل ہو جائے تو بعض سیاسی رہنما ایک ایسا راستہ اختیار کرتے ہیں جس میں قومی سلامتی کا نعرہ داخلی مسائل پر پردہ ڈالنے کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ بیرونی دشمن کا خوف، قومی غیرت کی دہائی اور جنگی ماحول کی فضا بعض اوقات انتخابی سیاست کے ایسے ہتھیار بن جاتے ہیں جن کے سامنے عوام کے روزمرہ مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔


یہ حکمتِ عملی بظاہر بڑی مؤثر دکھائی دیتی ہے۔ مہنگائی کا جواب دینا پڑتا ہے، بے روزگاری کے اسباب بیان کرنا پڑتے ہیں، انتظامی ناکامیوں کی وضاحت کرنا ہوتی ہے اور عوام سے کیے گئے وعدوں کا حساب بھی دینا پڑتا ہے۔ لیکن جب گفتگو کا رخ کسی بیرونی خطرے کی طرف موڑ دیا جائے تو سیاسی منظرنامہ یکسر بدل سکتا ہے۔ حب الوطنی کے جذبات کو ابھار کر عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ حکومت پر تنقید کرنے والوں کو کبھی قومی مفاد سے بے خبر اور کبھی قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس طرح ایک خطرناک صورتِ حال جنم لیتی ہے، جہاں تصادم کو بہادری اور مذاکرات کو کمزوری سمجھا جانے لگتا ہے۔
بھارت کی سیاست میں اس رجحان کی ایک نمایاں مثال 2019ء کے عام انتخابات کے دوران سامنے آئی، جب پلوامہ حملے اور اس کے بعد بالاکوٹ میں بھارتی فضائی کارروائی انتخابی مباحثے کا اہم موضوع بنے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف اپنے ردعمل کو فیصلہ کن قیادت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا، جبکہ حزبِ اختلاف نے حکومتی دعوؤں اور فوجی کارروائیوں کے سیاسی استعمال پر سوالات اٹھائے۔ اس واقعے نے یہ واضح کیا کہ سلامتی سے متعلق بحران کس طرح انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ بن سکتا ہے اور کس طرح قومی جذبات سیاسی برتری حاصل کرنے کی کوششوں سے وابستہ ہو سکتے ہیں۔


پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ الزام تراشی، اشتعال انگیز بیانات اور جوابی دھمکیاں دونوں جانب عوامی جذبات کو بھڑکانے کا سبب بنتی رہی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرزِ سیاست کا انجام کیا ہوتا ہے؟ جب تحقیق کی جگہ قیاس آرائی، سفارت کاری کی جگہ دھمکی اور تدبر کی جگہ جذباتی ردعمل لے لے تو بحران کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دونوں ممالک ایٹمی قوتیں ہیں؛ اس لیے کسی غلط اندازے، غیر محتاط فیصلے یا جوابی کارروائی کا نتیجہ محض انتخابی نقصان یا فائدے تک محدود نہیں رہ سکتا۔ اس کی قیمت لاکھوں انسانوں کی زندگیوں، خطے کے امن اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
اسرائیل کی سیاست بھی قومی سلامتی اور سیاسی بقا کے درمیان پیچیدہ تعلق کو نمایاں کرتی ہے۔ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو اپنے سلامتی کے بیانیے کا اہم حصہ بناتے رہے ہیں۔ سات اکتوبر 2023ء کے حملوں کے بعد غزہ میں جنگ اور پھر خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا کہ عسکری طاقت کے استعمال، سیاسی مقاصد اور عوامی جواب دہی کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ جنگی ماحول میں شہریوں کی جانوں کا تحفظ، انسانی مصائب کا خاتمہ اور سیاسی تصفیے کی تلاش جیسے سوالات اکثر پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ کسی حکومت کی کامیابی کا اندازہ صرف اس سے نہیں لگایا جا سکتا کہ اس نے خطرات کی نشاندہی کتنی شدت سے کی، بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اس کے فیصلوں نے امن، استحکام اور انسانی زندگیوں پر کیا اثرات مرتب کیے۔


امریکہ کی عراق، افغانستان اور لیبیا میں فوجی مداخلتیں بھی اس حوالے سے اہم اسباق رکھتی ہیں۔ 2003ء میں عراق پر حملے کے جواز کے لیے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے دعوے پیش کیے گئے، لیکن بعد میں وہ مبینہ ذخائر دریافت نہ ہو سکے۔ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عدم استحکام اور انسانی مصائب نے یہ حقیقت آشکار کی کہ جب سرکاری دعوؤں کو آزادانہ تحقیق اور تنقیدی جائزے سے بالاتر سمجھ لیا جائے تو پوری قومیں اس کے نتائج بھگت سکتی ہیں۔ قومی سلامتی یقیناً ہر ریاست کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن اسی نام پر کیے گئے فیصلوں کو سوالات اور احتساب سے مستثنیٰ قرار دینا کسی طور دانش مندی نہیں۔
تاریخ میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جہاں بیرونی محاذ آرائی نے حکمرانوں کو بچانے کے بجائے ان کے زوال کو تیز کر دیا۔ ارجنٹائن کی فوجی حکومت نے 1982ء میں معاشی مشکلات اور اپنی گرتی ہوئی ساکھ کے دوران جزائر فاک لینڈ پر حملہ کیا۔ ابتدا میں قوم پرستانہ جذبات نے حکومت کے حق میں فضا پیدا کی، لیکن فوجی شکست نے اس کی بنیادیں مزید کمزور کر دیں اور بالآخر اس کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی۔ اس واقعے کا سبق واضح ہے کہ قومی جذبات کو وقتی طور پر ابھارا تو جا سکتا ہے، مگر ناکام طرزِ حکمرانی کو ہمیشہ کے لیے ان کے پیچھے چھپایا نہیں جا سکتا۔


اسی طرح 2014ء میں روس کی جانب سے کریمیا کے الحاق کے بعد صدر ولادیمیر پیوٹن کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، لیکن 2022ء میں یوکرین پر مکمل پیمانے کے حملے نے انسانی جانوں، معیشت اور علاقائی استحکام کو بھاری نقصان پہنچایا۔ ترکیہ کی مثال بھی بتاتی ہے کہ سرحد پار خطرات اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو قومی یکجہتی کے نام پر فوجی کارروائیوں کے جواز کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ ان تمام واقعات کے حالات مختلف ہیں، تاہم ان میں ایک مشترک سوال ضرور موجود ہے: کیا قومی سلامتی کے نام پر کیے جانے والے فیصلوں کے سیاسی مقاصد اور ان کے نتائج کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جا رہا ہے؟


یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر بیرونی خطرہ مصنوعی ہوتا ہے یا ہر فوجی کارروائی کے پیچھے انتخابی مفاد کارفرما ہوتا ہے۔ دنیا میں حقیقی خطرات بھی موجود ہیں اور ریاستوں کو اپنے دفاع کا حق بھی حاصل ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سلامتی کا بیانیہ حکومتی کارکردگی کے جائزے سے بچنے کا ذریعہ بن جائے۔ جب عوام کو مسلسل یہ بتایا جائے کہ ملک ایک بڑے دشمن کے مقابل کھڑا ہے تو مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت، بنیادی سہولتوں اور اداروں کی شفافیت جیسے مسائل کی اہمیت کم ہونے لگتی ہے۔ حالانکہ عوام کی زندگیوں میں بہتری لانا ہی جمہوری حکمرانی کا بنیادی مقصد ہے۔


پاکستان اور بھارت کے لیے یہ حقیقت خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں ممالک کو ایسے معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے جن کا حل مستقل توجہ، مؤثر پالیسیوں، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون میں پوشیدہ ہے۔ اگر دشمنی سیاسی مقبولیت حاصل کرنے کا مستقل وسیلہ بن جائے تو ترقی کے امکانات محدود اور باہمی بداعتمادی مزید گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام کو روزگار، معیاری تعلیم، بہتر علاج اور باعزت زندگی درکار ہے؛ انہیں ایسی سیاست کی ضرورت نہیں جو ہر اختلاف کو قومی سلامتی کا مسئلہ اور ہر سفارتی کوشش کو کمزوری بنا کر پیش کرے۔


دانش مند قیادت کا اصل امتحان صرف مخالف کو للکارنے یا طاقت کا مظاہرہ کرنے میں نہیں، بلکہ مشکل حالات میں درست فیصلہ کرنے، قومی مفادات کا تحفظ کرنے اور امن کے امکانات کو زندہ رکھنے میں ہوتا ہے۔ مذاکرات، تحمل اور سفارت کاری بزدلی کی علامت نہیں، بلکہ بالغ نظری اور سیاسی بصیرت کا اظہار ہیں۔ ایک ذمہ دار رہنما جانتا ہے کہ قومی وقار کی حفاظت اور عوامی فلاح کو یقینی بنانے کے لیے جذبات کے ساتھ عقل، عزم کے ساتھ تدبر اور طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہے۔
نتیجاتْا ، بیرونی دشمن کا نام لے کر انتخابی فائدہ حاصل کرنا شاید آسان ہو، مگر خوف کی بنیاد پر کسی قوم کا مستقبل تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔ حکمرانوں کی اصل کامیابی اس میں ہے کہ وہ عوام کے مسائل حل کریں، اداروں کو مضبوط بنائیں، معیشت کو مستحکم کریں اور قومی سلامتی کے تقاضے پورے کرتے ہوئے امن کے دروازے بند نہ ہونے دیں۔ اگر تصادم انتخابی سیاست کا اثاثہ بن جائے تو اس سے حاصل ہونے والا فائدہ عارضی ہو سکتا ہے، لیکن اس کی انسانی، معاشی اور تزویراتی قیمت کئی نسلوں کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ قومیں نعروں سے نہیں، بہتر طرزِ حکمرانی، دانش مندانہ فیصلوں اور پائیدار امن سے ترقی کرتی ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔