چراغ راہ
قومی تجویز: اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے ذریعے پیداواری سرمایہ کاری اور معاشی خود انحصاری
تحریر: شاہدزمان
پاکستان کی معیشت میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا کردار کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ دیارِ غیر میں اپنے گھر، خاندان، دوستوں اور وطن سے دور رہنے والا پاکستانی، چاہے وہ محنت کش مزدور ہو، ڈاکٹر، انجینئر، استاد یا کاروباری شخصیت، اپنی محنت سے نہ صرف اپنے خاندان کا سہارا بنتا ہے بلکہ پاکستان کے لیے بھی قیمتی زرمبادلہ فراہم کرتا ہے۔
اس کردار کی اہمیت کا اندازہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں پاکستان کو کارکنوں کی ترسیلاتِ زر کی مد میں تقریباً 38.3 ارب امریکی ڈالر موصول ہوئے۔ یہ رقم لاکھوں خاندانوں کے اخراجات پورے کرنے کے ساتھ ملکی معیشت اور بیرونی ادائیگیوں کے لیے بھی اہم ہے۔ تاہم ترسیلاتِ زر اور سرمایہ کاری دو الگ چیزیں ہیں؛ ہر بھیجی جانے والی رقم کو سرمایہ کاری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ “
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہم بیرونِ ملک پاکستانیوں کی محنت سے حاصل ہونے والی بچت کو صرف گھریلو اخراجات اور رہائشی جائیداد کی خریداری تک محدود رکھیں، یا ان کے لیے ایسے مواقع بھی پیدا کریں جن کے ذریعے رضاکارانہ سرمایہ کاری مستقل آمدن، روزگار اور ملکی پیداوار کا ذریعہ بن سکے؟
یہ سوال صرف تارکینِ وطن سے نہیں، حکومت، مالیاتی اداروں، نجی شعبے، بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں اور اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن سے بھی ہے۔
گھر کی خواہش اپنی جگہ، مستقبل کی آمدن بھی ضروری
بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کی بڑی خواہشات میں سے ایک یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے وطن میں اپنا گھر بنائے، تاکہ زندگی کے آخری برسوں میں اپنے خاندان اور اپنے لوگوں کے درمیان باعزت زندگی گزار سکے۔ یہ خواہش فطری ہے اور اس کا احترام ہونا چاہیے۔
لیکن اگر کوئی پاکستانی بیس یا تیس سال بیرونِ ملک محنت کرنے کے بعد اپنی جمع پونجی گھر بنانے پر خرچ کر دے اور وطن واپسی پر اس کے پاس مستقل آمدن کا کوئی ذریعہ نہ ہو، تو کیا اس کی مالی سلامتی مکمل ہو جاتی ہے؟
گھر رہائش فراہم کرتا ہے، لیکن روزمرہ اخراجات، علاج، خوراک اور دیگر ضروریات کے لیے آمدن پھر بھی درکار ہوتی ہے۔ اس لیے رہائش کی منصوبہ بندی کے ساتھ آمدن کی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔
مالی استطاعت اجازت دے تو رہائش کے لیے رقم مختص کرنے کے بعد بچت کا ایک مناسب حصہ ایسے پیداواری منصوبے میں لگایا جا سکتا ہے جو مستقبل میں آمدن پیدا کرے۔ یہ منصوبہ کرایے کی جائیداد، چھوٹے یا درمیانے کاروبار، خوراک کی پراسیسنگ، زرعی پیداوار، مقامی صنعت، ٹیکنالوجی یا خدمات کے شعبے سے متعلق ہو سکتا ہے۔
انتخاب جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقی طلب، کاروباری قابلیت، لاگت، خطرات اور متوقع آمدن کی جانچ کے بعد ہونا چاہیے۔
ہر پاکستانی سرمایہ کار نہیں، مگر ہر پاکستانی کو موقع ملنا چاہیے
بیرونِ ملک جانے والا ہر شخص بڑی رقم نہیں کماتا۔ بہت سے محنت کش اپنی آمدن کا بڑا حصہ خاندان کے اخراجات، بچوں کی تعلیم، والدین کے علاج اور قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کر دیتے ہیں۔ ان سے بڑی سرمایہ کاری کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔
قومی پروگرام کا مقصد ہر تارکِ وطن کو سرمایہ کار بنانا نہیں ہونا چاہیے۔ مقصد یہ ہے کہ جو شخص اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد سرمایہ کاری کی استطاعت رکھتا ہو، اسے اپنی مالی حیثیت کے مطابق قابلِ اعتماد مواقع میسر آئیں۔
چھوٹی بچت رکھنے والوں کے لیے قانونی اور شفاف شراکتی مواقع جبکہ زیادہ سرمایہ رکھنے والوں کے لیے کاروباری شراکت، صنعت، خدمات اور برآمدات سے متعلق منصوبے پیش کیے جا سکتے ہیں۔
کسی بھی منصوبے میں منافع کی ضمانت کا دعویٰ نہیں ہونا چاہیے۔ سرمایہ کار کو متوقع منافع کے ساتھ ممکنہ نقصان، انتظامی اخراجات، رقم واپس حاصل کرنے کی شرائط اور قانونی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کیا جائے۔
OPF: قومی سطح پر رابطہ کاری اور سہولت کاری کا مرکز
اس تجویز کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ نیا متوازی ادارہ قائم کرنے کے بجائے موجودہ ادارہ جاتی ڈھانچے کو مؤثر بنایا جائے۔ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (OPF) پہلے ہی بیرونِ ملک پاکستانیوں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے۔ اس کے تحت Investment Facilitation Centre بھی قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد بیرونِ ملک پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع، متعلقہ پالیسیوں اور ضابطہ جاتی امور کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہے۔ “
تجویز یہ ہے کہ اس موجودہ مرکز کو مضبوط بنا کر „اوورسیز پاکستانیز پیداواری سرمایہ کاری سہولت پروگرام“ (Overseas Pakistanis Productive Investment Facilitation Programme) کے طور پر وسعت دی جائے۔
یہ پروگرام پورے پاکستان کے لیے ہو۔ اس کے تحت پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں دستیاب مواقع کو متعلقہ قانونی و انتظامی دائرۂ اختیار کے مطابق شامل کیا جا سکے۔ منصوبوں کا انتخاب مقامی ضروریات، کاروباری امکانات، روزگار کی صلاحیت اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی بنیاد پر ہو۔
OPF کا کردار سرمایہ کاری خود کرنا، کاروبار چلانا یا منافع کی ضمانت دینا نہیں ہوگا۔ اس کی ذمہ داری رہنمائی، معلومات، رابطہ کاری، سہولت کاری اور شکایات کو متعلقہ مجاز اداروں تک پہنچانا ہوگی۔
اس مقصد کے لیے OPF ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور رابطہ جاتی نظام قائم کر سکتی ہے، جہاں سرمایہ کار جانچ شدہ منصوبوں کی معلومات حاصل کر سکیں، متعلقہ اداروں سے رابطہ کر سکیں اور درخواست یا شکایت کی پیش رفت معلوم کر سکیں۔
ہر منصوبے کے ساتھ سرمایہ کی ضرورت، کاروباری ماڈل، متوقع آمدن، ممکنہ خطرات، انتظامی اخراجات، قانونی حیثیت اور ذمہ دار ادارے کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ کسی منصوبے کی فہرست میں شمولیت کو حکومتی ضمانت یا منافع کی یقین دہانی نہ سمجھا جائے۔
بین الاقوامی ادارے: مالی امداد سے آگے، علم اور صلاحیت کی شراکت
پاکستان میں مختلف بین الاقوامی ترقیاتی ادارے تکنیکی معاونت، انسانی وسائل کی تربیت، معاشی ترقی، کاروباری صلاحیت، روزگار اور سماجی تحفظ جیسے شعبوں میں کام کرتے رہے ہیں۔ اس تجربے سے فائدہ اٹھانے کے لیے OPF اور متعلقہ سرکاری ادارے باقاعدہ شراکت داری کی کوشش کر سکتے ہیں۔
یہاں GIZ، JICA اور اسلامی ترقیاتی بینک (IsDB) سمیت متعلقہ اداروں کا کردار اہم ہو سکتا ہے، بشرطیکہ مجوزہ پروگرام ان کے موجودہ مینڈیٹ، ترجیحات اور دستیاب وسائل سے مطابقت رکھتا ہو۔
- GIZ — جرمن ادارہ برائے بین الاقوامی تعاون: ہنرمندی، روزگار، کاروباری تربیت اور بیرونِ ملک سے واپس آنے والے پاکستانی کارکنوں کی معاشی بحالی کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ OPF کے ساتھ پاکستانی جرمن سہولت و بحالی مرکز کے سلسلے میں پہلے بھی تعاون کی مثال موجود رہی ہے۔
- JICA — جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی: تکنیکی تعاون، مہارتوں کی ترقی، صنعتی صلاحیت، کاروباری ماحول اور انسانی وسائل کی تربیت میں ممکنہ معاونت حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں JICA کے جاری ترقیاتی شعبوں میں اقتصادی ترقی، تعلیم، صحت اور انسانی وسائل شامل ہیں ۔ذ
- اسلامی ترقیاتی بینک (IsDB): مالی شمولیت، ہنرمندی، معاشی بااختیاری اور روزگار پیدا کرنے کے منصوبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں BISP کے مستحق خاندانوں کی مہارتوں اور روزگار سے متعلق ممکنہ شراکت بھی ایک متعلقہ مثال ہے، تاہم نئے پروگرام کے لیے الگ منظوری اور مالیاتی انتظام درکار ہوگا۔
- USAID اور امریکی ترقیاتی تعاون: ماضی میں پاکستان میں زراعت، معاشی ترقی، ہنرمندی اور نجی شعبے کی معاونت کے مختلف منصوبے رہے ہیں۔ تاہم USAID کے ادارہ جاتی کردار اور امریکی غیر ملکی امداد کے نظام میں 2025 کے بعد بڑی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ اس لیے اسے موجودہ فعال فنڈنگ کا یقینی ذریعہ قرار دینے کے بجائے امریکی محکمہ خارجہ یا متعلقہ موجودہ پروگراموں کے تحت دستیاب معاونت کی تصدیق کے بعد ہی شراکت دار کے طور پر شامل کیا جائے
اس کے علاوہ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، اقوامِ متحدہ کے متعلقہ ادارے، یورپی یونین اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں سے بھی ان کے موجودہ پروگراموں کے مطابق تکنیکی معاونت، کاروباری تربیت، ڈیجیٹل نظام، مالی شمولیت، خواتین کی معاشی بااختیاری اور نتائج کی آزادانہ جانچ میں تعاون طلب کیا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی شراکت کا مقصد صرف فنڈز حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ تربیت، منصوبہ بندی، شفافیت، کاروباری صلاحیت اور مؤثر نگرانی بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ کسی بھی شراکت داری کو موجودہ پالیسی، دستیاب فنڈنگ، باقاعدہ منظوری اور واضح نتائج سے مشروط رکھا جائے۔
BISP: فلاح سے خود انحصاری کی طرف
اس قومی تجویز کا ایک اہم سماجی پہلو یہ بھی ہے کہ معاشی ترقی کے مواقع صرف پہلے سے خوش حال یا سرمایہ رکھنے والے افراد تک محدود نہ رہیں۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ہنرمندی، روزگار اور معاشی بااختیاری کے اقدامات پر بھی کام کر رہا ہے۔ اس کے تحت مستحق خاندانوں کے اہل افراد کے لیے فنی تربیت اور روزگار کے مواقع بہتر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
تجویز ہے کہ OPF اور BISP اپنے اپنے قانونی دائرۂ کار میں رابطہ کاری کے ذریعے ایسے منصوبے تلاش کریں جن سے کم آمدن والے خاندانوں کے اہل افراد کو ہنر، کاروباری تربیت، روزگار یا خود روزگاری کے مواقع مل سکیں۔
یہاں دونوں اداروں کے مقاصد اور ذمہ داریوں میں فرق واضح رہنا چاہیے۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی سرمایہ کاری ایک الگ رضاکارانہ مالیاتی سرگرمی ہوگی، جبکہ BISP کے مستحق خاندانوں کے لیے تربیت، سماجی تحفظ اور غربت سے نکلنے کے مواقع الگ انتظام کے تحت ہوں گے۔
جہاں قانونی طور پر ممکن اور متعلقہ اداروں کی منظوری حاصل ہو، وہاں سرمایہ کاری سے پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع، تربیت یافتہ افراد کی خدمات اور مقامی کاروباری ضرورتوں کو آپس میں مربوط کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح سرمایہ کاری سے روزگار پیدا ہو اور تربیت یافتہ افراد اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ذمہ داریوں کی واضح تقسیم
اس پروگرام کی کامیابی کے لیے اداروں کے کردار میں ابہام نہیں ہونا چاہیے۔
OPF معلومات، رابطہ کاری، ابتدائی رہنمائی، سہولت کاری اور شکایات کو متعلقہ اداروں تک پہنچانے کا کردار ادا کرے۔
وزارتِ اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور متعلقہ وفاقی و صوبائی ادارے پالیسی، سرمایہ کاری کی سہولت، اجازت ناموں اور اپنے قانونی دائرۂ اختیار میں ضابطہ جاتی معاملات دیکھیں۔
اسٹیٹ بینک، مجاز بینک اور متعلقہ مالیاتی نگران ادارے مالیاتی قواعد، رقم کی منتقلی، سرمایہ کاری کے مجاز طریقوں اور سرمایہ کاروں کے تحفظ سے متعلق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔
نجی شعبہ اور کاروباری ادارے قابلِ عمل منصوبے پیش کریں، سرمایہ کاری کا درست استعمال کریں اور معاہدے کے مطابق حسابات و کارکردگی کی معلومات فراہم کریں۔
BISP اپنے منظور شدہ سماجی تحفظ اور ہنرمندی کے پروگراموں کے ذریعے اہل مستحق خاندانوں کی معاشی بااختیاری میں کردار ادا کرے۔
بین الاقوامی شراکت دار اپنی موجودہ ترجیحات اور دستیاب وسائل کے مطابق تکنیکی معاونت، تربیت، ادارہ جاتی صلاحیت اور نتائج کی جانچ میں تعاون کر سکتے ہیں۔
بیرونِ ملک پاکستانی مکمل معلومات حاصل کرنے، خطرات سمجھنے اور اپنی مالی استطاعت کے مطابق رضاکارانہ سرمایہ کاری کا فیصلہ خود کریں۔
پہلا قدم: پورے پاکستان میں محدود پائلٹ پروگرام
اس تجویز کو محض ایک اعلان یا نئی اسکیم کے نام تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ بہتر ہوگا کہ وزارتِ اوورسیز پاکستانیز، OPF، متعلقہ مالیاتی ادارے، صوبائی محکمے، کاروباری تنظیمیں اور ممکنہ بین الاقوامی شراکت دار مل کر ایک محدود پائلٹ پروگرام شروع کریں۔
پہلے مرحلے میں مختلف صوبوں اور خطوں سے ایسے منصوبوں کا انتخاب کیا جائے جن کی کاروباری ضرورت، قانونی حیثیت، انتظامی صلاحیت، مالی ضروریات اور ممکنہ خطرات کی جانچ ہو چکی ہو۔
OPF سرمایہ کاروں کے لیے معلومات اور رابطہ کاری کا نظام فراہم کرے، جبکہ مجاز ادارے مالیاتی و قانونی نگرانی کریں۔ بین الاقوامی شراکت داروں سے تکنیکی مدد اور تربیت کی درخواست کی جا سکتی ہے، لیکن کسی ادارے کی مالی معاونت کو پیشگی یقینی نہ سمجھا جائے۔
پائلٹ کی کامیابی صرف جمع شدہ سرمایہ سے نہ ناپی جائے۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ کتنے کاروبار قائم ہوئے، کتنے روزگار پیدا ہوئے، سرمایہ کاروں کو معاہدے کے مطابق کتنی آمدن ملی، شکایات کتنی آئیں اور کتنے منصوبے ناکام ہوئے۔ نتائج کو باقاعدگی سے عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ کامیابی اور ناکامی دونوں سے سیکھا جا سکے۔
اختتامیہ: ترسیلاتِ زر سے معاشی خود انحصاری تک
بیرونِ ملک پاکستانیوں کی محنت پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہے۔ ان کی ترسیلاتِ زر لاکھوں خاندانوں کی زندگی اور ملکی معیشت کے لیے اہم ہیں۔ لیکن اگر مالی استطاعت رکھنے والے پاکستانیوں کو شفاف معاہدوں، قابلِ اعتماد معلومات اور مؤثر سہولت کاری کے ذریعے پیداواری سرمایہ کاری کے مواقع بھی میسر آئیں تو ان کی بچت سے روزگار، کاروبار اور مستقبل کی آمدن کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
اس کے لیے ضروری نہیں کہ ہر پاکستانی اپنی جمع پونجی کاروبار میں لگا دے۔ ضروری یہ ہے کہ جو شخص سرمایہ کاری کرنا چاہے، اسے منصوبے کو سمجھنے، خطرات جاننے اور درست فیصلہ کرنے میں مدد ملے۔
حکومت پالیسی اور قانونی تحفظ فراہم کرے، مالیاتی ادارے اپنے دائرۂ اختیار میں نگرانی کریں، نجی شعبہ قابلِ عمل منصوبے پیش کرے، بین الاقوامی ادارے اپنی دستیاب مہارت اور وسائل کے مطابق معاونت کریں اور OPF ان سب کے درمیان رابطے اور سہولت کاری کا مؤثر ذریعہ بنے۔ BISP جیسے ادارے اپنی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق اہل مستحق خاندانوں کو ہنرمندی اور روزگار کے مواقع سے جوڑنے میں کردار ادا کریں۔
اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کو اپنے موجودہ قانونی دائرۂ کار کے اندر، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی فلاح کے ساتھ ان کی بااختیار معاشی واپسی اور پیداواری سرمایہ کاری میں سہولت دینے والے قومی رابطہ کار کے طور پر مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے وطن سے محبت کا ایک عملی اظہار ممکن ہے: آج کی محنت سے حاصل ہونے والی بچت کو باخبر فیصلوں کے ذریعے کل کے روزگار، مستقل آمدن اور قومی ترقی کے مواقع میں تبدیل کرنا۔
چراغِ راہ کا پیغام: ترسیلاتِ زر ملک کو سہارا دیتی ہیں؛ لیکن جب اعتماد، شفافیت، ہنرمندی اور مؤثر سہولت کاری کے ذریعے رضاکارانہ پیداواری سرمایہ کاری کے مواقع بڑھتے ہیں تو یہی قومی خوش حالی اور خود انحصاری کی مضبوط بنیاد بن سکتے ہیں۔
