ہومکالم وبلاگزکالمزلانگ مارچ، دھرنے اور ایک تھکے ہوئے پاکستانی کی پکار

لانگ مارچ، دھرنے اور ایک تھکے ہوئے پاکستانی کی پکار

چراغِ راہ

آخر کب تک؟

تحریر: شاہد زمان

میں نے 1978ء سے جب ہوش سنبھالا، پاکستان میں سیاسی ہنگاموں، احتجاجوں، لانگ مارچوں اور اقتدار کی کشمکش کو کسی نہ کسی شکل میں جاری دیکھا ہے۔ کبھی ایک جماعت سڑکوں پر ہوتی ہے، کبھی دوسری احتجاج کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ کبھی لانگ مارچ کی تیاریاں ہوتی ہیں، کبھی دھرنا دیا جاتا ہے اور کبھی شہروں کو بند کرنے کی کال دی جاتی ہے۔ حکومتیں بدلتی ہیں، سیاسی چہرے تبدیل ہوتے ہیں، نعرے نئے آتے ہیں، لیکن عام آدمی کے مسائل ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔

یہ سب دیکھتے ہوئے آج دل سے ایک ہی سوال اٹھتا ہے: آخر کب تک؟

میری بات کو احتجاج کے حق کی مخالفت نہ سمجھا جائے۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ جب عوام کی آواز نہ سنی جائے، حقوق پامال ہوں یا انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوں تو پُرامن احتجاج ایک جائز اور ضروری ذریعہ بن سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر اختلاف کا حل سڑکوں پر نکل آنا، شہروں کو بند کر دینا اور معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر دینا ہی رہ گیا ہے؟ کیا سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات، پارلیمان، عدالتوں اور دوسرے آئینی راستوں کی اہمیت اتنی کم ہو گئی ہے کہ ہر بار احتجاج ہی آخری راستہ دکھائی دیتا ہے؟

ذرا سوچیے، ان سیاسی کشمکشوں کی قیمت کون ادا کرتا ہے؟

وہ مزدور جو روزانہ کی اجرت سے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے، وہ دکاندار جس کی روزانہ کی کمائی سے گھر کا خرچ چلتا ہے، وہ طالب علم جس کا امتحان ہوتا ہے، وہ مریض جسے بروقت اسپتال پہنچنا ضروری ہے اور وہ باپ جو صبح اپنے بچوں کے لیے روزی کمانے نکلتا ہے، لیکن راستوں کی بندش کے باعث خالی ہاتھ گھر واپس لوٹتا ہے۔ سیاسی قیادت کے پاس اپنی بات پہنچانے کے بہت سے ذرائع ہوتے ہیں، مگر عام آدمی کے پاس اکثر اپنی محدود آمدنی اور روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کی جدوجہد کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

کیا عوام کے حقوق کی جنگ عوام ہی کی زندگی مشکل بنا کر لڑی جانی چاہیے؟

2014ء کے بعد دھرنا سیاست پاکستانی سیاسی بحث کا ایک نمایاں حصہ بن گئی۔ مختلف جماعتوں نے اپنے اپنے مؤقف کے حق میں احتجاج اور دھرنوں کا راستہ اختیار کیا۔ کسی نے اسے اپنے مطالبات منوانے کا ذریعہ سمجھا اور کسی نے جمہوری نظام میں رکاوٹ قرار دیا۔ سیاسی مؤقف اپنی جگہ، لیکن عام شہری کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ ان سرگرمیوں سے اس کی زندگی، روزگار اور معاشی حالات پر کیا اثر پڑتا ہے اور قومی مسائل کے حل میں کتنی پیش رفت ہوتی ہے۔

اختلاف ضرور ہونا چاہیے، حکومت پر تنقید بھی ہونی چاہیے اور حکمرانوں کو جواب دہ بھی ہونا چاہیے، لیکن کیا ایسا کوئی طریقہ اختیار نہیں کیا جا سکتا جس میں سیاسی احتجاج کا حق بھی برقرار رہے اور عام شہری کی زندگی، روزگار، تعلیم اور علاج بھی غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہوں؟

ہمارے زخم ابھی بھرے نہیں

پاکستان پہلے ہی کئی آزمائشوں سے گزر چکا ہے۔ دہشت گردی نے اس ملک کو ایسے زخم دیے ہیں جنہیں بھلانا آسان نہیں۔ شہریوں، بچوں، اساتذہ، پولیس اہلکاروں، فوجی جوانوں اور دوسرے سکیورٹی اہلکاروں سمیت بے شمار پاکستانی اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ کتنے گھر اجڑے، کتنی ماؤں کی گودیں خالی ہوئیں، کتنے بچے یتیم ہوئے اور کتنے خاندان اپنے پیاروں کی جدائی کا دکھ آج بھی اٹھا رہے ہیں۔

ہر شہید کے پیچھے ایک خاندان، ایک کہانی اور کئی ادھورے خواب ہوتے ہیں۔ ان قربانیوں کو محض اعداد و شمار میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وہ انسانی نقصان ہے جس کا احساس ہر درد مند پاکستانی کے دل میں ہونا چاہیے۔

ایسے حالات میں ہمیں اپنی قومی ترجیحات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ ملک کو امن، معاشی استحکام، تعلیم، صحت، روزگار اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مسائل حل کرے، اپوزیشن کا فرض ہے کہ وہ حکومت کو جواب دہ بنائے اور عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے مسائل کے لیے آواز اٹھائیں۔ لیکن ان سب کے درمیان ایک مشترکہ ذمہ داری بھی ہے کہ سیاسی اختلاف کو ایسی کشمکش میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے جو قومی زندگی کو مسلسل متاثر کرتی رہے۔

کیا ہم اختلافات کے باوجود کچھ بنیادی اصولوں پر متفق نہیں ہو سکتے؟ کیا ہم یہ طے نہیں کر سکتے کہ سیاسی جدوجہد ضرور ہوگی، لیکن پاکستان کے مفاد، شہریوں کے بنیادی حقوق اور قومی سلامتی کو ہر حال میں پیشِ نظر رکھا جائے گا؟

تبدیلی کا آغاز ہم سے بھی ہوتا ہے

ڈیل کارنیگی کی تعلیمات سے رہنمائی لیتے ہوئے ایک اہم بات سمجھ میں آتی ہے: لوگوں کو بدلنے کی خواہش رکھنے سے پہلے ہمیں اپنے رویّے کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ سیاست دانوں کو اپنا طرزِ عمل بدلنا چاہیے۔ یقیناً ان کی ذمہ داری زیادہ ہے، کیونکہ ان کے فیصلوں کے اثرات لاکھوں لوگوں کی زندگیوں پر پڑتے ہیں۔ لیکن بحیثیت شہری ہمیں بھی خود سے چند سوال کرنے چاہییں۔

کیا ہم اپنے سیاسی مخالف کی بات تحمل سے سن سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے پسندیدہ رہنما کی غلطی کو بھی غلط کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ کیا ہم سوشل میڈیا پر ہر اشتعال انگیز خبر کی تصدیق کیے بغیر اسے آگے بڑھا دیتے ہیں؟ کیا ہم سیاسی وابستگی کی وجہ سے اصولوں کو بھی اپنی پسند اور ناپسند کے مطابق بدل لیتے ہیں؟

جمہوری شعور کا مطلب صرف اپنی پسندیدہ جماعت کی حمایت کرنا نہیں، بلکہ اصولوں، انصاف اور سچائی کا ساتھ دینا بھی ہے۔ اگر ہم اپنی جماعت کی ہر بات درست اور مخالف کی ہر بات غلط سمجھنے لگیں تو تعمیری مکالمے کی گنجائش کہاں باقی رہ جاتی ہے؟

معاشرے میں برداشت اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم اختلاف کو دشمنی نہ سمجھیں۔ کسی شخص کی سیاسی رائے ہم سے مختلف ہو سکتی ہے، لیکن اس اختلاف کی وجہ سے اس کی عزت، اس کے حقوق اور اس کے حب الوطنی کے جذبے پر سوال اٹھانا مناسب نہیں۔ ہمیں اپنے سیاسی رویّوں میں بھی وہی تحمل پیدا کرنا ہوگا جس کی توقع ہم دوسروں سے کرتے ہیں۔

آخر حل کیا ہے؟

مسئلے کا حل نہ احتجاج پر مکمل پابندی ہے اور نہ اختلافِ رائے کو دبانا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ احتجاج کو ذمہ دارانہ بنایا جائے، مذاکرات کو مؤثر کیا جائے اور سیاسی اختلاف کو نتیجہ خیز مکالمے میں تبدیل کیا جائے۔

اس مقصد کے لیے چند سادہ لیکن قابلِ عمل اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

عوام کے لیے: ذمہ دارانہ شہری رویّہ

ہمیں چاہیے کہ سیاسی اختلاف کے باوجود تحمل سے کام لیں، غیر مصدقہ خبریں پھیلانے سے گریز کریں اور احتجاج میں شریک ہوتے ہوئے دوسروں کے حقوق کا احترام کریں۔ احتجاج ہمارا حق ہے، لیکن مریض کو اسپتال پہنچنے سے روکنا، کسی مزدور کی روزی متاثر کرنا یا عام شہری کی زندگی کو غیر ضروری طور پر مشکل بنانا ہمارے مقصد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

حکومت کے لیے: عوام کی بات سننے کا مؤثر نظام

حکومت کو چاہیے کہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے واضح اور قابلِ اعتماد طریقۂ کار قائم کرے۔ احتجاج کی نوبت آنے سے پہلے بھی شکایات سنی جائیں اور جب کوئی تحریک شروع ہو تو مذاکرات کے لیے بااختیار نمائندے مقرر کیے جائیں۔ بات چیت محض رسمی کارروائی نہ ہو، بلکہ مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور فیصلوں پر عمل درآمد کی پیش رفت بھی واضح کی جائے۔ قانون نافذ کرتے وقت شہریوں کے حقوق اور پُرامن اجتماع کے حق کا احترام ضروری ہے۔

اپوزیشن کے لیے: احتجاج کے ساتھ قابلِ عمل حل

اپوزیشن کا کام حکومت پر تنقید کرنا اور اسے جواب دہ بنانا ہے۔ یہ جمہوری نظام کا اہم حصہ ہے۔ تاہم ہر احتجاج کے مطالبات واضح، حقیقت پسندانہ اور قابلِ فہم ہونے چاہییں۔ احتجاج کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رہنا چاہیے اور ایسے طریقے اختیار کیے جانے چاہییں جن سے مریضوں، طلبہ، مزدوروں اور روزانہ اجرت کمانے والوں کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ حکومت سے جواب طلب کرنا ضروری ہے، لیکن اس مقصد کے لیے عام شہری کو مشکلات میں ڈالنا ناگزیر نہیں۔

حکومت اور اپوزیشن باہمی مشاورت سے پُرامن احتجاج کے ایسے اصول بھی طے کر سکتی ہیں جن سے سیاسی اظہار کا حق محفوظ رہے اور شہریوں کی روزمرہ ضروریات بھی متاثر نہ ہوں۔

یہ اقدامات بظاہر سادہ ہیں، لیکن ان پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو سیاسی اختلاف کے باوجود قومی زندگی کو بہتر انداز میں جاری رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

خدارا، بس کریں! آخر کب تک؟

پاکستان کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا ایک رہنما کا نام نہیں۔ یہ ہم سب کا گھر ہے۔ گھر میں اختلاف ہو سکتا ہے، بحث بھی ہو سکتی ہے اور کبھی تلخی بھی پیدا ہو سکتی ہے، لیکن گھر کو چلانے کے لیے بالآخر بات چیت، برداشت اور ذمہ داری ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر ہر اختلاف پر گھر کے دروازے بند کر دیے جائیں، ہر بحث کے نتیجے میں کاروبارِ زندگی روک دیا جائے اور ہر فریق اپنی بات منوانے کے لیے دوسرے کی مشکلات سے بے نیاز ہو جائے تو گھر کیسے چلے گا؟

یہی اصول ملک پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

میری اپیل حکومت سے بھی ہے، اپوزیشن سے بھی، سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں سے بھی اور ہم عام شہریوں سے بھی۔ اختلاف کیجیے، ضرور کیجیے۔ حکومت سے سوال کیجیے، ضرور کیجیے۔ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیے، ضرور اٹھائیے۔ لیکن ایسا طریقہ اختیار کیجیے جس میں ملک کا پہیہ چلتا رہے، بچے تعلیم حاصل کرتے رہیں، مریض اسپتال پہنچ سکیں، مزدور روزی کما سکیں اور شہری اپنی معمول کی زندگی گزار سکیں۔

ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو، احتجاج ہو مگر عام شہری کے حقوق پامال نہ ہوں، حکومت جواب دہ ہو مگر آئینی نظام کو مفلوج کیے بغیر، اور سیاست اقتدار کی کشمکش کے ساتھ ساتھ عوام کی خدمت کا ذریعہ بھی بنے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ تمام مسائل چند مذاکرات سے حل ہو جائیں گے یا اختلافات ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتے ہیں۔ جمہوریت میں اختلافات رہتے ہیں اور رہنے بھی چاہییں۔ لیکن اختلاف کو مستقل محاذ آرائی میں بدل دینا کسی بھی معاشرے کے لیے فائدہ مند نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم اختلاف کے باوجود آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کریں۔

میں 1978ء سے یہ سب دیکھتے ہوئے آج بھی یہی امید رکھتا ہوں کہ ہماری آنے والی نسلوں کو ایک ایسا پاکستان ملے جہاں سیاسی تبدیلی کا مطلب صرف حکومتوں کا بدلنا نہ ہو، بلکہ عوام کی زندگیوں میں بھی بہتری آئے۔ جہاں سیاسی قیادت اپنے اختلافات کے باوجود قومی مفاد پر بات کر سکے اور جہاں عوام کو ہر چند ماہ بعد کسی نئی سیاسی کشمکش کے اثرات سے اپنی زندگی دوبارہ ترتیب نہ دینا پڑے۔

خدارا، بس کریں! آخر کب تک؟

یہ سوال کسی ایک جماعت یا ایک سیاسی رہنما سے نہیں، ہم سب سے ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم احتجاج کے ساتھ مسائل کا حل، تنقید کے ساتھ تعمیری تجویز اور اختلاف کے ساتھ برداشت کو بھی اپنی سیاسی روایت کا حصہ بنائیں۔

پاکستان کو مزید سیاسی شور سے زیادہ سنجیدہ مکالمے، ذمہ دارانہ قیادت، باہمی احترام اور پُرامن مستقبل کی ضرورت ہے۔

آئیے، ہم سب اپنے اپنے حصے کا چراغ روشن کریں، تاکہ اختلاف کی تاریکی میں بھی قومی مفاد اور انسانی احترام کا راستہ دکھائی دیتا رہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔