ہومکالم وبلاگزبدانتظامی، آئینی تجربات اور ذاتی انا — آخر کب تک؟

بدانتظامی، آئینی تجربات اور ذاتی انا — آخر کب تک؟

چراغِ راہ

تحریر: شاہد زمان

نئے صوبوں سے پہلے مضبوط مقامی حکومتیں، اور ترقی کا رخ اوپر سے نیچے نہیں، نیچے سے اوپر

میں نے 1978ء سے جب ہوش سنبھالا، پاکستان میں سیاسی کشمکش، حکومتوں کی تبدیلی، لانگ مارچ، دھرنے اور اقتدار کی رسہ کشی کو کسی نہ کسی شکل میں جاری دیکھا ہے۔ چہرے بدلتے رہے، حکومتیں آتی اور جاتی رہیں، سیاسی جماعتوں کے نعرے تبدیل ہوتے رہے، مگر عام آدمی کے بنیادی مسائل آج بھی ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔

کبھی ہم سیاسی اختلافات میں الجھ جاتے ہیں، کبھی آئینی و انتظامی تجربات کی نئی بحث شروع ہو جاتی ہے اور کبھی ذاتی خواہشات، اقتدار کی کشمکش اور انا اجتماعی مفاد پر غالب آ جاتی ہے۔

اس تمام صورتِ حال میں ایک سوال بار بار ذہن میں اٹھتا ہے:

آخر کب تک؟

کیا ہم کبھی یہ سوچنے کے لیے بھی رکیں گے کہ پاکستان کے مسائل محض حکومتوں کی تبدیلی سے کیوں حل نہیں ہوتے؟ کیوں ہر نئی حکومت اصلاحات کے دعوے کرتی ہے، مگر عام شہری کو اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے دفاتر کے چکر لگانا پڑتے ہیں؟ کیوں گلی، محلے، پانی، نکاسیٔ آب، صفائی، مقامی سڑک، بنیادی تعلیم اور صحت جیسے روزمرہ معاملات بھی اکثر سیاسی ترجیحات اور انتظامی پیچیدگیوں میں الجھے رہتے ہیں؟

کیا مسئلہ صرف وسائل کی کمی ہے، یا وسائل کے استعمال، اختیارات کی تقسیم، انتظامی ڈھانچے اور حکمرانی کے طریقۂ کار میں بھی کوئی بنیادی خرابی موجود ہے؟

میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان سوالات کا سامنا جذبات کے بجائے سنجیدگی، تاریخی شعور اور عملی سوچ کے ساتھ کریں۔

مسئلہ صرف حکمرانوں کا نہیں، حکمرانی کے نظام کا بھی ہے

ہم عموماً کسی مسئلے کی ذمہ داری کسی ایک حکومت، جماعت یا رہنما پر ڈال کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر کئی دہائیوں تک مختلف حکومتیں آنے کے باوجود بنیادی مسائل اپنی جگہ موجود رہیں تو ہمیں فرد کے ساتھ نظام کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔

حکومتیں بدلنا جمہوریت کا حصہ ہے، مگر اداروں کا ہر مرتبہ نئے سرے سے تشکیل پانا، پالیسیوں کا بار بار تبدیل ہونا اور اختیارات کی تقسیم میں عدم تسلسل انتظامی کمزوریوں کو بڑھا سکتا ہے۔

جب ہر نئی قیادت سابقہ اقدامات کو ازسرِنو ترتیب دینے میں زیادہ توانائی صرف کرے، جب فیصلے ادارہ جاتی ضرورت کے بجائے شخصی پسند و ناپسند سے متاثر ہوں اور جب اختیار رکھنے والے ادارے ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہیں تو نقصان بالآخر عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔

اس صورتِ حال میں بدانتظامی محض دفتری نااہلی کا نام نہیں رہتی، بلکہ عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھانے کا سبب بن جاتی ہے۔

ایک شہری کو اپنے محلے کی ٹوٹی ہوئی سڑک، گندے پانی کی نکاسی یا کچرا اٹھانے کے مسئلے کے لیے معلوم ہی نہ ہو کہ اسے کس ادارے سے رجوع کرنا ہے، تو یہ صرف شہری کی لاعلمی نہیں؛ یہ حکمرانی کے نظام میں بہتری کی ضرورت کا اشارہ بھی ہے۔

سوچیے، جو مسائل مقامی سطح پر حل ہو سکتے ہیں، ان کے لیے شہری کو صوبائی دارالحکومت یا وفاقی حکومت کی طرف کیوں دیکھنا پڑے؟

کیا حکومت کا کام ہر گلی، ہر محلے اور ہر بستی کے چھوٹے بڑے معاملات خود چلانا ہے، یا ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں مقامی مسائل کے حل کی ذمہ داری، اختیار اور وسائل اسی سطح پر موجود ہوں جہاں ان مسائل کو روزانہ دیکھا اور محسوس کیا جاتا ہے؟

اصل حکمرانی یہ نہیں کہ ہر فیصلہ اوپر بیٹھا ہوا کوئی شخص کرے؛ اصل حکمرانی یہ ہے کہ ہر مسئلے کے حل کے لیے ذمہ دار ادارہ موجود ہو اور عوام اس سے جواب طلب کر سکیں۔

ابن خلدون کی نظر سے معاشرے کی مضبوطی

صدیوں پہلے ابن خلدون نے معاشروں، ریاستوں، اجتماعی یکجہتی اور حکمرانی کے عروج و زوال کا مطالعہ کیا۔ ان کے فکری کام سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ کسی ریاست کی مضبوطی صرف اس کی ظاہری طاقت یا حکمرانوں کے اختیار سے نہیں، بلکہ اجتماعی وابستگی، نظم، انصاف اور معاشرے کے اندر موجود قوت سے بھی جڑی ہوتی ہے۔

اگر عوام کو مسلسل یہ محسوس ہو کہ فیصلے ان سے دور ہوتے ہیں، ان کی ضروریات کو مناسب اہمیت نہیں دی جاتی اور اختیار رکھنے والے طبقے ان کے مسائل سے لاتعلق ہیں تو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کمزور ہو سکتا ہے۔

اس کے برعکس جب لوگوں کو اپنے معاملات میں شرکت، اپنی آواز کے سنے جانے اور اپنے وسائل کے مناسب استعمال کا یقین ہو تو وہ خود کو ریاست سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ وابستہ محسوس کرتے ہیں۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہم پاکستان میں ایسی حکمرانی قائم کر رہے ہیں جس میں شہری خود کو ریاست کے نظام کا شریک سمجھتا ہو، یا ایسا ماحول پیدا ہو رہا ہے جس میں وہ ہر مسئلے کے حل کے لیے کسی بااختیار شخصیت، سیاسی سفارش یا دور بیٹھے دفتر کا محتاج ہو جاتا ہے؟

ریاست کی مضبوطی صرف یہ نہیں کہ اس کے پاس وسائل اور اختیارات کتنے ہیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ ان وسائل سے عام آدمی کی زندگی میں کتنی بہتری آتی ہے اور اسے فیصلہ سازی میں کتنا حصہ ملتا ہے۔

قومی یکجہتی محض نعروں سے پیدا نہیں ہوتی۔ اسے انصاف، اعتماد، مساوی شہری حقوق اور عملی شرکت سے مضبوط کیا جاتا ہے۔

یورپ، امریکہ اور جاپان سے ہمیں کیا سیکھنا چاہیے؟

یورپ کے مختلف ممالک، امریکہ اور جاپان کے حکومتی ڈھانچے ایک جیسے نہیں ہیں، لیکن ان کے نظاموں میں مقامی سطح پر عوامی خدمات، بلدیاتی انتظام اور شہری شرکت کی اہمیت نمایاں ہے۔

ان معاشروں سے سبق لینے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان کا نظام جوں کا توں پاکستان میں نافذ کر دیں۔ ہر ملک کی تاریخ، آبادی، معیشت، جغرافیہ اور انتظامی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان کے تجربات سے اپنے حالات کے مطابق کیا سیکھ سکتے ہیں۔

کیا ہمیں بھی ایسا نظام نہیں بنانا چاہیے جس میں شہری کو اپنے علاقے کی صفائی، پانی، نکاسیٔ آب، مقامی سڑکوں، پارکوں اور متعلقہ بنیادی سہولتوں کے لیے کسی دور افتادہ مرکز کی طرف نہ دیکھنا پڑے؟

کیا ایک عام شہری کو یہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنے منتخب مقامی نمائندے سے براہِ راست سوال کرے کہ اس کے علاقے کے لیے مختص رقم کہاں خرچ ہوئی، کون سا منصوبہ مکمل ہوا اور کون سا کام تاخیر کا شکار ہے؟

ترقی یافتہ معاشروں کے تجربات سے ایک اہم سبق مقامی جواب دہی اور ذمہ داری کی واضح تقسیم ہے۔ اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (OECD) بھی مؤثر اختیارات کی منتقلی کو بہتر عوامی خدمات، مقامی ضروریات کے مطابق فیصلوں اور شہری جواب دہی سے جوڑتی ہے۔ تاہم اس کے فوائد اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب اختیارات کے ساتھ مناسب مالی وسائل، انتظامی صلاحیت اور مؤثر نگرانی بھی موجود ہو۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مقامی حکومت کوئی معمولی انتظامی سہولت نہیں، بلکہ جمہوریت کی وہ سطح ہے جہاں شہری روزمرہ زندگی میں اپنے حقوق اور حکمرانی کے نتائج کو براہِ راست محسوس کر سکتا ہے۔

نئے صوبے یا مضبوط مقامی حکومتیں؟

پاکستان میں نئے صوبوں کا سوال وقتاً فوقتاً اٹھتا رہا ہے۔ اس بحث کے پیچھے انتظامی سہولت، علاقائی شناخت، وسائل کی تقسیم اور محرومیوں جیسے مختلف عوامل موجود ہو سکتے ہیں۔ اسے مکمل طور پر نظرانداز کرنا بھی مناسب نہیں، لیکن موجودہ معروضی حالات میں ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ کیا فوری ترجیح نئے صوبوں کا قیام ہونا چاہیے یا موجودہ انتظامی نظام کو شہریوں کے لیے زیادہ مؤثر بنانا؟

میری رائے میں فی الحال نئے صوبوں کی پیچیدہ آئینی، سیاسی، انتظامی اور مالی بحث کو مرکزی ترجیح بنانے کے بجائے ایک مؤثر، مستحکم اور قابلِ جواب دہ مقامی حکومت کا نظام قائم کرنا زیادہ عملی نقطۂ آغاز ہو سکتا ہے۔

اس کی وجہ سادہ ہے۔

اگر کسی بڑے صوبے کے اندر اختیارات، وسائل اور فیصلے چند مراکز میں مرتکز رہیں تو انتظامی نقشے پر نئی سرحدیں کھینچنے کے باوجود عام شہری کو ضروری نہیں کہ فوری ریلیف مل جائے۔ ایک نیا صوبہ بن بھی جائے، لیکن اس کے اندر مقامی حکومتیں کمزور ہوں تو اختیار کا ارتکاز ایک نئے مرکز میں منتقل ہونے کا خدشہ برقرار رہتا ہے۔

اس کے برعکس اگر موجودہ صوبوں کے اندر مقامی حکومتیں واقعی بااختیار ہوں، ان کے پاس اپنے فرائض کے مطابق مالی وسائل ہوں اور شہری ان سے براہِ راست جواب طلب کر سکیں تو بہت سے مسائل انتظامی طور پر چھوٹی سطح پر حل کیے جا سکتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ نئے صوبوں کی بحث ہمیشہ کے لیے بند کر دی جائے۔ مطلب صرف یہ ہے کہ موجودہ حالات میں پہلے اس اصلاح پر توجہ دی جائے جس کے فوائد عام شہری کی زندگی میں نسبتاً براہِ راست محسوس ہو سکتے ہیں۔

صوبوں کی تعداد بڑھانے سے پہلے ہمیں صوبوں کے اندر عوام کی حکمرانی کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے۔

پاکستان کو یکساں مقامی حکومت کا نظام کیوں چاہیے؟

پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو مقامی حکومت کا نظام قائم کرنے اور منتخب مقامی نمائندوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری و اختیار منتقل کرنے کا پابند کرتا ہے۔ اس کے تحت بلدیاتی انتخابات الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذریعے منعقد کیے جاتے ہیں۔

یعنی مقامی حکومت کا تصور آئینی نظام سے باہر کوئی نئی تجویز نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اسے کس حد تک مؤثر، مستقل اور بااختیار بنایا جاتا ہے۔

میری تجویز ہے کہ پاکستان میں مقامی حکومتوں کے لیے ایک مشترکہ قومی معیار اور بنیادی طور پر یکساں نظام وضع کیا جائے، جس پر وفاق اور تمام صوبے اتفاق کریں۔ صوبوں کی آئینی خودمختاری اور مقامی ضروریات کا احترام کرتے ہوئے بنیادی اصول یکساں رکھے جا سکتے ہیں۔

اس نظام میں چند باتیں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں:

اول، مقامی حکومتیں محض رسمی ادارے نہ ہوں، بلکہ ان کے فرائض، اختیارات اور ذمہ داریوں کی واضح قانونی حدود ہوں۔

دوم، بلدیاتی انتخابات مقررہ مدت پر ہوں اور مقامی حکومتوں کا تسلسل محض اس وجہ سے متاثر نہ ہو کہ صوبے میں حکومت بدل گئی ہے۔

سوم، منتخب نمائندوں کو تفویض کردہ ذمہ داریوں کے مطابق مالی وسائل اور انتظامی اختیار بھی ملیں۔ صرف ذمہ داری دے کر وسائل اور فیصلے کے اختیارات صوبائی محکموں کے پاس رکھنا حقیقی اختیارات کی منتقلی نہیں۔

چہارم، مقامی بجٹ، ترقیاتی منصوبوں، اخراجات اور کارکردگی کو عوام کے سامنے شفاف انداز میں پیش کیا جائے۔

پنجم، اختیارات اور وسائل کی منتقلی کے ساتھ آڈٹ، نگرانی اور شکایات کے ازالے کا نظام بھی مؤثر ہو، تاکہ مقامی سطح پر بدعنوانی یا بااثر افراد کے قبضے کا خطرہ کم کیا جا سکے۔

یہ نظام دیہی اور شہری علاقوں، چھوٹے قصبوں اور بڑے شہروں کی ضروریات کے مطابق مختلف انتظامی صورتیں اختیار کر سکتا ہے، لیکن شہری حقوق، شفافیت، مالی وسائل اور جواب دہی کے بنیادی اصول سب کے لیے یکساں ہونے چاہییں۔

ٹرکل ڈاؤن نہیں، ٹرکل اَپ!

اب آتے ہیں اس تصور کی طرف جس پر پاکستان کی آئندہ معاشی اور انتظامی حکمتِ عملی میں خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔

ہم اکثر معاشی ترقی کی بات کرتے ہوئے یہ توقع رکھتے ہیں کہ جب اوپر کی سطح پر سرمایہ کاری، کاروبار اور معاشی سرگرمی بڑھے گی تو اس کے فوائد رفتہ رفتہ نیچے، یعنی عام لوگوں تک پہنچ جائیں گے۔ اس سوچ کو عموماً ٹرکل ڈاؤن (Trickle-down) کے تصور سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

لیکن کیا ہم نے کبھی اس کے برعکس راستے پر سنجیدگی سے غور کیا ہے؟

کیا ہم ایسی ترقی کا تصور نہیں اپنا سکتے جس میں وسائل، خدمات، مواقع اور معاشی سرگرمی کو نچلی سطح پر پہنچا کر وہاں سے قومی خوشحالی کو اوپر کی طرف بڑھایا جائے؟

اس تصور کو ہم ٹرکل اَپ (Trickle-up) کہہ سکتے ہیں۔

اس سے میری مراد یہ ہے کہ ترقی کا آغاز عام شہری، مقامی آبادی اور چھوٹے کاروبار کی ضروریات سے ہو۔ محلے میں بنیادی سہولتیں بہتر ہوں، قصبے میں کاروباری سرگرمیاں بڑھیں، دیہی علاقوں میں پیداوار کو منڈی تک رسائی ملے، نوجوانوں کو مقامی سطح پر روزگار کے مواقع میسر آئیں اور چھوٹے شہروں کو بھی ترقیاتی وسائل میں منصفانہ حصہ ملے۔

جب مقامی معیشت مضبوط ہوگی تو خریداری کی قوت بڑھے گی، کاروبار کو وسعت ملے گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوگا۔ ان سرگرمیوں سے مقامی اور پھر قومی معیشت کو تقویت مل سکتی ہے۔

یہاں مقصد صرف پیسہ تقسیم کرنا نہیں، بلکہ وسائل کو وہاں پہنچانا ہے جہاں وہ لوگوں کی صلاحیت، پیداوار اور معاشی شرکت کو بہتر بنا سکیں۔

مثلاً اگر کسی دیہی علاقے میں زرعی پیداوار کو منڈی تک پہنچانے کے لیے سڑک بہتر ہو جائے، آب پاشی اور نکاسی کے مسائل حل ہوں اور مقامی کاروبار کو ضروری سہولتیں میسر آ جائیں تو اس کا فائدہ صرف چند افراد تک محدود نہیں رہتا۔ پیداوار بڑھنے، نقل و حمل آسان ہونے، کاروباری اخراجات کم ہونے اور روزگار پیدا ہونے سے وسیع تر آبادی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

اسی طرح کسی چھوٹے شہر میں مقامی ضروریات کے مطابق فنی تربیت، صاف پانی، بنیادی صحت اور کاروباری سہولتوں پر خرچ کیا گیا سرمایہ لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کے ساتھ مقامی معیشت کو بھی فعال کر سکتا ہے۔

ترقی کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ قومی سطح پر کتنی رقم خرچ ہوئی، بلکہ یہ بھی کہ اس رقم سے عام شہری کی زندگی میں کتنی بہتری آئی۔

البتہ یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ محض وسائل نچلی سطح پر منتقل کر دینے سے ہر مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔ مقامی معیشت، انتظامی صلاحیت، شفافیت، تربیت اور مؤثر نگرانی کے بغیر یہ وسائل بھی ضائع ہو سکتے ہیں۔ ٹرکل اَپ کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب مالی وسائل کے ساتھ فیصلہ سازی اور جواب دہی بھی مقامی سطح تک پہنچے۔

مالی وسائل کا رخ کیسے بدلا جائے؟

اگر مقامی حکومتوں کو حقیقی طور پر بااختیار بنانا ہے تو ان کے لیے مالیاتی نظام کو بھی اسی اصول پر ترتیب دینا ہوگا۔

اب تصور کیجیے کہ کسی ضلع، تحصیل یا بلدیاتی علاقے کو سالانہ کتنے مالی وسائل درکار ہیں۔ یہ ضرورت وہاں کی آبادی، غربت، محرومی، رقبے، بنیادی سہولتوں کی کمی اور ترقیاتی ضروریات کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

ایسی صورت میں وسائل کی تقسیم کا کوئی شفاف اور قابلِ فہم فارمولا ہونا چاہیے، تاکہ ہر علاقے کو اس کی حقیقی ضروریات کے مطابق حصہ مل سکے۔ مقامی حکومتوں کے فرائض اور وسائل میں واضح مطابقت ہونی چاہیے اور ان کے لیے مختص رقوم کی بروقت منتقلی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

اس کے ساتھ مقامی حکومتوں کو قانون کے مطابق اپنے جائز محصولات جمع کرنے، بجٹ بنانے اور مختص رقم کے استعمال کی ذمہ داری بھی دی جا سکتی ہے۔ لیکن محصولات اور اخراجات کا نظام ایسا ہونا چاہیے جو عام شہری پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ ڈالے۔

وسائل کی تقسیم کے لیے یہ اصول بھی اہم ہے کہ پسماندہ علاقوں اور بنیادی سہولتوں سے محروم آبادی کو محض اس لیے نظرانداز نہ کیا جائے کہ وہاں فوری معاشی منافع پیدا کرنے کی صلاحیت نسبتاً کم ہے۔

اگر تمام وسائل پہلے سے ترقی یافتہ شہروں اور بااثر علاقوں میں جمع ہوتے رہیں تو علاقائی عدم توازن مزید بڑھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ترقیاتی سرمایہ کاری محروم علاقوں کی بنیادی صلاحیتوں کو بہتر بنائے تو ان کی معاشی شرکت اور قومی پیداوار میں حصہ بڑھنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

یہی ٹرکل اَپ سوچ کا عملی پہلو ہے: مالی وسائل کا بہاؤ مقامی ضروریات اور شہری صلاحیتوں سے شروع ہو، مقامی معیشت کو مضبوط بنائے اور اس مضبوطی کے اثرات صوبائی و قومی معیشت تک پہنچیں۔

ایک سادہ شہری، مگر پورا نظام

ذرا ایک عام شہری کی مثال لیجیے۔

اس کے محلے میں بارش کا پانی جمع ہو جاتا ہے، گلی ٹوٹی ہوئی ہے، کوڑا بروقت نہیں اٹھایا جاتا اور پینے کے پانی کی فراہمی میں مسائل ہیں۔ وہ اپنے منتخب مقامی نمائندے کے پاس جاتا ہے۔ نمائندہ مسئلہ متعلقہ بلدیاتی ادارے کے سامنے رکھتا ہے۔ ادارہ اپنے بجٹ، عملے اور قانونی اختیارات کے مطابق کارروائی کرتا ہے۔ شہری کو معلوم ہوتا ہے کہ شکایت کہاں درج ہوئی، فیصلہ کس نے کرنا ہے اور کام مکمل ہونے کی مدت کیا ہے۔

اگر کام نہ ہو تو شہری متعلقہ نمائندے اور ادارے سے جواب طلب کر سکتا ہے۔ اگلے انتخابات میں کارکردگی کو سامنے رکھ کر اپنی رائے دے سکتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں رہتی، بلکہ روزمرہ زندگی میں شہری شرکت اور جواب دہی کا نظام بن جاتی ہے۔

اب اس کے برعکس صورتِ حال دیکھیے۔ شہری ایک دفتر سے دوسرے دفتر جاتا ہے، ہر ادارہ ذمہ داری کسی اور پر ڈال دیتا ہے، وسائل کا کوئی واضح حساب سامنے نہیں آتا اور آخرکار شہری مایوس ہو کر واپس لوٹ جاتا ہے۔

ان دونوں صورتوں میں فرق صرف انتظامی ڈھانچے کا نہیں، بلکہ ریاست اور شہری کے تعلق کا ہے۔

مضبوط مقامی حکومت کا مقصد ہر مسئلہ مقامی سطح پر حل کرنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر مسئلہ اسی سطح پر حل ہو جہاں اسے حل کرنا سب سے زیادہ مؤثر، منصفانہ اور عملی ہو۔ بڑے منصوبوں، بین الاضلاعی معاملات اور قومی نوعیت کے امور کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہیں۔

یوں اختیار کی منتقلی کا مطلب مرکزی حکومتوں کو غیر ضروری طور پر کمزور کرنا نہیں، بلکہ ہر سطح کو اس کے اصل کام کے لیے مؤثر بنانا ہے۔

پھر عملی آغاز کہاں سے ہو؟

میرے خیال میں پاکستان کو ایک نئی وسیع سیاسی بحث کے بجائے ایک قابلِ عمل قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔

وفاق، چاروں صوبے، پارلیمان اور متعلقہ ادارے مل کر مقامی حکومتوں کے بنیادی اصولوں پر اتفاق کریں۔ پہلے مرحلے میں موجودہ قوانین اور نظام کا جائزہ لے کر یہ طے کیا جائے کہ کون سے اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل ہونے چاہییں، ان کے لیے مالی وسائل کہاں سے آئیں گے اور شہریوں کے سامنے جواب دہی کیسے یقینی بنائی جائے گی۔

اس کے بعد منتخب مقامی حکومتوں کو مقررہ مدت کے لیے کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ ذمہ داریوں کی واضح تقسیم، بروقت فنڈز، کھلے بجٹ، باقاعدہ آڈٹ اور شہری شکایات کے مؤثر نظام کو لازمی بنایا جائے۔

ابتدا میں چند منتخب شہری اور دیہی علاقوں میں اس طریقۂ کار کی کارکردگی جانچی جا سکتی ہے، اور حاصل شدہ نتائج کی بنیاد پر بہتری کے ساتھ اسے پورے ملک میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

یہ کام کسی ایک سیاسی جماعت کا منصوبہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر مقامی حکومتوں کے اختیارات اور مالی وسائل کسی ایک جماعت کے دور میں بڑھیں اور دوسری جماعت کے دور میں واپس لے لیے جائیں تو اعتماد کیسے پیدا ہوگا؟

مقامی حکومتوں کا نظام کسی عارضی سیاسی حکمتِ عملی کے بجائے مستقل ادارہ جاتی اصلاح کے طور پر قائم ہونا چاہیے۔

یہاں حکومتوں کو ایک اور سوال کا جواب بھی دینا ہوگا: کیا ہم عوام کو صرف انتخابات کے دن یاد کرتے ہیں، یا ان کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی انہیں شریکِ فیصلہ بنانا چاہتے ہیں؟

آخر کب تک؟

پاکستان کو وسائل کی ضرورت ہے، لیکن وسائل کے ساتھ درست ترجیحات کی بھی ضرورت ہے۔ اسے مضبوط اداروں کی ضرورت ہے، لیکن اداروں کو کام کرنے دینے کے لیے سیاسی تحمل بھی چاہیے۔ اسے آئینی و انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے، لیکن ایسی اصلاحات کی جو ہر چند سال بعد نئے تجربے کا عنوان بننے کے بجائے عوام کی زندگی میں مستقل بہتری لائیں۔

ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ذاتی انا، اقتدار کی خواہش اور سیاسی برتری کی مسلسل کشمکش کسی ملک کے تمام مسائل کو حل نہیں کر سکتی۔ کسی رہنما کی اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ اس نے کتنا عرصہ اقتدار میں گزارا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے دور میں عام شہری کو کیا سہولت ملی، کون سا ادارہ مضبوط ہوا اور مستقبل کے لیے کتنی پائیدار بنیاد رکھی گئی۔

ڈیل کارنیگی کی تعلیمات سے یہ سبق بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مؤثر تبدیلی کے لیے لوگوں کو موردِ الزام ٹھہرانے سے زیادہ ضروری ہے کہ انہیں کسی مشترکہ مقصد پر جمع کیا جائے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن یہ تسلیم کر لیں کہ بااختیار مقامی حکومتیں کسی ایک جماعت کی نہیں، پورے ملک کی ضرورت ہیں تو اس اصلاح پر اختلاف کے باوجود اتفاق کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔

اور ابن خلدون کے تاریخی و سماجی شعور سے یہ یاد دہانی ملتی ہے کہ ریاست اور معاشرے کی قوت اجتماعی وابستگی، انصاف اور نظم سے پیدا ہوتی ہے۔ جب شہریوں کو اعتماد، شرکت اور جائز حقوق میسر ہوں تو وہ اپنے معاشرے کی تعمیر میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

میری اپیل حکومت سے بھی ہے، اپوزیشن سے بھی، پالیسی سازوں سے بھی اور عام شہریوں سے بھی۔ آئینی تجربات کیجیے، مگر ان کا معیار سیاسی فائدہ نہیں، عوامی بہتری ہونا چاہیے۔ اصلاحات کیجیے، مگر اس انداز میں کہ ادارے کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہوں۔ ترقیاتی منصوبے بنائیے، مگر اس بات کو یقینی بنائیے کہ ان کے ثمرات معاشرے کے نچلے طبقات اور محروم علاقوں تک بھی پہنچیں۔

نئے صوبوں کی بحث اپنی جگہ، لیکن فی الحال ہمیں موجودہ صوبوں کے اندر شہریوں کو بااختیار بنانے کے لیے ایک مستقل، مؤثر اور یکساں بنیادی مقامی حکومت کا نظام قائم کرنے کی طرف پیش رفت کرنی چاہیے۔

ایسا نظام جس میں مقامی نمائندے ذمہ دار ہوں، مالی وسائل واضح ہوں، اختیارات حقیقی ہوں، ادارے مستقل ہوں اور عام شہری کو اپنے جائز حقوق کے لیے بار بار سیاسی سفارش یا طویل سرکاری کارروائیوں کا محتاج نہ ہونا پڑے۔

ترقی اوپر سے نیچے آنے والے وعدے کا نام نہیں؛ ترقی وہ عمل ہے جس میں عام آدمی کی زندگی بہتر ہو اور اس بہتری سے پورا ملک مضبوط ہو۔

خدارا، اب شخصیات سے آگے بڑھ کر نظام کی بات کریں۔ انا سے آگے بڑھ کر اجتماعی مفاد کا سوچیں۔ اختیارات کو اپنے پاس رکھنے کے بجائے ذمہ داری کے ساتھ تقسیم کریں اور وسائل کو چند مراکز تک محدود رکھنے کے بجائے ان لوگوں تک پہنچائیں جن کی محنت سے ملک کی معیشت چلتی ہے۔

آخر کب تک ہم مسائل کی نشان دہی کرتے رہیں گے، مگر ان کے مستقل حل کے لیے بنیادی اصلاحات سے گریز کرتے رہیں گے؟

پاکستان کو ایک اور نعرے سے زیادہ ایسے نظام کی ضرورت ہے جو عام شہری کے دروازے پر انصاف، بنیادی سہولت اور جواب دہی لے آئے۔

آئیے، ایک ایسے پاکستان کی تعمیر کا آغاز کریں جہاں جمہوریت کا مطلب صرف ووٹ نہیں، شہری اختیار بھی ہو؛ ترقی کا مطلب صرف بڑے منصوبے نہیں، عام آدمی کی بہتر زندگی بھی ہو؛ اور حکمرانی کا مطلب صرف اقتدار نہیں، خدمت اور جواب دہی بھی ہو۔

وسائل نیچے تک پہنچیں، عوام بااختیار ہوں، مقامی معیشت مضبوط ہو اور خوشحالی نیچے سے اوپر پورے پاکستان میں پھیلے۔

شاید اسی راستے سے ہم ایک ایسا نظام تشکیل دے سکیں جس میں بار بار کے سیاسی تجربات کی جگہ مستقل ادارے لیں، محاذ آرائی کی جگہ تعاون پیدا ہو اور شہری کا ریاست پر اعتماد بحال ہو۔

خدارا، بس اب عوام کو حکمرانی کے مرکز میں لائیے۔

آخر کب تک؟

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔