ہومکالم وبلاگزعدالت بمقابلہ عدالت

عدالت بمقابلہ عدالت

تحریر: صفیان چیمہ ایڈووکیٹ

منیر نیازی مرحوم نے کون سی گھڑی یہ سچائی اپنے ایک شعر میں بیان کردی تھی جسے ہماری سیاسی زندگی کا حاصلِ کلام کہاجائے تو شاید غلط نہ ہوکہ 

اِک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو 
میں ایک دریا کے پاراُترا تو میں نے دیکھا 

وفاقی کابینہ کی منظوری پر صدر مملکت آصف علی زرداری کے دستخطوں سے خیبرپختون خوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگا کر پی ٹی آئی سے جان چھڑا نے کی کوشش کی گئی ہے۔آئین کے آرٹیکل 232 ایک اور 234 ایک کے تحت کئے گئے اس اقدام کا جواز یہ بتایاگیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت ، صوبہ خیبرپختون خوا میں دہشت گردوںکی سہولت کاربن چکی ہے۔  

ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل نے اپنی رپورٹ میں دہشت گردی کے تین مراحل کا تجزیہ کیا ہے۔ پہلا مرحلہ 2003 تا 2014 ہے جس کی شدت بتدریج بڑھی۔ دوسرا مرحلہ  2015 تا 2019 کا تھا جس کے دوران فوجی آپریشنز کے نتیجے میں نمایاں کمی آئی ۔ تیسرا مرحلہ 2020 سے اب تک جاری ہے جس میں دہشت گردی دوبارہ عروج پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد یہ مرحلہ نمایاں طور پر شدت اختیار کر گیااور نومبر 2022 میں ٹی ٹی پی نے باضابطہ طور پر جنگ بندی ختم کر کے پاکستان کے خلاف وسیع پیمانے پر حملے شروع کردئیے۔ بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، شمالی و جنوبی وزیرستان، خیبر اور باجوڑ میں پولیس اسٹیشنز، چیک پوسٹس، سیکیورٹی قافلے اور اہلکارخاص طور پر بنیادی ہدف بنے۔

ٍ
ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے مطابق2020 میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں 216 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ 2021میں 301 ، 2022 میں 527، 2023 میں 941 ، 2024 میں ایک ہزار تین سو تریسٹھ ، 2025 میں دوہزار تین سو اُنسٹھ ہلاکتیں ہوئیں جو دہشت گردی میں تیزی سے ہونے والے اضافے کو دکھا رہی ہیں۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ سال 2026کے 26 ستمبر تک ، دہشت گردکارروائیوں میں ایک ہزار 654 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جن میں 247 عام شہری، 316 سیکیورٹی فورسز کے بہادر اہلکارشہید ہوئے جبکہ ایک ہزار 91 دہشت گرد واصل جہنم ہوئے۔

یہ وہ سنگین صورت حال ہے جس کے بارے میں خیبرپختون خوا کے عوام ، سیاستدان اور تاجر خود گواہ ہیں ۔  بھتوں اور دیگر صورتوں میں دِن رات غیرمحفوظ اور اذیت پر بھگت رہے ہیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کم وبیش 13 سال سے خیبرپختون خوا میں حکمران ہے۔ اُن کی تمام تر توجہ اپنے بانی کی رہائی اور اپنے مخالفین کا اقتدار گرانے پر مرکوز رہی۔ فریقین کے دلائل سے قطع نظر سادہ حقیقت تو دہشت گردی اور گورننس کی ناکامی ہے جس کی طرف فوج کے اعلی ترین فیصلہ ساز فورم یعنی کورکمانڈرز اجلاسوں کے بعد جاری ہونے والے پریس بیانات تواتر سے اورگزشتہ کئی سال سے توجہ دلا رہے ہیں۔ آئین کے تحت امن وامان کے لئے صوبائی حکومت ذمہ دار ہے۔ انصاف، تعلیم، صحت، صفائی ، نکاسی آب، فراہمی آب  اورعوام کی خدمت و سہولت کا سرکاری انتظام__  یہ باتیں تو  اب قصہ پارینہ ہوئیں جو کسی بھی جمہوریت یا ریاست کا بنیادی فرض ہوتا ہے اور آئین کے آرٹیکل دہائیوں سے کسی یتیم بچے کی طرح حسرت بھری نگاہوں سے متلاشی ہیں کہ پارلیمان اور عدالت اُن کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھیں لیکن بیانات، دعووں ،  ’میں ٹھیک اور تم غلط‘ کی چاندماری میں اصل حقیقت اور تلخ سچ اپنی جگہ جوں کا توں موجود ہے۔ 

اٹھارھویں ترمیم سے وفاق اور اکائیوں میں مسائل بڑھ گئے۔ چبھیس اور ستائیسویں ترمیم کے ذریعے مژدہ جاں فزاں سنایا گیا تھا کہ اب عدالتوں کی مداخلت ختم کرکے نظام اُس شاداں وفرحاں راستے پر چل نکلے گا جس کے سرے پر خوش حال نگر آباد ہے جس کی تمنا میں یہ حِرماں نصیب قوم ،  گزرے 80 برس سے سرگرداں و پریشاں ہے۔   

15 ستمبر2026 کو وفاقی آئینی عدالت نے آئین کے آرٹیکل 175 ای کے تحت سپریم کورٹ سے عمران خان کی نجی ہسپتال میں علاج کرانے سے متعلق زیرسماعت مقدمے کا ریکارڈ منگوایا۔ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین میں شامل ہونے والا آرٹیکل 175ای، وفاقی آئینی عدالت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی مقدمے کا ریکارڈ طلب کر سکے، اور اسے آئینی وقانونی اہم سوالات پر مبنی معاملات کا فیصلہ کرنے کا مجاز بناتا ہے۔وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بینچ نے یہ ریکارڈ طلب کیا جس کی سربراہی چیف جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے اور جس میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس عامر فاروق شامل تھے۔ بینچ اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی دائر کردہ درخواست کی سماعت کر رہا تھا۔ قیدیوں نے طبی معائنے کے لیے خود کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کی استدعا کی ، جیسا کہ عمران خان کو 18 اگست کے سپریم کورٹ کے حکم کے ذریعے ریلیف دیا گیا تھا۔ 

16  ستمبر کو سپریم کورٹ نے اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کی کہ آیا وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے 18 اگست حکم سے متعلق معاملے میں دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے،جس میں عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔سپریم کورٹ کے اس بینچ میں شامل جسٹس شاہد وحید نے کہاتھا کہ بینچ اس بات کا جائزہ لے گا کہ آیاوفاقی آئینی عدالت کا حکم سپریم کورٹ پر لاگو ہوتا ہے یا نہیں؟  وزیرِ اعظم شہباز شریف اور دیگر کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست بھی سپریم کورٹ کے اسی بینچ کے سامنے زیرسماعت ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ آئینی ترامیم کے بعد بھی ، معاملات عدالتوں میں ہی حل طلب ہیں۔ پہلے انتظامیہ اور سپریم کورٹ ہوا کرتی تھی۔ اب عدالت کے سامنے ایک اور عدالت بھی ہے۔’ کون سا مقدمہ کون سنے گا‘  تک کے سوالات طے کرنے میں کتنے اورسال درکار ہوں گے؟  خیبرپختون خوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا مقدمہ بھی عدالت میں ہی آئے گا۔لیکن اصل سوال تو یہ ہے کہ سیاسی عدم استحکام ختم ہوگا؟ کیا دہشت گردی ختم ہوگی؟  کیا عوام کو وہ مل سکے گا جس کی اسے تلاش ہے؟

وزیر داخلہ محسن نقوی نہیں بلکہ مرحوم شاعر محسن نقوی کی ،  اس غزل کو موجودہ حالات کا شاعرانہ تجزیہ کہا جاسکتا ہے کہ  

بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
اداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا
حیات اب شام غم کی تشبیہ خود بنے گی
تمہاری زلفوں کا استعارہ نہیں چلے گا
چلو سَروں کا خراج نوکِ سِناں کو بخشیں
کہ جاں بچانے کا استخارہ نہیں چلے گا
ہمارے جذبے بغاوتوں کو تراشتے ہیں
ہمارے جذبوں پہ بس تمہارا نہیں چلے گا
ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسن
چلے گا  پانی  مگر  کنارہ  نہیں  چلے  گا

(کالم کار اسلام آباد ہائیکورٹ کے وکیل ہیں ۔ انہیں ای میل(Sufianakram371@gmail.com) پر رابطہ کیاجاسکتا ہے
٭٭٭٭٭٭

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔