ہوماوورسیزپاکستانی افرادی قوت کے فروغ کے لیے قونصلیٹ جدہ کا ویلفیئر ونگ متحرک

پاکستانی افرادی قوت کے فروغ کے لیے قونصلیٹ جدہ کا ویلفیئر ونگ متحرک

جدہ (خالد نواز چیمہ) سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، ان کی صلاحیتوں کو سعودی مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے اور پاکستان کے ہنرمند نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی کے لیے پاکستان قونصلیٹ جدہ کا ویلفیئر ونگ نئے عزم اور جذبے کے ساتھ سرگرمِ عمل ہے۔
قونصل جنرل جدہ سید مصطفیٰ ربانی کی متحرک، عوام دوست اور کمیونٹی مرکز قیادت میں ویلفیئر ونگ نے پاکستانی افرادی قوت کے فروغ کو محض ایک دفتری ذمہ داری کے بجائے قومی خدمت کا مشن بنا لیا ہے۔ سعودی عرب کے مختلف اداروں اور کمپنیوں سے مسلسل روابط، ملاقاتوں اور نئے مواقع کی تلاش اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ قونصلیٹ پاکستانی شہریوں کے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ ان کے معاشی مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے بھی عملی اقدامات کر رہا ہے۔
اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت کے طور پر اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (OEC)، حکومتِ پاکستان، اور اندلس عربیہ برائے طبی خدمات، سعودی عرب کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ پاکستان کی جانب سے قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی جبکہ اندلس عربیہ کی جانب سے علاقائی میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد احمد صالح نے یادداشت پر دستخط کیے۔
اس معاہدے کے تحت سعودی عرب میں قابل پاکستانی ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی ماہرین کی بھرتی اور تعیناتی کے لیے مواقع پیدا ہوں گے۔ اندلس عربیہ کے سعودی عرب میں 14 ہسپتالوں اور تقریباً 200 کلینکس پر مشتمل وسیع نیٹ ورک کے باعث پاکستانی طبی ماہرین کے لیے روزگار کے امکانات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی کی قیادت میں ویلفیئر ونگ کی یہ کاوش اس عزم کی عکاس ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانی صرف مسائل کے حل کے لیے قونصلیٹ سے رجوع نہ کریں، بلکہ قونصلیٹ ان کے بہتر مستقبل، روزگار اور معاشی استحکام کے لیے بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہو۔ ان کی قیادت میں سعودی اداروں کے ساتھ براہِ راست روابط اور پاکستانی افرادی قوت کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے کے عمل کو نمایاں فروغ حاصل ہوا ہے۔
ویلفیئر ونگ میں قونصل ویلفیئر اذکاء ظفر، زینب اسد اور عاکف اقبال پاکستانی افرادی قوت کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ خصوصاً اذکاء ظفر سعودی اداروں کے ساتھ روابط، پاکستانی کارکنوں کی رہنمائی اور روزگار کے امکانات تلاش کرنے کے حوالے سے مسلسل متحرک ہیں۔ ان کی فیلڈ میں موجودگی اور عملی دلچسپی اس امر کی غماز ہے کہ قونصلیٹ کا ویلفیئر ونگ پاکستانی کمیونٹی کی خدمت کو محض کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رکھنا چاہتا۔
سعودی عرب کے ویژن 2030 کے تحت تعمیرات، انجینئرنگ، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، ہوٹلنگ، لاجسٹکس، ایوی ایشن اور دیگر شعبوں میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں ماہر اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے وقت میں پاکستان کے ہنرمند نوجوانوں کے لیے سعودی مارکیٹ میں مواقع پیدا کرنا نہ صرف روزگار کی فراہمی بلکہ پاکستان کی معیشت، زرمبادلہ اور ترسیلاتِ زر میں اضافے کا بھی اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔
قونصلیٹ جدہ کی یہ کوششیں اس امید کو تقویت دے رہی ہیں کہ پاکستانی ہنر، محنت اور صلاحیت کو سعودی عرب کی ترقی کے سفر میں مزید نمایاں مقام حاصل ہوگا۔ پاک سعودی برادرانہ تعلقات کو عوامی اور معاشی سطح پر مزید مضبوط بنانے میں پاکستانی افرادی قوت کا کردار پہلے ہی نمایاں ہے، جبکہ مستقبل میں ہنرمند اور تربیت یافتہ پاکستانی افرادی قوت دونوں برادر ممالک کے درمیان معاشی شراکت داری کا ایک مضبوط پل ثابت ہو سکتی ہے۔
قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی اور ویلفیئر ونگ کی ان عملی کاوشوں کو پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ سعودی اداروں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں اور مسلسل روابط کا یہ سلسلہ مزید وسعت اختیار کرے گا، تاکہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے روزگار، پاکستان کے لیے زرمبادلہ اور پاک سعودی دوستی کے لیے ایک مضبوط معاشی بنیاد فراہم کی جا سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔