اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی وزیر مذہبی امور و چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبے بنانا وقت کی اشد ضرورت ہے، یہ کام کئی سال قبل ہو جانا چاہیے تھا،ملک بھر سے چھوٹے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام کی آواز اٹھ رہی ہے، صوبہ ہزارہ کے قیام کے حوالے سے اسمبلیوں میں وقتا فوقتا قراردادیں پیش ہوتی رہی ہیں، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے پر باضابطہ قومی سطح پر بحث کی جائے اور اختیارات کے ساتھ چھوٹے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کی جا سکیں،وہ ہزارہ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں “صوبوں اور انتظامی یونٹس سے متعلق قومی مباحثہ” سے خطاب کر رہے تھے۔
مباحثے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماوں، اراکین پارلیمنٹ، صحافیوں، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی اور نئے صوبوں و انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔سردار محمد یوسف نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ صوبہ ہزارہ قائم ہونا چاہیے۔ ہم اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں، صوبہ ہزارہ کے قیام کی تحریک چلاتے رہے ہیں اور آئندہ بھی اس کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں ڈویژن اور دیگر انتظامی یونٹس قائم کیے جا سکتے ہیں تو نئے صوبے کیوں نہیں بن سکتے؟ ہم کوئی علیحدہ ملک بنانے کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے بہتر انتظامی نظام اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے سے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے، اس لیے چھوٹے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں زیر بحث لانا چاہیے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ طویل عرصے سے صوبہ ہزارہ کے قیام کے حوالے سے آواز اٹھاتے رہے ہیں اور 2010 میں بھی سینیٹ میں اس معاملے کو اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کے قیام پر ایک طویل عرصے سے بات ہو رہی ہے، اس مسئلے کو مزید نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت اگر 400 ارب روپے دیے جاتے ہیں تو یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ ان میں سے کتنی رقم اضلاع اور تحصیلوں تک پہنچ رہی ہے۔ انہوں نے چترال کے لیے بھی الگ صوبے کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ چترال کو خیبرپختونخوا سے الگ صوبائی حیثیت دینے اور پورے مالاکنڈ کو ایک صوبے کی شکل دینے پر بھی غور ہونا چاہیے۔
سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا کہ ملک میں موجودہ طرز حکمرانی عوام کو مطلوبہ سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو رہا ہے اور اسٹیٹس کو کوئی آپشن نہیں۔ نئے صوبوں کا قیام اس وقت پاکستان کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلیاں اس حوالے سے متفقہ قراردادیں منظور کر چکی ہیں، اس کے باوجود معاملے کو روک کر رکھا گیا ہے۔محمد علی درانی نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام پاکستان کے مفاد کی بات ہے۔ جو سیاسی رہنما نئے صوبوں کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کریں گے، ان کے اپنے پارلیمنٹیرینز بھی شاید ان کے ساتھ نہ ہوں۔ اگر عوام کے مسائل کے حل کے لیے نئے صوبے نہ بنائے گئے تو ملک میں بے چینی اور انارکی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ اسمبلی سے قرارداد منظور ہونے کے بعد وہ محض نظرانداز کرنے سے ختم نہیں ہو جاتی۔ اگر کسی قرارداد کو ختم کرنا مقصود ہو تو اس کے خلاف باقاعدہ قرارداد منظور کرنا ضروری ہے۔
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شہزادہ گشتاسپ خان نے کہا کہ ہر تحریک کے پیچھے ایک واضح مقصد ہونا چاہیے اور صوبوں کا قیام بنیادی طور پر ایک انتظامی معاملہ ہے۔ بہتر گورننس کے لیے انتظامی یونٹ جتنا چھوٹا ہوگا، اسے اتنا ہی بہتر انداز میں چلایا جا سکے گا۔ صوبہ ہزارہ کا مطالبہ کسی نفرت یا تعصب کی بنیاد پر نہیں بلکہ بہتر انتظامی نظام اور عوامی سہولیات کے لیے ہے۔استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما اور پارلیمانی سیکرٹری برائے مواصلات گل اصغر خان نے کہا کہ ان کی جماعت میں بھی نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے تفصیلی بحث ہو چکی ہے اور یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی، پاکستان میں نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں۔انہوں نے مختلف ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک نے بہتر انتظامی نظام کے لیے متعدد ریاستیں اور انتظامی یونٹس قائم کیے ہیں۔ اگر انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس بنائے جائیں تو اس میں نقصان کیا ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نئے صوبوں کے قیام کے عمل کو جلد از جلد آگے بڑھایا جائے۔
قومی مباحثے میں نظامت کے فرائض ہزارہ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر لقمان شاہ اور جنرل سیکرٹری نوید الرحمان نے انجام دئیے۔ تقریب سے رکن صوبائی اسمبلی سونیا شاہ، سینئر صحافی عمار مسعود، ایم کیو ایم کے صفیان چیمہ ایڈووکیٹ، پروفیسر سجاد قمر، جنید قاسم اور سردار یاسر کڑلال نے بھی خطاب کیا۔شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان میں انتظامی امور کو بہتر بنانے، وسائل کی منصفانہ تقسیم، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور حکمرانی کو موثر بنانے کے لیے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی سطح پر زیر بحث لایا جانا چاہیے۔
صوبہ ہزارہ سمیت نئے صوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں،وفاقی وزیر سردار محمد یوسف
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
