ہومپاکستاناو آئی سی کا کامسٹیک میں آبی تحفظ کے تین روزہ تربیتی پروگرام کا آغاز، 16رکن ممالک شدید آبی دباو کا شکار

او آئی سی کا کامسٹیک میں آبی تحفظ کے تین روزہ تربیتی پروگرام کا آغاز، 16رکن ممالک شدید آبی دباو کا شکار

اسلام آباد(سب نیوز)اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کے رکن ممالک میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے او آئی سی-کامسٹیک سیکرٹریٹ میں پائیدار آبی حکمرانی اور آبی تحفظ کے موضوع پر تین روزہ تربیتی پروگرام کا آغاز ہو گیا۔تین روزہ پروگرام میں پالیسی سازوں، آبی ماہرین، محققین اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ افراد نے شرکت کی، جہاں او آئی سی کے رکن ممالک کو درپیش پانی کی قلت اور موسمیاتی دبا کے عملی حل پر غور کیا جائے گا۔یہ پروگرام او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ اور او آئی سی-کامسٹیک کے زیر اہتمام، شماریاتی، اقتصادی اور سماجی تحقیق و تربیتی مرکز برائے اسلامی ممالک (سیسریک)اور حصار فانڈیشن کے تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے۔تربیتی پروگرام میں مربوط آبی وسائل کے انتظام، موسمیاتی لحاظ سے موزوں آبپاشی، سرحد پار زیرزمین پانی کے انتظام، آلودگی پر قابو پانے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی، جدید مالیاتی ذرائع اور آبی تحفظ کے لیے شراکت داریوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے او آئی سی کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل، سفیر آفتاب احمد کھوکھر نے اس اقدام کو بروقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کے متعدد ممالک کو پانی کے عدم تحفظ، موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی تنزلی اور قدرتی وسائل پر بڑھتے ہوئے دبا کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماہرین اور شرکا کی جانب سے سامنے آنے والی سفارشات او آئی سی ممالک کے درمیان عملی تعاون کے مثر طریقہ کار کی تشکیل میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے مشترکہ آبی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علم کے تبادلے اور تکنیکی تعاون کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

سیسریک کی ڈائریکٹر جنرل محترمہ زہرا زمرد سلچک نے کہا کہ آبی دباو اسلامی دنیا کو درپیش سب سے سنگین ترقیاتی چیلنجز میں شامل ہو چکا ہے۔انہوں نے او آئی سی واٹر رپورٹ 2025 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت او آئی سی کے 16 رکن ممالک شدید سطح کے آبی دبا کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صورتحال فوری اور مربوط اقدامات کی متقاضی ہے، جبکہ اندازوں کے مطابق 2050 تک او آئی سی کے 17 ممالک کو انتہائی شدید آبی دبا کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ مزید 10 ممالک شدید آبی دبا کی زد میں آ سکتے ہیں۔انہوں نے پانی کے مثر استعمال، ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی، جدت طرازی اور رکن ممالک کے درمیان مضبوط تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔او آئی سی-کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر ایم اقبال چودھری نے کہا کہ آبی تحفظ اب غذائی تحفظ، صحت عامہ، زراعت، موسمیاتی لچک اور پائیدار اقتصادی ترقی سے براہ راست اور ناگزیر طور پر جڑ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ او آئی سی ممالک کے درمیان سائنسی تعاون کو صرف مذاکرات تک محدود رکھنے کے بجائے ٹیکنالوجی، مہارت، ڈیٹا اور قابل عمل حل کے تبادلے کی جانب بڑھنا ہوگا۔پروفیسر ڈاکٹر اقبال چودھری نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ریموٹ سینسنگ، ڈیجیٹل واٹر مینجمنٹ سسٹمز اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی کے زیادہ سے زیادہ استعمال سے ممالک محدود ہوتے آبی وسائل کو زیادہ موثر انداز میں منظم کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کامسٹیک سائنسدانوں، پالیسی سازوں، جامعات اور بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کو یکجا کر کے پانی اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کی تیاری جاری رکھے گا، خصوصا ایسے معاملات میں جن کے لیے علاقائی اور سرحد پار تعاون ضروری ہے۔تین روزہ پروگرام کے دوران جنوبی ایشیا اور دیگر خطوں میں آبی حکمرانی کے طریقہ کار، موسمیاتی لحاظ سے موزوں آبپاشی کی ٹیکنالوجیز اور مشترکہ زیرزمین آبی وسائل کے انتظام کا جائزہ لیا جائے گا۔

شرکا سینیگال-موریطانیہ آبی ذخیرے کے انتظام سے حاصل ہونے والے تجربات اور اسباق پر بھی غور کریں گے۔اجلاسوں میں صنعتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے سطحی اور زیرزمین پانی پر اثرات، آبی حکمرانی میں مقامی کمیونٹیز کی شمولیت، سٹیزن سائنس اور مقامی معلومات کو عوامی پالیسی کا حصہ بنانے جیسے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ڈیٹا پر مبنی آبی انتظام کے خصوصی سیشن میں سیمولیشن ماڈلنگ، جغرافیائی معلوماتی نظام، ریموٹ سینسنگ، مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ آف تھنگز کے استعمال کا جائزہ لیا جائے گا۔ماہرین سیسریک کے واٹر ڈیش بورڈز اور یونیسکو کے آبی ڈیٹا پلیٹ فارمز پر بھی گفتگو کریں گے، جنہیں منصوبہ بندی، نگرانی اور موسمیاتی لچک بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔پروگرام کے آخری روز مثر آبی پالیسیوں اور منصوبوں کی تشکیل، مالیاتی طریقہ کار، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور بالخصوص افریقی او آئی سی رکن ممالک میں محفوظ پینے کے پانی تک رسائی بہتر بنانے کے جدید ماڈلز پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔اسلامی ترقیاتی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، افریقی واٹر فیسلٹی، انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ، یونیسکو، سیسریک اور دیگر قومی و بین الاقوامی اداروں کے ماہرین اور نمائندے تکنیکی اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔تربیتی پروگرام کے اختتام پر او آئی سی کے رکن ممالک کے لیے آبی تعاون کا ایک جامع اور اسٹریٹجک روڈ میپ تیار کرنے پر غور کیا جائے گا، جس میں تکنیکی تعاون، آبی مالیات، سرحد پار آبی وسائل کے انتظام اور ادارہ جاتی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے سے متعلق سفارشات شامل ہوں گی۔تین روزہ تربیتی پروگرام بدھ کے روز اختتام پذیر ہوگا، جس کے موقع پر شرکا میں اسناد بھی تقسیم کی جائیں گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔