اسلام آباد: پاکستان بھر سے تعلق رکھنے والے 33 باصلاحیت اسکالرز مکمل طور پر فنڈڈ چیوننگ اور کامن ویلتھ اسکالرشپس پر برطانیہ کی معروف جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے جلد برطانیہ روانہ ہوں گے۔
برطانوی ہائی کمیشن اسلام آباد کی جانب سے جاری بیان کے مطابق منتخب اسکالرز کا انتخاب ان کی قائدانہ صلاحیتوں، تعلیمی قابلیت اور مثبت تبدیلی لانے کے عزم کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ یہ اسکالرز برطانیہ بھر میں ماسٹرز اور دیگر پوسٹ گریجویٹ پروگرامز میں تعلیم حاصل کریں گے۔
اسکالرز تعلیم، گورننس، صحت، موسمیاتی تبدیلی، کاروبار اور سول سوسائٹی سمیت پاکستان کے مستقبل سے متعلق اہم شعبوں میں تخصص حاصل کریں گے۔
برطانوی ہائی کمیشن اسلام آباد نے اسکالرز کے اعزاز میں روانگی سے قبل ایک استقبالیہ کا اہتمام کیا، جس میں ان کی کامیابی کو سراہنے کے ساتھ ساتھ انہیں برطانیہ میں تعلیمی اور ثقافتی تجربے کے حوالے سے آگاہ کیا گیا اور برطانیہ و پاکستان کے اسکالرشپ نیٹ ورک سے متعارف کرایا گیا۔
اس موقع پر برطانوی ہائی کمشنر پاکستان جین میریٹ نے کہا کہ چیوننگ اور کامن ویلتھ اسکالرشپس برطانیہ اور پاکستان کے درمیان شراکت داری کی عملی مثال ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایسے باصلاحیت اور پرعزم افراد پر سرمایہ کاری کرتے ہیں جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسکالرز برطانیہ میں اپنے قیام کے دوران نئی مہارتیں، مضبوط روابط اور نئے خیالات حاصل کریں گے اور وطن واپس آکر پاکستان کے مستقبل میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
اس سال کے اسکالرز برطانیہ کی مختلف جامعات میں تعلیم حاصل کریں گے، جن میں برسٹل، شیفیلڈ، ایڈنبرا، گلاسگو اور لندن شامل ہیں۔
وہ عالمی صحت، انسانی حقوق، میڈیا و ترقی، جدت و کاروباری سرگرمیوں، ترقیاتی معاشیات، حیاتیاتی روبوٹکس اور سفارت کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کریں گے۔
برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق ان اسکالرشپس کے ذریعے پاکستانی طلبہ کو نہ صرف اعلیٰ معیار کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے بلکہ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے اور بین الاقوامی تجربات و روابط حاصل کرنے کا بھی موقع ملتا ہے۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد یہ اسکالرز پاکستان میں تقریباً 2,000 چیوننگ اور 1,500 سے زائد کامن ویلتھ سابق اسکالرز کے نیٹ ورک کا حصہ بن جائیں گے۔ سابق اسکالرز تعلیم، گورننس، صحت، موسمیاتی تبدیلی، کاروبار اور سول سوسائٹی سمیت مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
برطانوی ہائی کمیشن نے کہا کہ وہ پاکستان میں مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اسکالرشپ کے مواقع میں اضافے کے لیے بھی کام کر رہا ہے، بالخصوص ان شعبوں میں جو پاکستان کے لیے ترجیحی اہمیت رکھتے ہیں۔
بیان کے مطابق ماضی میں مقامی شراکت داری کے تحت ورثہ، موسمیاتی مطالعات، کھیل اور کاروبار سمیت مختلف شعبوں میں اضافی اسکالرشپ مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔
دریں اثنا، رواں سال کے اسکالرز کی برطانیہ روانگی کی تیاریوں کے ساتھ ہی پاکستانی رہنماؤں، محققین اور کاروباری افراد کے لیے اگلے تعلیمی سال کی چیوننگ اور کامن ویلتھ اسکالرشپس کے لیے درخواستیں بھی کھول دی گئی ہیں۔
