اسلام آباد(سب نیوز) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی)اور سی ڈی اے آفیسرز ایسوسی ایشن نے کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے بروقت حل، ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی مشاورت کے فروغ کے لیے ایک مشترکہ رابطہ کمیٹی (لیازون کمیٹی)تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے، جو وفاقی دارالحکومت میں کاروبار دوست ماحول کے قیام اور بہتر شہری نظم و نسق کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔یہ فیصلہ آئی سی سی آئی میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران کیا گیا، جس میں طے پایا کہ مجوزہ کمیٹی میں آئی سی سی آئی اور سی ڈی اے آفیسرز ایسوسی ایشن کے نمائندے شامل ہوں گے اور یہ کمیٹی باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرکے تجارت، ٹیکسیشن، شہری انتظام، ریگولیٹری امور اور شہری سہولیات سے متعلق مسائل کا جائزہ لے گی۔ یہ فورم کاروباری برادری کو درپیش چیلنجز کی نشاندہی، متفقہ حل کی تیاری اور متعلقہ معاملات پر بروقت پیش رفت کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا کہ کاروباری برادری اسلام آباد کی ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے اور قومی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر اور سی ڈی اے آفیسرز ایسوسی ایشن کے درمیان مضبوط روابط بہتر طرز حکمرانی، پالیسیوں کے تسلسل اور تاجروں، صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کو درپیش دیرینہ مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کاروبار دوست ماحول کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی سطح پر مستقل رابطوں اور مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔صدر سی ڈی اے آفیسرز ایسوسی ایشن عامر شہزاد نے کہا کہ دونوں اداروں کے درمیان ماضی میں بھی باہمی تعاون اور روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال ہو چکا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس تعاون کو ایک باقاعدہ اور مثر نظام کے ذریعے ادارہ جاتی شکل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران اسلام آباد کو انتظامی اور ریگولیٹری چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جس کی بڑی وجہ پالیسیوں اور انتظامی ڈھانچے میں بار بار تبدیلیاں ہیں۔ انہوں نے پالیسی سازی میں اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت، تسلسل اور مقامی نمائندگی کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کاروباری برادری کے مسائل اجاگر کرنے میں آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مجوزہ رابطہ کمیٹی باہمی مشاورت کے ذریعے مسائل کے حل کا ایک مثر پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔سی ڈی اے آفیسرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری کامران بخت نے کہا کہ کاروباری برادری اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان قریبی تعاون پائیدار شہری ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ تجاوزات، انفورسمنٹ، پارکنگ مینجمنٹ اور شہری سہولیات سے متعلق متعدد مسائل کو منظم مشاورت اور مستقل رابطوں کے ذریعے زیادہ موثر انداز میں حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مجوزہ رابطہ کمیٹی کاروباری برادری اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ہوگی۔سی ڈی اے آفیسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ریاض خان نے کہا کہ پالیسی سازی میں مقامی اسٹیک ہولڈرز کی مثر شمولیت بہتر حکمرانی، عوامی خدمات کے معیار میں بہتری اور اسلام آباد کے لیے ایک زیادہ مثر ریگولیٹری نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گی۔آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے کہا کہ آئی سی سی آئی ہمیشہ کاروبار میں آسانی پیدا کرنے اور غیر ضروری رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے اصلاحات کی حمایت کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ رابطہ نظام سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے درمیان مثبت اور تعمیری روابط کے فروغ کے لیے ایک مثر پلیٹ فارم فراہم کرے گا، جس سے دیرپا اور عملی حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔آئی سی سی آئی کے نائب صدر عرفان چوہدری نے رابطہ کمیٹی کے قیام کے اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل رابطے اور مشاورت سے اداروں کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوگا، شفافیت کو فروغ ملے گا اور وفاقی دارالحکومت میں سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔اس موقع پر آئی سی سی آئی کے سابق صدر محمد اعجاز عباسی نے بھی خطاب کرتے ہوئے ریگولیٹری اداروں اور کاروباری برادری کے درمیان مستقل رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔ تقریب کی نظامت آئی سی سی آئی کے سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری نے کی۔ اجلاس میں صدر اسلام آباد انڈسٹریل ایسوسی ایشن امیس خٹک، آئی سی سی آئی کے ایگزیکٹو ممبران روحیل انور بٹ، اسحاق سیال، ملک عقیل احمد، خیام عباسی، سینئر اراکین اسرار مشوانی، تیماس بٹ سمیت مختلف ٹریڈرز ویلفیئر ایسوسی ایشنز کے عہدیداران بھی شریک تھے، جن میں صدر ٹی ڈبلیو اے بلیو ایریا یوسف راجپوت بھی شامل تھے۔
