Wednesday, June 17, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہوماسلام آبادویمن میڈیا سینٹر پاکستان اور نیشنل اینڈومنٹ فار ڈیموکریسی کے تعاون سے کانفرنس کا انعقاد

ویمن میڈیا سینٹر پاکستان اور نیشنل اینڈومنٹ فار ڈیموکریسی کے تعاون سے کانفرنس کا انعقاد

اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان میں خواتین صحافیوں کی قیادت، نمائندگی اور محفوظ ورکنگ ماحول پر سنجیدہ گفتگو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ویمن میڈیا سینٹر پاکستان اور نیشنل اینڈومنٹ فار ڈیموکریسی کے تعاون سے اسلام آباد میں منعقدہ کانفرنس میں ملک بھر کے پریس کلبز اور یونینز کے عہدیداروں نے خواتین صحافیوں کو درپیش چیلنجز، مواقع اور لیڈرشپ رولز پر تبادلہ خیال کیا۔ویمن میڈیا سینٹر کی بانی فوزیہ شاہین کے مطابق گلوبل میڈیا مانیٹرنگ پراجیکٹ 2025کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ میڈیا میں جینڈر گیپ بدستور موجود ہے اور صرف 4فیصد خواتین رپورٹرز فیلڈ میں کام کر رہی ہیں۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا اداروں، پریس کلبز اور یونینز میں خواتین کی موثر اور مساوی نمائندگی، محفوظ و معاون ماحول اور فیصلہ سازی میں شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات اور واضح پالیسی ناگزیر ہیں۔راونڈ ٹیبل کانفرنس میں خواتین جرنلسٹس سے درج ذیل سوالات کئے گئے ہیں ۔آپ کے خیال میں پاکستان میں آزادی اظہار رائے یا پریس فریڈم کی کیا صورتحال ہے؟،پریس اور الیکٹرانک میڈیا کے برعکس ڈیجیٹل میڈیا پر کسی قسم کا ایڈیٹوریل کنٹرول نہ ہونے کے باعث یہاں خبرکی صداقت کے چیلنج کا سامنا ہے اور فیک نیوز کے سیلاب نے اس میڈیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، آپ کے خیال میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو اس چیلنج سے کس طرح نمٹنا چاہئے؟،آپ کیا سمجھتی ہیں نیوز روم میں خواتین جرنلسٹس کو فیصلہ ساز اور ذمہ دارانہ پوزیشن پر رکھے جانے میں کون کون سی رکاوٹیں اور انھیں کس طرح دور کیا جا سکتا ہے؟،ملک بھر کے پریس کلبز اور صحافتی یونینز میں خواتین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اور بعض ایسے پریس کلبز بھی ہیں جہاں سرے کوئی خاتون رکن ہی نہیں ہے، آپ کے خیال میں اس کی کیا وجوہات ہیں؟،آپ کے خیال میں ملک کی صحافتی یونینز میں خواتین جرنلسٹس کی نمائندگی کو کس طرح بہتربنایا جا سکتا ہے؟، ویمن میڈیا سینٹر گزشتہ 21 برس سے میڈیا میں صنفی مساوات کیلئے کوشاں ہے، اب تک ہزاروں لڑکیاں اور خواتین اس ادارے سے عملی تربیت حاصل کرکے پریکٹیکل فیلڈ میں اہم پوزیشن پر فرائض سرانجام دے رہی ہیں، اس حوالے سے آپ ڈبلیو ایم سی کی خدمات کو کس طرح دیکھتے ہیں؟،ڈبلیو ایم سی کا ایک وسیع المنائی نیٹ ورک ہے، ڈبلیو ایم سی المنائی کا حصہ ہونے پر آپ کے کیا تاثرات ہیں؟۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔