Friday, June 19, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومتازہ ترینحکومت بلوچستان اور نیب کی قومی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت، اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی واگزار

حکومت بلوچستان اور نیب کی قومی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت، اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی واگزار

کوئٹہ(سب نیوز) قومی احتساب بیورو بلوچستان نے ریاستی عملداری کی بحالی اور سرکاری وسائل کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی واگزار کرالی۔ یہ کاروائیاں نیب ہیڈ کوارٹر کی ہدایات پر عمل میں لائی گئیں، جن کا مقصد غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ، شفاف احتساب کا فروغ اور لوٹی گئی قومی دولت کی واپسی کو یقینی بنانا ہے، یہ کامیابی وزیر اعلی بلوچستان کی ہدایت پر صوبائی حکومت، محکمہ مال اور جنگلات کے تعاون کے نتیجے میں حاصل ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق سال 2025 میں بلوچستان میں جنگلاتی اراضی کی ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ محکمہ جنگلات کی تقریبا 28 لاکھ ایکڑ اراضی کے حوالے سے سرکاری سطح پر انتقال اراضی کا باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین نیب کی ہدایات پر نیب بلوچستان نے فوری اور بلا امتیاز کاروائیوں کا آغاز کیا۔تفصیلات کے مطابق سال 2025 کے دوران دس لاکھ ایکڑ سے زائد سرکاری زمین واگزار کروا کر 1370 ارب روپے کی ریکوری ممکن بنائی گئی، جو پاکستان کی تاریخ کی بڑی اراضی واگزاری کاروائیوں میں شمار ہوتی ہے۔
اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے سال 2026 میں کاروائیوں کو مزید تیز کیا گیا، جس کے تحت کوئٹہ، سبی، شیرانی، حب، لسبیلہ اور گوادر میں مجموعی طور پر تقریبا 2 لاکھ 60 ہزار ایکڑ زمین واگزار کرائی گئی، جسکی مالیت 414.2 ارب روپے بنتی ہے، جسکی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں،کوئٹہ میں محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کی 354 ارب مالیت کی 47ہزار ایکڑ ،سبی میں محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کی2.3 ارب مالیت کی 2861ایکڑ ،شیرانی میں محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کی29ارب مالیت کی 15ہزار ایکڑ،حب میں 50ارب روپے مالیت کی 153 ایکڑ اراضی ،لسبیلہ میں 2.2ارب روپے مالیت کی 17ہزار ایکڑ،گوادر میں 25ارب روپے مالیت کی 1لاکھ 76 ہزار ایکڑاراضی واگزار کروائی گئی ۔اس کامیابی میں حکومت بلوچستان کی مکمل معاونت حاصل رہی، جبکہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بلوچستان اور محکمہ جنگلات نے بھی کلیدی کردار ادا کیا کیوں کہ بین الادارہ تعاون کے بغیر اس نوعیت کی کامیابیاں ممکن نہیں تھیں۔
واضح رہے کہ نیب پر عزم ہے کہ کرپشن اور قبضہ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد جاری رکھے گا اور ریاستی زمین پر غیر قانونی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کاروائیاں بلا امتیاز، قانون کے مطابق اور مکمل شفافیت کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔مزید برآں باقی ماندہ سرکاری اراضی کی واگزاری کو ترجیح دی جا رہی ہے جبکہ مستقبل میں غیر قانونی قبضوں کی روک تھام کے لیے جدید ریکارڈ سسٹم، ڈیجیٹلائزیشن اور موثر مانیٹرنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں گوادر کی اراضی کی ڈیجیٹلائزیشن بھی آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے، جو آئندہ ایسے مسائل کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرے گی۔
واضح رہے واگزار شدہ زمین محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کے حوالے کی جا رہی ہے تاکہ اسے عوامی مفاد اور ماحول دوست منصوبوں میں بروئے کار لایا جا سکے، جبکہ صوبے بھر میں یہ مہم اسی جذبے کے ساتھ زیادہ متاثرہ اضلاع میں ترجیحی بنیادوں پر جاری رہے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔