مظفر آباد (آئی پی ایس )کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بلوائیوں کے انسانیت سوز مظالم کی ہولناک ویڈیو منظرِ عام پر آ گئی۔کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ شوکت اور خارجی شہزاد کے بیانات جو پہلے ہی منظر عام پر ہیں ، سے صاف ظاہر ہے کہ راولاکوٹ میں ہونے والے پرتشدد واقعات ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ تھے۔اسی منظم منصوبہ بندی کے تحت سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور لاشوں کی سیاست کی گئی۔
سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملہ کیا گیا تاکہ راولاکوٹ میں حالات خراب کر کے احتجاج کا ماحول پیدا کیا جائے ۔کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 7 جون کی رات اسپتال میں تعینات پولیس پر سیدھے فائر کر کے اہل کار کو شہید کیا اور پھر اسپتال کے اندر وارڈ میں موجود مریضوں پر قاتلانہ حملے چھریوں اور نوک دار ہتھیاروں سے کیے ۔پرتشدد اوردہشتگردانہ کارروائیوں کی شرمناک ویڈیو منظرِ عام پر آ گئی۔کالعدم ایکشن کمیٹی کے بلوائیوں نے اسپتال میں زیر علاج دیگر مریضوں اورعملے کو بھی تشددکا نشانہ بھی بنایا اور یرغمال بنا رکھا ۔ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نیسی ایم ایچ راولاکوٹ میں توڑ پھوڑ کی اوراملاک کو نقصان پہنچایا۔ماہرین کے مطابق جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگ کے دوران بھی اسپتالوں، طبی مراکز، ایمبولینسوں، مریضوں، طبی عملے کوخصوصی تحفظ حاصل ہوتا ہے ۔
ماہرین کے مطابق کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اسپتال کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ بھارتی ایما پر اسپتالوں پرحملے، مریضوں پرتشدد اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والے عناصر کا مقصد حقوق کا حصول نہیں بلکہ انتشار اور دہشتگردی پھیلاناہے۔ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پرتشدد اقدامات پیشگی منصوبہ بندی اور اشتعال انگیزی کے نتیجے میں ہوئے، جن میں بھارت اور افغانستان کا شرمناک کردا ر واضح ہے۔ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ عہدیداروں کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے پر اِسی لیے ایک ایک کروڑ کا انعام رکھا گیا ہے۔اسپتالوں پر حملوں میں ملوث تمام شرپسندوں کو قانون کے مطابق سخت سزا دے کر نشانِ عبرت بنایا چاہیے۔

