Sunday, May 17, 2026
ہومتازہ ترینامریکا نے مذاکرات کی بحالی کیلئے 5نئی شرائط پیش کر دیں، تہران نے ناقابل قبول قرار دیدیا

امریکا نے مذاکرات کی بحالی کیلئے 5نئی شرائط پیش کر دیں، تہران نے ناقابل قبول قرار دیدیا

واشنگٹن /تہران (سب نیوز)امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے نئی شرائط سامنے رکھ دی ہیں جس کے تحت واشنگٹن نے تہران سے 400 کلوگرام افزودہ یورینیم حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ جنگی نقصانات کے ازالے اور ایران کے منجمد اثاثوں کی مکمل بحالی سے بھی انکار کر دیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق امریکا نے ایران کی تجاویز کے جواب میں اپنی نئی شرائط پیش کی ہیں جنہیں ایران کے لیے ناقابلِ قبول تصور کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ واشنگٹن کا ایران سے سب سے اہم مطالبہ 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کی حوالگی ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران اپنی صرف ایک جوہری تنصیب کو فعال رکھے جب کہ امریکا نے ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 25 فیصد رقم بھی جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔فارس کے مطابق امریکی شرائط میں یہ بھی بات بھی شامل ہے کہ مختلف محاذوں پر کشیدگی اور جنگی سرگرمیوں کے خاتمے کو مذاکرات کے انعقاد سے مشروط رکھا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق ایران نے کسی بھی ممکنہ مذاکرات کے لیے پانچ بنیادی شرائط رکھی ہیں، جن میں تمام محاذوں خصوصا لبنان میں جنگی کارروائیوں کا خاتمہ، ایران مخالف پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگی نقصانات کا معاوضہ اور آبنائے ہرمز پر ایران کے خودمختار حق کو تسلیم کرنا شامل ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق تہران کا موقف ہے کہ اگر ایران امریکی شرائط قبول بھی کر لے تب بھی امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ جارحیت کا خطرہ برقرار رہے گا۔رپورٹ میں بعض تجزیہ کاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکی تجاویز کا مقصد تنازع کے حل کے بجائے وہ اہداف حاصل کرنا ہے جو واشنگٹن جنگی دبا کے باوجود حاصل نہیں کر سکا۔ تاہم ان شرائط کے حوالے سے فی الحال صرف ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے، امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی اعلان یا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مذاکرات سے پہلے مکمل جنگ بندی بنیادی شرط ہوگی۔ ایرانی حکام کے مطابق جنگ بندی صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر ہونی چاہیے۔رپورٹس کے مطابق ایران نے تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرنے، بیرون ملک منجمد اثاثے بحال کرنے اور جنگی نقصانات کا معاوضہ دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ایرانی موقف میں آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کی شرط بھی شامل کی گئی ہے، جسے خطے کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے سخت موقف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مذاکرات کا عمل انتہائی پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ خطے میں جنگ بندی اور امن کے امکانات بھی انہی بات چیت پر منحصر ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔