Sunday, May 17, 2026
ہومتازہ ترینبدامنی کی وجہ سے تاجر برادری خوف کا شکار ، آئی ایم ایف کے بجائے مقامی وسائل پر انحصار کیا جائے، مولانا فضل الرحمان

بدامنی کی وجہ سے تاجر برادری خوف کا شکار ، آئی ایم ایف کے بجائے مقامی وسائل پر انحصار کیا جائے، مولانا فضل الرحمان

کراچی(آئی پی ایس )جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کراچی میں معروف بزنس مین اور عارف حبیب گروپ کے چیئرمین سے ملاقات کی، جس کے دوران عارف حبیب کی جانب سے ان کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اس اہم بیٹھک میں کراچی کی تاجر برادری کے سرکردہ رہنماں سمیت وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ، خالد تواب، عبدالصمد حبیب، حاجی عثمان غنی، انجینئر ضیا الرحمان اور علامہ راشد محمود سومرو نے شرکت کی، جہاں ملک کی مجموعی اقتصادی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے امن و امان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بدامنی کی وجہ سے ملک کی تاجر برادری مسلسل خوف کا شکار ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک ملک میں مکمل امن قائم نہیں ہوگا، تب تک سرمایہ کاری نہیں آئے گی، کیونکہ امن کی بقا ہی معیشت کی مضبوطی کی ضامن ہے۔ قائدِ جمعیت نے اقتصادی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے مقامی وسائل پر انحصار کرنا چاہیے اور بیرونی اداروں کے بجائے ملک کے اپنے تاجروں پر اعتماد بحال کیا جائے، کیونکہ مقامی تاجروں اور سرمایہ کاروں کے تعاون سے ہم ملک کا سارا قرض اتار سکتے ہیں۔

معاشی نظام میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام نے زندگی کے ہر شعبے کی طرح معیشت کا بھی ایک مکمل اور جامع نظام دیا ہے، جس پر عمل پیرا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سودی نظام کے خاتمے سے ملکی معیشت میں واضح برتری اور استحکام آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2028 تک ملک سے سود کا خاتمہ اب محض ایک ہدف نہیں بلکہ آئین کا حصہ بن چکا ہے، اور اگر اس مقررہ وقت تک سود کا خاتمہ نہ کیا گیا تو اسے آئین شکنی تصور کیا جائے گا جس پر باقاعدہ کارروائی ہوگی۔ انہوں نے تاجر برادری کو یقین دلایا کہ جے یو آئی ہر مشکل گھڑی میں ملک کے تاجروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔