اسلام آباد(آئی پی ایس )اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار طاہر محمود نے علاقائی استحکام کو فروغ دینے کے مقصد سے حکومت پاکستان کی فعال سفارتی مصروفیات کو سراہا ہے۔ ھفتہ کے روز جاری ایک بیان میں انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت میں سہولت فراہم کرنے میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات امن اور اقتصادی تعاون کے قابل اعتماد حامی کے طور پر ملک کی پوزیشن کو تقویت دیتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کوششیں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے، علاقائی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور پائیدار اقتصادی مواقع کو اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔حکومت کے لیے آئی سی سی آئی کی مضبوط حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے، انہوں نے کاروباری برادری کو متاثر کرنے والے چیلنجوں سے نمٹنے کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں اہم سڑکوں کی طویل بندش کی طرف توجہ مبذول کرائی، جس نے سامان کی نقل و حرکت کو بری طرح متاثر کیا ہے
سپلائی چین کو شدید طور پر نقصان پہنچا یا ہے۔ انہوں نے صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے طریقہ کار کو آسان بنانے کا مطالبہ کیا۔سردار طاہر نے محمود نے مقامی انتظامیہ کی جانب سے ایف ایم سی جیز کی نقل و حمل کے لیے ایک خصوصی طریقہ کار سمیت بعض اصلاحی اقدامات متعارف کرانے کی کوششوں کو سراہا۔ تاہم انہوں نے نوٹ کیا کہ ان اقدامات کے باوجود، موٹر ویز اور ملحقہ راستوں پر گاڑیوں اور کنٹینرز کی لمبی قطاریں اب بھی دیکھی جا سکتی ہیں، جو کہ لاجسٹک رکاوٹوں کی عکاسی کرتی ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ کئی دنوں سے وفاقی دارالحکومت تک محدود رسائی کے باعث اشیائے ضروریہ کے کنٹینرز پھنسے ہوئے ہیں۔
اس صورت حال نے تقسیم کاروں، درآمد کنندگان، تھوک فروشوں، خوردہ فروشوں اور تاجروں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں کافی مالی نقصان، سپلائی میں کمی اور مارکیٹ کی طلب کو پورا کرنے میں ناکامی ہوئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اربوں روپے کی اشیا خطرے میں ہیں کیونکہ تقسیم کا نیٹ ورک مفلوج ہو چکا ہے۔صدر محمود نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ امن و امان کی بحالی انتہائی اہمیت کی حامل ہے لیکن اسے متوازن اور عملی نقطہ نظر کے ذریعے آگے بڑھایا جانا چاہیے جو معاشی سرگرمیوں میں غیر ضروری طور پر رکاوٹ نہ ڈالے۔ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پر زور دیا کہ وہ صورت حال کا فوری نوٹس لیں اور ایسے انتظامات پر عمل درآمد کریں جس سے ٹرانسپورٹ روٹس کی بحالی کو یقینی بنایا جائے، اس طرح ضروری حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ سامان کی آسانی سے نقل و حرکت بھی میسر آ سکے گی ۔
