غزہ (آئی پی ایس )غزہ کے علاقے دیر البلح اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ہفتے کے روز بلدیاتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا آغاز ہوگیا۔ یہ غزہ میں گزشتہ 20 برس بعد ہونے والا پہلا بلدیاتی انتخاب ہے، جبکہ مغربی کنارے میں بھی 2023 کی جنگ کے بعد یہ پہلا مقامی انتخاب قرار دیا جا رہا ہے۔غزہ میں صبح 7 بجے پولنگ اسٹیشن کھولے گئے جہاں تقریبا 70 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔
حکام نے دیر البلح میں ہونے والے اس انتخاب کو ایک پائلٹ منصوبہ قرار دیا ہے۔ اس علاقے کو اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ یہ غزہ کے ان چند علاقوں میں شامل ہے جو جنگی تباہی سے نسبتا محفوظ رہے۔دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریبا 15 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز مقامی کونسلوں کے انتخاب کے لیے حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ یہ کونسلیں پانی، سڑکوں، صفائی اور بجلی جیسے بلدیاتی امور کی نگرانی کرتی ہیں۔فلسطینی حکام کے مطابق ان انتخابات کا مقصد غزہ اور مغربی کنارے کو ایک سیاسی نظام کے تحت جوڑنے کا پیغام دینا ہے۔ مرکزی الیکشن کمیشن کے ترجمان فرید تعماللہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں انتخابی عمل کرانا ایک بڑا چیلنج تھا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب فلسطینی عوام میں سیاسی قیادت سے مایوسی بڑھ رہی ہے۔ بدعنوانی، اصلاحات کی کمی اور 2006 کے بعد قومی انتخابات نہ ہونے کے باعث عوامی اعتماد متاثر ہوا ہے۔رپورٹس کے مطابق زیادہ تر امیدوار صدر محمود عباس کی جماعت فتح یا آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں، جبکہ حماس نے باضابطہ طور پر امیدوار سامنے نہیں لائے۔یاد رہے کہ حماس نے 2006 کے پارلیمانی انتخابات جیتے تھے اور 2007 میں غزہ کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ موجودہ بلدیاتی انتخابات کو فلسطینی جمہوری عمل کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
