اسلام آباد (سب نیوز) وفاقی وزیر برائے منصوبی بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے افراپ کے تکنیکی ورکشاپ بعنوان ڈیزائننگ ریزیلینس ایٹ اسکیل، بیسن پلاننگ، فلڈ ماڈلنگ اور انفراسٹرکچر فیزیبلٹی سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر مربوط، سائنسی اور شواہد پر مبنی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب ایک نئی حقیقت بن چکی ہے اور ہمیں ہر سال نقصانات کی مرمت کرنے کے بجائے اپنی دفاعی اور حفاظتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ مستقبل میں آنے والی آفات کا کم سے کم نقصان ہو۔ انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے سندھ اور بلوچستان جیسے پہلے سے پسماندہ علاقوں کو شدید متاثر کیا، جس سے وہاں کی معاشی اور سماجی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ بلوچستان کی مالی مشکلات کے پیش نظر وفاقی حکومت نے عالمی بینک کے تعاون سے 400 ملین ڈالر کا پروگرام ترتیب دیا جس کے تحت کا آغاز کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی، روزگار کے مواقع کی بحالی اور مستقبل کے لیے موسمیاتی لچک پیدا کرنا ہے۔انہوں نے پاکستان کو درپیش آبی بحران کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو شدید آبی دباو کا شکار ہیں۔ گزشتہ پچاس برسوں میں نئے آبی ذخائر نہ بننے اور موجودہ ڈیموں کی صلاحیت کم ہونے کے باعث پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش انتہائی محدود رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تقریبا 30 دن ہے جبکہ عالمی معیار 120 دن ہے، اس لیے نئے آبی ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کے وسائل کا موثر استعمال، بیسن سطح پر منصوبہ بندی، فلڈ ماڈلنگ اور سائنسی بنیادوں پر انفراسٹرکچر کی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں روایتی طریقہ کار کے بجائے سائنسی فیزیبلٹی اور شواہد پر مبنی فیصلے کیے جائیں تاکہ محدود وسائل سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ترقیاتی منصوبہ بندی میں ان پٹ بیسڈ بجٹنگ سے نکل کر آٹ کم بیسڈ بجٹنگ کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں فنڈز کے استعمال کے بجائے نتائج اور اثرات کو اہمیت دی جائے گی اور واضح کارکردگی اشاریوں کے ذریعے کامیابی کا جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے بلوچستان کی ترقی کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے لیے 200 ارب روپے سے زائد کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے تاکہ پانی، رابطہ کاری، تعلیم اور دیگر بنیادی شعبوں میں بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی تیزی سے گرتی سطح پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مربوط آبی وسائل کے انتظام کی فوری ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر واٹر سکیورٹی ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کے ذریعے پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکے۔افراپ ورکشاپ سے بلوچستان کے صوبائی وزیر منصوبہ بندی میر ظہور بلیدی، پروجیکٹ ڈائریکٹر اسد اللہ ناصر، ورلڈ بینک اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان نے بھی خطاب کیا اور موسمیاتی لچک، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس ورکشاپ میں سینکڑوں شرکا نے شرکت کی جن میں دنیا بھر سے ماہرین، پاکستان اور بلوچستان کے پالیسی ساز، تکنیکی ماہرین اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد شامل تھے۔ بلوچستان کی جامعات کے درجنوں طلبہ کی شرکت نے نوجوان نسل کی موسمیاتی تبدیلی، پانی کے انتظام اور پائیدار ترقی کے موضوعات میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کیا۔وفاقی وزیر نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ اگر ہم سائنسی منصوبہ بندی، آبی ذخائر میں اضافہ اور موسمیاتی لچکدار انفراسٹرکچر پر توجہ دیں تو مستقبل کے سیلاب کو نقصان کے بجائے ایک موقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
