Friday, April 17, 2026
ہوماسلام آبادسردار طاہر محمود کی سربراہی میں آئی سی سی آئی وفد کا سی ڈی اے کا دورہ،چیئرمین سے ملاقات

سردار طاہر محمود کی سربراہی میں آئی سی سی آئی وفد کا سی ڈی اے کا دورہ،چیئرمین سے ملاقات

اسلام آباد(آئی پی ایس ) نئے تعینات ہونے والے چیف کمشنر اسلام آباد اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)کے چیئرمین لیفٹیننٹ (ر)سہیل اشرف نے وفاقی دارالحکومت میں تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ترقی پسند اصلاحات متعارف کروانے ، تاجر برادری اور رہائشیوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(آئی سی سی آئی)کے صدر سردار طاہر محمود کی قیادت میں ایک اعلی سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ جس نے انھیں اپنے عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور کاروباری شعبے کو درپیش اہم مسائل بارے آگاہی دی۔وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے سی ڈی اے کے چیئرمین نے یقین دلایا کہ کاروبار کرنے میں آسانی کو بڑھانے، شہری انفراسٹرکچر کو جدید بنانے اور اسلام آباد کو ایک متحرک، سرمایہ کاری دوست شہر میں تبدیل کرنے کے لیے ٹھوس کوششیں کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ سی ڈی اے کمرشل ایریاز کی اسکائی لائن کو بلند کرنے، شہر کی خوبصورتی کو بڑھانے اور اسلام آباد کو ایک مسابقتی علاقائی اقتصادی مرکز کے طور پر پوزیشن دینے کے لیے جامع شہری منصوبہ بندی کے اقدامات کے لیے سرگرم عمل ہیں۔اس موقع پر آئی سی سی آئی کے وفد نے جذبہ خیر سگالی کے طور پر چیئرمین کو گلدستہ پیش کیا اور ان کی قیادت اور وژن پر اعتماد کا اظہار کیا۔وفد میں چیئر مین آئی سی سی آئی فانڈر گروپ طارق صادق، سابق صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی)اور آئی سی سی آئی عبدالرف عالم، سینئر نائب صدر طاہر ایوب، نائب صدر عرفان چوہدری اور آئی سی سی آئی رئیل اسٹیٹ کمیٹی کے چیئرمین اسرار الحق مشوانی شامل تھے۔

اس موقع پر سردار طاہر محمود نے سی ڈی اے کے چیئرمین کو کاروباری برادری کو درپیش اہم چیلنجز، خاص طور پر ریگولیٹری فریم ورک، شہری منصوبہ بندی اور انفراسٹرکچر کی رکاوٹوں سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام آباد، وفاقی دارالحکومت کے طور پر، ایک اہم علاقائی اقتصادی مرکز کے طور پر ابھرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے، بشرطیکہ فعال اور کاروبار دوست پالیسیوں کو مثر طریقے سے نافذ کیا جائے۔انہوں نے خاص طور پر فلور ایریا ریشو کو معقول بنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی جس سے ریئل اسٹیٹ اور تجارتی شعبوں میں اربوں روپے کی نئی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے فروٹ اینڈ ویجیٹبل مارکیٹ کی اپ گریڈیشن کی فوری ضرورت کو بھی اجاگر کیا جو جڑواں شہروں اور ملحقہ علاقوں کی ایک اہم فوڈ سپلائی چین ہے۔اس موقع پر فریقین نے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے قریبی رابطہ کاری اور ادارہ جاتی ہم آہنگی برقرار رکھنے اور اسلام آباد کو ایک ماڈل کیپٹل سٹی میں تبدیل کرنے کے لیے باہمی تعاون سے کام کرنے پر اتفاق کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔