Friday, February 13, 2026
ہومپاکستانپاکستانی طلبا کیلئے سعودیہ میں مکمل فنڈڈ انٹرن شپ، 1ہزار ڈالر ماہانہ دیا جائیگا

پاکستانی طلبا کیلئے سعودیہ میں مکمل فنڈڈ انٹرن شپ، 1ہزار ڈالر ماہانہ دیا جائیگا

اسلام آباد (سب نیوز)پاکستانی طلبہ کے لیے سعودی عرب میں فلی فنڈڈ انٹرن شپ کا اعلان کیا گیا ہے جس میں ایک ہزار ڈالر ماہانہ وظیفے کے ساتھ دیگر سہولیات بھی دی جائیں گی۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے اپنے وزٹنگ اسٹوڈنٹ ریسرچ پروگرام 2026 کے لیے باضابطہ طور پر درخواستوں کا آغاز کر دیا۔یہ مکمل طور پر فنڈڈ بین الاقوامی تحقیقی انٹرنشپ پروگرام پاکستان سمیت دنیا بھر کے انڈرگریجویٹ اور ماسٹرز طلبہ کے لیے دستیاب ہے۔اس پروگرام کے تحت منتخب امیدواروں کو ماہانہ ایک ہزار امریکی ڈالر وظیفہ دیا جائے گا جب کہ رانڈ ٹرپ ہوائی ٹکٹ، کیمپس میں مفت رہائش، مکمل ہیلتھ انشورنس، ویزا سپورٹ اور جدید لیبارٹریز تک رسائی بھی فراہم کی جائے گی۔
انٹرن شپ کی مدت 3 سے 6 ماہ ہوگی اور شرکا عالمی شہرت یافتہ فیکلٹی کی نگرانی میں تحقیقی منصوبوں پر کام کریں گے۔پروگرام سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے مختلف شعبوں میں مواقع فراہم کرتا ہے، جن میں کمپیوٹر سائنس، انجینئرنگ، انرجی اسٹڈیز، ماحولیاتی سائنس اور حیاتیاتی علوم شامل ہیں۔ اس دوران طلبہ کو عالمی معیار کی تحقیق اور جدید سائنسی طریقہ کار سے براہِ راست آگاہی حاصل ہوگی۔ پاکستان سمیت تمام ممالک کے انڈرگریجویٹ (کم از کم تیسرے سال)اور ماسٹرز طلبہ درخواست دے سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا کم از کم جی پی اے 3.5 ہو۔ انگریزی زبان پر عبور ضروری ہے تاہم IELTS یا TOEFL لازمی نہیں۔ پی ایچ ڈی کے طلبہ، KAUST کے موجودہ اور سابق طلبہ اس پروگرام کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔درخواست آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کرائی جائے گی، جس کے لیے تازہ ترین سی وی، سرکاری تعلیمی ٹرانسکرپٹ، سفارشی خط، ذاتی بیان اور کارآمد پاسپورٹ کی نقل درکار ہوگی۔
درخواستیں پورے سال قبول کی جاتی ہیں اور شارٹ لسٹ امیدواروں کو چند ہفتوں میں مطلع کیا جاتا ہے۔ دلچسپی رکھنے والے امیدوار KAUST کی سرکاری ویب سائٹ پر اکانٹ بنا کر مطلوبہ معلومات اور دستاویزات اپ لوڈ کرنے کے بعد اپنی درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔KAUST کا وزٹنگ اسٹوڈنٹ ریسرچ پروگرام ابھرتے ہوئے محققین کے لیے ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے، جو تحقیقی مہارتوں کے فروغ اور بین الاقوامی تعلیمی روابط کے قیام میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔