دبئی (سب نیوز)بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر)پر اپنے بیان میں اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ملک بھر میں بحریہ ٹاون کی تمام سرگرمیاں بند کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ حالیہ چند ماہ میں حکومتی اداروں کی جانب سے دباو اور مختلف کارروائیوں کی وجہ سے بحریہ ٹاون کا آپریشن شدید متاثر ہو چکا ہے۔
ملک ریاض نے ایکس (سابق ٹویٹر)پر اپنے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ ان کے خلاف حکومتی اداروں کی جانب سے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں درجنوں اسٹاف ارکان کی گرفتاری، کمپنی کے بینک اکاونٹس کی منجمدی، عملے کی گاڑیوں کی ضبطی اور دیگر سخت اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں بحریہ ٹاون کی رقوم کی روانی بالکل تباہ ہو چکی ہے اور روزمرہ سروسز فراہم کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنے دسیوں ہزاروں اسٹاف کی تنخواہیں ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں اور حالات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ہم پاکستان بھر میں بحریہ ٹاون کی تمام سرگرمیاں مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ تاہم، ملک ریاض نے اس قدم کو آخری قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی بھی اس فیصلے سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ رکھتے ہیں، مگر زمینی حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ملک ریاض نے یہ بھی کہا کہ یہ صورت حال ادارے کے بنیادی ڈھانچے کو مفلوج کر چکی ہے، جو پچاس ہزار محنتی افراد پر مشتمل ہے۔
انہوں نے دعوی کیا کہ کئی سینئر ملازمین لاپتہ ہیں، سروسز معطل ہیں، ترقیاتی منصوبے رک چکے ہیں اور کمیونٹیز میں معمول کی دیکھ بھال اور سہولتیں شدید متاثر ہو چکی ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہ کیفیت وطنِ عزیز کی معیشت کے لیے بھی کسی شدید بحران سے کم نہیں، کراچی سے لاہور اور اسلام آباد تک بحریہ ٹان میں لاکھوں پاکستانیوں کی کھربوں روپے کی سرمایہ کاری منجمد ہو چکی ہے، سیکڑوں ارب روپوں کی کمرشل منصوبے تکمیل سے پہلے ڈھیر ہو چکے ہیں۔ملک ریاض نے اپنے بیان میں حکومت سے مذاکرات کی پیشکش بھی کی ہے تاکہ مسائل کا حل نکالا جا سکے اور ادارے کی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔
ملک ریاض کا بحریہ ٹاون کی بندش کا عندیہ، مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی پیشکش
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

