ہومپاکستانوفاقی کابینہ ، 60 روز میں حلف نہ اٹھانے والے ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ، آرڈیننس منظور

وفاقی کابینہ ، 60 روز میں حلف نہ اٹھانے والے ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ، آرڈیننس منظور

اسلام آباد ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدر ی فوادحسین نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ڈاکٹر محمد اشفاق کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کا نیا چیئرمین تعینات کردیا ہے،60روز میں حلف نہ اٹھانے والے ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ ہو جائیگی جس کا آرڈیننس جاری کر دیا گیا ہے،بھارت افغانستان کے اندر مداخلت سے باز رہے، بھارت کی جانب سے افغانستان میں امن کے لیے ہونے والی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں سامنے آرہی ہیں، بھارت یا کسی اور کو اس عمل کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، نادرا کو سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے لیے جلد معاملات طے کرنے کو کہا گیا ہے، پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی اورسیز پاکستانیز کو ووٹ کا حق نہیں دینا چاہتی ہے، کووڈ کی صورت ایک دو دن میں بہتر نہیں ہوئی تو ہمیں صنعت کیلئے گیس کی فراہم کم کرنی پڑے گی تاکہ مریضوں کو آکسیجن فراہم کی جاسکے۔منگل کووزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں الیکشن آرڈیننس(تیسری ترمیم)کی منظوری دی ہے، یہ اہم آرڈیننس زیر التواتھا، اس آرڈیننس کے تحت جن لوگوں نے 60 دن کے اندر اپنے عہدوں کا حلف نہیں اٹھایا، تو ان کی رکنیت ختم ہو جائے گی۔ کابینہ نے اس آرڈیننس کو جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔ ایسے تمام لوگ جنہوں نے اپنے عہدوں کا حلف نہیں اٹھایا، اس آرڈیننس کی منظوری کے بعد وہ اپنی نشست کھو دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ طویل عرصے کے بعد پہلی مرتبہ ہندوستان سے ٹی ٹی پی کو فنڈنگ کا سلسلہ رکا ہے، جہاں تک پاکستان کے اندر ان کی کارروائی کا تعلق ہے، پاکستان کمزور ملک نہیں، ہم ان چیلنجوں سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ وفاقی کابینہ نے 37 نئی ادویات کی قیمتیں تعین کرنے کی بھی منظوری دی۔انہوں نے بتایا کہ 12 ایسی ادویات ہیں جو پاکستان میں موجود تھیں، ان کی قیمت میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ کابینہ نے ڈاکٹر ندیم ظفر کو ادارہ شماریات کا سربراہ تعینات کرنے اور ڈاکٹر احمد مجتبی کو انٹیلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کے چیئرمین کا اضافی چارج دینے کی بھی منظوری دی۔وفاقی وزیراطلاعات و نشریات چوہدری فوادحسین نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہم افغانستان میں پھنسے ہوئے غیرملکی افراد کے انخلا کے لیے ماحول بنا رہے ہیں تاکہ انہیں محفوظ مقام میں منتقل کیا جاسکے، پی آئی اے اب تک 1500سے زائد افراد کو منتقل کرچکا ہے، ہم غیرملکیوں کے لیے اپنی سرحدیں کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس وقت پاکستان نے کابل میں موجود ان لوگوں کے لیے اپنی فضائی اور زمینی سرحد کھول دی ہے، جو افغان نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے شہریوں کے لیے طالبان نے عام معافی کا اعلان کردیا ہے اور وہاں کے موجودہ حکام نے اپنے شہریوں کو باہر جانے روک دیا ہے، قابل قبول وجہ یا دستاویزات کے ساتھ پاکستان آنے والوں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ میں زور دیاگیا کہ بھارت افغانستان کے اندر مداخلت سے باز رہے، بھارت کی افغانستان کے ساتھ کوئی سرحد نہیں ملتی، اس کے باوجود اس نے گزشتہ حکومت میں افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کیا، بھارت کی جانب سے افغانستان میں امن کے لیے ہونے والی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں سامنے آرہی ہیں جبکہ پاکستان امن کا شراکت دار ہے، اس لیے ہم بھارت یا کسی اور کو اس عمل کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔کابینہ اجلاس سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ووٹنگ کے اس نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں مسلسل کوشش ہو رہی ہے کہ ان90لاکھ پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہ ملے اور ملک کے اندر اصلاحات نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے اس رویے کی مذمت کی ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے دھاندلی پر احتجاج پر معاملہ جوڈیشل کمیشن کے پاس گیا تھا،اس کمیشن کی سربراہی سابق چیف جسٹس نے کی تھی اور انہوں نے36سفارشات دی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان36سفارشات میں زیادہ تر اس حوالے سے تھیں کہ جب ووٹنگ کا عمل ختم ہوتا تو اس کے بعد گنتی تک سارا معاملہ خراب ہوتا ہے، اور ای وی ایم اس دوران ہونے والی دھاندلی اور مسئلے کو ختم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم جو اصلاحات کر رہے ہیں، اس میں اس جوڈیشل کمیشن کی سفارشات بنیادی حصہ ہیں اور ہم اس کے مطابق آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔وزیراطلاعات نے کہ نادرا کو سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے لیے جلد معاملات طے کرنے کو کہا گیا ہے، اگر بیرون ملک موجود شہریوں کی ترسیلات نہ ہوتی تو ہماری معیشت انتہائی خراب ہوتی، ہماری معیشت لڑکھڑا جاتی لیکن ہم اس کو ووٹ کا حق بھی نہ دیں گے تو بڑی ناکامی ہوگی، پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی یہ حق نہیں دینا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کووڈ پر معاملات بہتر ہو رہے تھے لیکن خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہسپتالوں میں تعداد دوبارہ 1500ہوگئی ہے اور 70فیصد آکسیجن استعمال ہو رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کووڈ کی صورت ایک دو دن میں بہتر نہیں ہوئی تو ہمیں صنعت کے لیے گیس کی فراہم کم کرنی پڑے گی تاکہ مریضوں کو آکسیجن فراہم کی جاسکے۔کابینہ اجلاس کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عورتوں کے خلاف ہونے والے واقعات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مینار پاکستان جیسے واقعات معاشرے کے ہر طبقے کے لیے تشویش ناک ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس پر بڑا مذاکرہ ہو اور اس میں مختلف طبقات کے لوگوں کو دعوت دی جائے گی تاکہ وہ سوشل میڈیا پر ہونے والے معاملات فکری بحث کریں اور طے ہو کہ کیا قواعد و ضوابط ہونے چاہیئں۔ان کا کہنا تھا کہ اعلی سطح کی کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے، جس میں معروف علمائے دین، دانشور اور سول سوسائٹی کے لوگ اس میں شامل ہوں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔