تحریر: سردارساجد محمود خان
@sajid_mehmood_5
جیساکہ پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ پاکستان کے ٹیکس کا بڑا حصہ کراچی دیتا ہے اور اس ٹیکس کی بنیاد کراچی کا مزدور ہے
یہ بات کوئی بھی نہیں جانتا کہ مزدور کے نام پر پورے ملک میں کئی تنظیمیں بھی ہیں لیکن متحرک کوئی بھی نہیں کیونکہ مختلف ترغیبات کے ذریعے انہیں خاموش کرادیا گیا ہے۔
مزدور کے نام پر کئی پارٹیاں بھی ہیں مزدور کے نام پر کئی این جی اوز بھی ہیں مزے کی بات مزدور کے نام پر یوم مزدور بھی ہے اور اس دن مزدور کام کرتا ہے اور آفیسر کلاس آرام کرکے مزدور کی جگہ یوم محنت کش مناتے ہیں
مزدور کے لئے آج تک سوائے ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے علاوہ کسی نے نہیں سوچا اورایک بات یہ بھی ہے کہ اب مزدور کیلئے لکھنا بھی مناسب نہیں سمجھتا۔ میری گزارش ہے حکومت وقت تبدیلی کو نچلی سطح پر لے کر آئے تاکہ جو لوگ پاکستان کی بنیاد ہیں ان کے حالات بہتری کی طرف جائیں ۔ حکومت پورے ملک میں لیبر لا پر سختی سے عملدرآمد کرائے۔ سرمایہ دار کاغذات میں لیبر کے تمام حقوق دیتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے
کراچی کے مزدور
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
پچھلی خبر
اگلی خبر
