Monday, May 18, 2026
ہومکالم وبلاگزبلاگزکراچی کا ماٹا پان ریلوے اسٹیشن

کراچی کا ماٹا پان ریلوے اسٹیشن

تحریر:عبدالمتین

@PrinceMateenk

آنکل شاہد حسین کی زبانی
سن 1975ءمیں ہم اپنے پرانے گھر کو چھوڑ کر کھوکھراپار ملیر منتقل ہوگئےجیسا کہ آپ کو معلوم ہے پچھلی جنت ہم نے 700روپے میں خریدی تھی چونکہ پہلے کے مقابلے میں مہنگائی زیادہ ہوگئی تھی سو یہ جنت ساڑھے نو ہزارمیں خریدی گئی۔
اماں کا سارا زیوربک گیا یہاں تک کہ قریبی رشتے داروں سے ادھار لینے کی نوبت آگئی۔
کچھ رقبہ بڑ ہو گیا تھا پر یہاں بھی کے ڈی اے کا ایک کمرہ اور چہار دیواری تھی ہمارا ہی نہیں سب کے گھر ایسے ہی تھے۔ ہماری گلی میں یوپی کے ضلع بدایوں کے رہنے والوں کی اکثریت تھی جو کہ تمام تعلیم یافتہ اور شعبہ تعلیم سے وابستہ تھے۔ اس گلی کی سب سے قابلِ ذکر بات یہ تھی کہ ہر گھر کے باہر گل عباس اور سدا بہار کے پھول اپنی جانب دیکھنے والوں کے دل کو لبھاتے تھے۔
یہی وجہ تھی کہ پورے کھوکھراپار میں یہ گلی پھول والی گلی کے نام سے معروف تھی کسی بھی نووارد کا یہ کہنا کہ مجھے پھول والی گلی جانا ہے ہر بچہ بڑا گلی کے کونے پر چھوڑ جاتا۔ صبح صبح دفاتراوراپنے اپنے پیشے پر جانے والے کئی احباب کے ہاتھ میں ایک تھیلی ہوتی جس میں گلی میں ہوا سے اڑ کر آنے والے کاغذ اور ٹافیوں کے ریپراپنی تھیلی میں جمع کر لیتے اور گلی کے نکڑ پر قائم کچرا کنڈی کے سپرد کردیتے شام کو دفاترسے واپسی پر بھی ان کا یہی معمول تھا۔ اس معمول ہی کا اثر تھا کہ گلی کی خواتین اور بچے بھی اپنے اپنے گھروں کے آگے صفائی کا اہتمام رکھتے تھے۔
گلیاں کچی تھیں جن پر جھاڑو لگا کر پانی چھڑک دیا جاتا اوراس کام کوکرنے میں کسی قسم کا عار محسوس نہیں کیا جاتا آج کی طرح نہیں کہ جوان بچوں کو کہو کہ یہ ڈسٹ بن کچرا کنڈی میں پھینک آؤ تو شرم کے مارے پاؤں من من بھرکے ہو جاتے ہیں۔ یہیں پر ہم نے مشہور شاعر دلاور فگار مرحوم جنکا تعلق بھی بدایوں سے تھا پہلی دفعہ دیکھا جو اکثر خاندان کی خوشی غمی میں شرکت کے لیے تشریف لاتے تھے۔
گھر کے سامنے کا سارا علاقہ صحرا کا منظر پیش کرتا تھا سعودآباد ملیر سے لے کر کھوکھراپار 6 نمبرتک اکا دُکا جھاڑیاں تھیں باقی سارا دن یہاں ریت اڑتی رہتی تھی شاید اسی لیے اسے کھوکھراپار کا نام دیا گیا تھا۔ اب اس وسیع و عریض علاقے پر کئی سوسائٹیز جیسے انڈس مہران،کوثر ٹاؤن،پاک کوثرٹاؤن وجود میں آچکی ہیں۔ صبح سات بجے ڈیوٹی پر جانے والے سارے کھوکھراپار سے پیدل لوگ ماٹا پان ریلوے اسٹیشن کی طرف رواں دواں ہوتے تھے۔ لوکل ٹرین جو ملیر کینٹ سے سٹی اسٹیشن تک جاتی تھی شام کو واپس لوگ اسی ٹرین میں ماٹا پان ریلوے اسٹیشن تک آتے اسی طرح جوق درجوق پیدل اپنے گھروں کی طرف واپس ہوتے۔
آج نوجوانوں سے کہہ دیا جائے کہ سعود آباد سے روٹی لا دو تو موٹر سائیکل تلاش کرنے میں لگ جاتے ہیں موٹر سائیکل ہوگی تو جائیں گے ورنہ مجال ہے کہ ٹانگوں کو تکلیف دے لیں۔ ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ اس زمانے میں روپے پیسے کی اتنی فراوانی نہیں تھی جتنی اب ہے ہمارے گھر کے سامنے سے گذرنے والی کے ٹی سی کی بس سعودآباد تک چار آنے لیتی تھی چار آنے کی اہمیت کوئی ہم سے پوچھے کہ صبح شمع ملت اسکول سعودآباد جانے کے لئے ملتے تھے جسے بچانے کے لیے گھرسے جلدی نکل کر پیدل اسکول پہنچ جاتے یوں وہ چار آنے اپنی،،عیاشیوں،، پر خرچ کرتے۔
اسی صحرا میں بارشوں میں اپنے دوستوں کے ساتھ بیر بوٹیوں کو ڈھونڈنے کے لیے دور تک نکل جاتے واپسی میں ہماری بوتلیں بیر بوٹیوں سے بھری ہوتیں جسے ہمارے علاقے کے مشہور حکیم الطاف حسین حاذق خرید فماتے کسی کو چونی اور کسی کے حصّے میں اٹھنی آتی جسے ہاتھ میں لیکر خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ اسی طرح ہر ہفتے خواتین اور بچوں کے جھنڈ پکاڈلی سنیما کی طرف پیدل رواں دواں ہوتے جو اس صحرا کو پار کرکے ملیر کینٹ کی حدود میں واقع تھا۔ جس کا ٹکٹ صرف پچاس پیسے تھا شام کو وہی عورتوں اور بچوں کا ہجوم اندھیرا ہونے کے ڈر سے جلدی جلدی ان جھاڑیوں سے بچتا بچاتا صحرا کو عبور کرکے اپنے گھروں کو لوٹتا۔
ہماری عزیز ترین پھوپھی صاحبہ کراچی جی پی او کمپاونڈ کے اسٹاف کوارٹر میں رہائش پذیر تھیں جب جب ان کے گھر جانے کی بات چلتی ہماری خوشی دیدنی ہوتی یوں ہم ماٹا پان ریلوے اسٹیشن ملیر کینٹ سے لوکل ٹرین کے ذریعے سٹی اسٹیشن جاتے وہاں سے پیدل کراچی جی پی او پہنچ جاتے۔ ایک دفعہ میں والدہ اور دیگر چھوٹے بھائی پیدل ماٹا پان ریلوے اسٹیشن کے لیے روانہ ہوئے چھ سات منٹ کا سفر باقی تھا کہ اسٹیشن کی طرف ٹرین آتی نظر آئی یہ دیکھ کر ہم سب کے اوسان خطا ہو گئے سب سے چھوٹے بھائی کو میں نے گود میں اٹھایا دیگر بھائیوں کو تقریباً گھسیٹتی ہوئی اماں نے بھاگنا شروع کیا ٹرین اسٹیشن پر رک چکی تھی دو منٹ کا اسٹاپ تھا ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی ٹرین نے رینگنا شروع کر دیا ادھر اماں کا برا حال برقعہ سنبھالیں یا بچے اتنی دور سے ہی ہاتھ ہلانا شروع کر دیا،،اےبھیا روک دے ،اےبھیا روک دے آوازکیا خاک پہنچتی ٹرین تھوڑی سی اور تیز ہوگئی اس کے ساتھ ہی اماں نے بے قراری سے دونوں ہاتھ اٹھا کر رکنے کا اشارہ کیا دور سے ٹرین ڈرائیور نے دیکھا کہ ایک عورت اور اس کے بچے بھاگے چلے آرہے ہیں تو ناجانے اس کے دل میں کیا آئی کہ اس نے ٹرین روک لی اور اس وقت تک روانہ نہ ہوئی جب تک کہ ہم سوار نہ ہو گئے۔ آج ماٹا پان ریلوے اسٹیشن مٹ چکا ہے لیکن مجھ سمیت کتنے ہی لوگوں کی یادیں اس اسٹیشن سے جڑی ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔