تحریر: سہیل احمد چوہدری
@iSohailCh
سب سے پہلے تو اس تحریر کا اس سے کوئی تعلق نہیں کہ فیصل آبادی ہونے کے ناطے کوئی رعائت بنتی
یہ پاکستان کا ایسا علاقہ ہے جہاں کوڑا کرکٹ اٹھانے والا بھی چوہدری ہے
یہاں وہ مثال بہت فٹ آتی ہے
معذرت کے ساتھ ضرورت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنانا عام روایت ہے
رہی بات سادگی کی تو اس کا اندازہ آپ سڑک پر چلتے سواری سے لگاسکتے ہیں
ٹریفک سینس از نان سینس
موٹر سائیکل والا پہلی لائن میں چلنا فخر سمجھتا ہے
کار کے انڈیکیٹر دینے کے باوجود آپ کو اپنا ہاتھ باہر نکال کر بھی مڑنے میں غنیمت جاننی پڑتی ہے
جنہوں نے خدا کی قدرت کو صحیح معنوں میں دیکھنا ہے وہ یہاں ایک ہفتہ رہ کر ضرورمشاہدہ کریں
رب کی راہ میں دو دو لاکھ کے ختم اور لاکھوں روپے کی ہر سال قربانی
ہر ایک کا اپنا فتوی ساتھ 40 سال سے رہنے والے ہمسائے کی ٹپکتی چھت اور غربت پر کوئی خیال عام روٹین
بہادری بس نام کی جتھے کی شکل میں لڑنا واہ بھئی واہ
منافقت ہی منافقت
جادو کی جپھی پر دلوں میں کھوٹ
پرانی روایات کو نظر لگانے میں نئی نسل کا کروڑوں دفعہ ہاتھ
لڑکوں کی سادگی اور گھروں میں سختی دیکھ کر دوسرے شہر کے لوگوں کا ان کو پینڈو تصورکرنا یہاں ایک چیز جو نامور ہے وہ ہے ہر بندہ مزاح میں اپنی مثال آپ
جتنی ٹینشن لیتے ہیں اس کو مزاحیہ الفاظ میں عملی جامہ پہنانے کا فن ان کو خوب آتا ہے
جو کہتے ہیں زندہ دلان لاہور
شاید اب غلط ہے
یہاں سب سے جو عام روایت مشہور ہے وہ یہ کہ دوسرے کا منہ لال دیکھ کر ہر کوئی اپنا منہ چاہے چپیڑیں مار کر لال کرے کرتا ضرور ہے اتنے سادہ لوگ ہیں۔
سیاست ہو کاروبار ہو گھر ہوں زندگی کے ہر شعبے میں لوگ لکیر کے فقیرہیں دھوکہ کھاکے پھر وہی زہر کھانے پر بضد ضرور ہیں
اتنا انجوائے کرتے ہیں کہ ہروقت دوسروں کی ترقی کو دیکھ دیکھ کرنظر رکھتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں پر خود کو نہیں بدلتے۔
دوسروں کو بے وقوف بنا کر دوستوں میں قصے سنانا عام روایت یے ہر کوئی ایک دوسرے کو لوٹنے میں مصروف
30 برس پیچھے چلے جائیں کیا یہی ہماری روایات تھیں؟
آپ پر چھوڑتا ہوں کچھ آپ کی بھی زمہ داری؟
