ہومشوبزلوک فنکار علن فقیر کو مداحوں سے بچھڑے 21 برس بیت گئے

لوک فنکار علن فقیر کو مداحوں سے بچھڑے 21 برس بیت گئے

اسلام آباد، پاکستان کے لوک فنکار علن فقیر کو مداحوں سے بچھڑے 21 برس بیت گئے۔

سندھ کا روایتی لباس پہن کر مخصوص انداز میں صوفیانہ کلام پیش کرنے والے علن فقیر وادی سندھ کی تہذیب اور ثقافت کے علمبردار تھے۔ سندھ کے ایک چھوٹے سے گاوں میں پیدا ہونے والے علن فقیر کا تعلق منگراچی قبیلے سے تھا جنہیں صوفی بزرگ شاہ عبداللطیف بھٹائی سے خاص عقیدت تھی۔ایک عرصے تک ان کے مزار پر سکونت اختیار کیے رکھی جہاں وہ ان کا کلام پڑھا کرتے تھے۔ گلوکار محمد علی شہکی کے ساتھ گائے گیت نے انکی شہرت کے ڈنکے بجا دیے۔تیرے عشق میں جوبھی ڈوب گیا اسے دنیا کی لہروں سے ڈرنا کیا اور اتنے بڑے جیون ساگر میں تو نے پاکستان دیا ان کے مقبول ترین نغمے ہیں۔علن فقیر کو انکی خدمات پر حکومت پاکستان نے 1980 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ 4 جولائی سن 2000 کو کراچی کے مقامی ہسپتال میں انتقال کر گئے مگر وہ آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔