ہومکالم وبلاگزمیرا دیس جل رہا ہے

میرا دیس جل رہا ہے


فرانس میں سرکاری سطح پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلم دنیا سے سخت ردعمل دیکھنے کو ملا۔تحریک لبیک پاکستان نے بھی اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا۔ جسے حکومت کے ساتھ معاہدے کے بعد ختم کر دیا گیا۔ اس معاہدے میں درج تھا کہ حکومت فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرے گی اور اپنا سفیر مقرر نہیں کرے گی اور تحریک لبیک کے گرفتار کارکنوں کو رہا کرے گی۔ آخری دو مطالبات پر فوری عمل ہو گیا مگر فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا معاملہ لٹک گیا اور حکومت نے کہا یہ معاملہ 20 اپریل 2021 تک پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا اور فیصلے پارلیمنٹ کی منظوری سے طیپائیں گے۔ حکومت مہنگائی پر تو قابو پا نہیں سکی مگر لاہور پولیس کے سربراہ نے تحریک لبیک کے امیر علامہ سعد رضوی کو گرفتار کرلیا تا کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رہے۔ مگر ایسا نہ ہوسکا دیکھتے دیکھتے پورے ملک کی فضا کشیدہ ہوگئی۔ سعد حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے شروع ہوگئے۔ایسا ممکن نہیں کہ حکومت کو معاملے کی حساسیت کا علم نہیں تھا احتجاج میں تشدد کا عنصر نمایاں تھا۔ حکومت وقت کی غفلت سے دو پولیس اہلکار شہید اور90 زخمی ہوگئے۔ حکومت کی اپنی غلطی کی وجہ سے ملکی معیشت کو کتنا نقصان ہوا_ باقی ہمیں یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ کیا ہم اصل میں عاشق رسول ہیں بھی یا نہیں یا محض ہم ایک ڈرامہ کر رہے ہیں کیا ہم بحیثیت قوم امت محمدی کا حق ادا کر رہے ہیں پہلے ہم یہ خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں تو کیا ہم عاشق رسول ہیں ہم اس ملک کے باشندے ہیں جس کی قوم کم تولتی ہے، ملاوٹ کرتی ہے، جھوٹ بولتی ہے ،یتیم کا حق کھاتی ہے۔ بچوں سے ریپ کرتی ہے اور منافع خوری کرنے والے کو کیا یہ حق ہے کہ وہ عاشق رسول کہلائے فیصلہ کاری پہ چھوڑتا ہوں۔ ہمیں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ تہذیب جب طبقات میں بٹ جاتی ہے تو خیالات کی نوعیت بھی طبقاتی ہوجاتی ہے اور جس طبقے کا غلبہ معاشرے کی مادی قوتوں پر ہوتا ہے اسی طبقے کا غلبہ زہنی قوتوں پر بھی ہوتا ہے۔ سماجی اقتدار کسی معاشرے میں اخلاق و عادات، رسم و رواج، حسن و جمال ،اور فن کے جو معیار ہوتے ہیں وہی اسی معاشرے کی سماجی اقتدار کہلاتیں ہیں یہ قدریں کسی مجلس شوری میں وضع نہیں کی جاتیں اور نہ ہی قانون کے ذریعے نافذ ہوتی ہیں بلکہ ان کے پیچھے صدیوں کی تاریخی روایات ہوتی ہیں_ معاشرہ کی جہد ہوتی ہے اس کے تجربے اور مشاہدے ہوتے ہیں اس کا جمالیاتی ذوق ہوتا ہے اور ان سب سے سماجی قدر یں رفتہ رفتہ تشکیل پاتی ہیں_ معاشرے کے تمام افراد ان قدروں کی حتی الوسع پابندی کرتے ہیں مگر بدقسمتی سے یہ ہمارے ہاں موجود نہیں۔ جب پورا ملک جل رہا تھا تو وزیرداخلہ صاحب کہاں تھے جو عاشق رسول ہونے کا دعوی بھی کرتے ہیں 24 گھنٹے گزرنے کے بعد ان کو یاد آیا کہ میں نے تو پریس کانفرنس کرنی تھی حکومتیں جب دھنیا پی کر ٹھنڈی ہو جائیں تو پھر معاشرے میں تشدد بھی نظر آئے گا اور لاشیں بھی گریں گی اور سونے پر سہاگا یہ کہ اب حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے اور معاہدے کو بھول گئے ہیں وزیراعظم صاحب آنکھیں کھولیں اور میرے دیس کو جلنے سے بچائیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔