Monday, May 18, 2026
ہومبریکنگ نیوزمراد سعید نے صحافیوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوام کو خط لکھ دیا

مراد سعید نے صحافیوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوام کو خط لکھ دیا

اسلام آباد:رہنماء تحریک انصاف مراد سعید کا پاکستان کے صحافیوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوام کو خط لکھ ددیا۔ پی ٹی آئی سینٹرل میڈیا ڈپارٹمنٹ کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق مراد سعید نے خط میں رجیم چینج آپریشن کے بعد شروع ہونے والے سنگین نوعیت کے جعلی مقدمات اور دھمکیوں کے سلسلے کی نشاندہی کی گئی ہے ۔

مراد سعید نے ان کو جان سے مارنے کے متعدد منصوبوں کی تفصیل بھی خط میں بیان کی ہے خط میں مراد سعید نے اپنے خاندان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی گئی قربانیاں بھی قوم کے سامنے رکھی ہیں۔خط کے متن کے مطابق اپنے سیاسی کرئیر کے آغاز سے لے کر اب تک میرا کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

گزشتہ برس رجیم چینج آپریشن کے بعد مجھ پر لاتعداد سنگین نوعیت کے جعلی کیسز درج کیے جاچکے ہیں، ان کیسز میں دہشت گردی، بغاوت، غداری جیسی سنگین دفعات شامل ہیں،مراد سعید یہ مقدمات اس پراپگینڈے اور ان دھمکیوں کے علاوہ ہیں جن کا سامنا میں اور میرا خاندان گذشتہ ایک برس سے کر رہا ہے، میرا تعلق دہشتگردی سے متاثرہ سوات کی تحصیل کبل سے ہے۔

2008 میں ہونے والے سوات آپریشن میں نہ صرف گھر تباہ ہوا بلکہ مارٹر شیل لگنے سے میری والدہ طویل عرصے تک کومہ میں رہیں، سوات سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر سوات کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر ممکن کوشش بروئے کار لائی، مارچ 2022 میں ایک تقریر کے بعد پارٹی لیڈران کو یہ دھمکی دی گئی کہ وہ مجھے نشان عبرت بنا دیں گے، حکومت تبدیلی کے کچھ ہی عرصہ بعد دیگر رہنما ئوں کے ساتھ ساتھ مجھ پر بھی لغو اور بے بنیاد مقدمات کا اندراج شروع ہوگیا، ان ایف-آئی-آرز کا سلسلہ اور ان میں عائد کی جانی والی دفعات کی سنگینی میں گزشتہ ایک برس سے مستقل اضافہ ہورہا ہے، مختلف ذرائع سے تواتر کے ساتھ پراپیگینڈہ مہم کے ساتھ ساتھ میرے خاندان کو مستقل دھمکیاں دیے جانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

، پاکستان میں دہشت گردی کی واپسی کے گھنانے منصوبے کا خدشہ ظاہر کرنے پر شرانگیزی پھیلانے کا الزام لگایا گیا، امن کی خواہش پر بھی مجھے متعدد مزید جعلی ایف-آئی-آرز کا سامنا کرنا پڑا، نہ صرف سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں بلکہ اسلام آباد میں میری رہائش گاہ پر رات کے دو بجے مسلح افراد کو بھجوایا گیا، کتوبر 2022 میں ملک کے مایہ ناز صحافی اور میرے قریبی دوست ارشد شریف کا کینیا میں بہیمانہ قتل ہوا، ارشد شرہف کے جنازے کے بعد مجھے ان کے گھر سے اٹھانے کا منصوبہ تھا جس کی بروقت خبر موصول ہونے پر وہاں سے نکلنے میں بمشکل کامیاب ہوا۔

عمران خان پر حملہ اور ارشد شریف کی شہادت کے بعد میری تقاریر پر ریاستی اداروں کی جانب سے غیض و غضب کا اظہار کیا گیا، فروری 2023 میں پشاور دھماکے کے بعد امن مارچ کے انعقاد سے ایک رات قبل دبے الفاظ میں دھمکی دی گئی، اپریل 2023 سوات میں سی-ٹی-ڈی پولیس سٹیشن پر حملہ کیا گیا جو میرے آبائی گھر سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ہے، واقعہ کے فورا بعد غیر ملکی نمبر سے پیغام موصول ہوا کہ اس حملے کا نشانہ میں خود تھا لیکن فی الوقت اس حملے کو انتباہ سمجھا جائے۔

، اپنے لوگوں کا امن مانگنے کی پاداش میں مجھ پر درج مقدموں میں مزید اضافہ ہوا اور عوام کو بغاوت پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا، اس تمام عرصہ میں میرے قتل کے حوالے سے متعدد پلان تشکیل دیے گئے، مئی کے اوائل میں چند صحافیوں کی جانب سے یہ بیانیہ پھیلایا گیا کہ تحریک انصاف کی قیادت میں سے کسی کو گرفتاری کے بعد دوران حراست قتل کردیا جائیگا، میرے قتل کے منصوبے کو تشکیل دینے کا الزام عمران خان پر ڈالا گیا، سی ٹی ڈی تھانے پر حملے کے بعد کے پرامن احتجاج کو بہانہ بنا کر گرفتاری کی آڑ میں گولی مارنے کا منصوبہ بنایا گیا، مئی کی رات سے ہی سوشل میڈیا پر منظم کیمپئن لانچ کردی گئی کہ میں نے بلوائیوں کو عسکری تنصیبات کی جانب پیش قدمی کے آحکامات دیے۔

میرے آڈیو پیغامات کو “لیکڈ کالز” کہہ کر پھیلایا گیا حالانکہ وہ پہلے سے ہی تمام آفیشل سوشل میڈیا اکانٹس سے شئیر کیے جاچکے تھے، تمام تر واقعات کے تفصیلی بیان کا مقصد اپنی قوم کو اس بات سے آگاہ رکھنا ہے کہ زندگی اور موت کی مختار ایک اللہ کی ذات ہے، یہ قوم اس امر پر گواہ رہے کہ میں نے کبھی نہ اپنے ملک کا برا سوچا ہے نہ کبھی اس کے مفاد پر اپنی ذات کو مقدم رکھا ہے، جب تک اللہ نے زندگی کی معیاد لکھ رکھی ہے میں اپنے لوگوں کی جنگ لڑتا رہوں گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔