سکردو (آئی پی ایس) ملک کو اندرونی و بیرونی چیلنجز درپیش ہیں، مشکل کی ہر گھڑی میں تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے یکجہتی کا ثبوت دیا.
علما کرام وطن کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں، فروعی اختلافات اور ذاتی رنجشوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے منظم و متحد نظریے کی ترویج کے لیے علما کرام کواپنا فعال کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے، علما کرام عوام کو نظریہ پاکستان و پیغام پاکستان سے آگاہ کریں. علما کرام نہ صرف اپنی مسلح افواج کے ساتھ ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر میدانوں میں بھی کھڑے ہوں گے۔
ان خیالات کا اظہار جمعیت اہلحدیث بلتستان کے مرکزی رہنما مفتی عبدالقادر رحمانی، صدر پیغام پاکستان کانفرنس مفتی عبدالطیف بہاولپوری، انجمن نوربخشیہ صوفیہ کے رہنما مفتی علی محمد ہادی، اہل تشیع اسکردوکے مرکزی رہنما علامہ جواد حافظی، مسلم لیگ ن بلتستان کے مرکزی رہنما طاہر شگری، مسلم یوتھ فیڈریشن کے صدر حفیظ الرحمان، مقصود حسین صدر پیغام پاکستان جی بی،محمد شریف صدر پیغام پاکستان سکردو،عمران شگری صدر پیغام پاکستان شگر نے پیغام پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
پیغام پاکستان سکردو کے شرف الدین سحر جنرل سیکرٹری اور سوچ عورت آرگنائزیشن کی صدر ریحانہ عزیز،پارسا فاطمہ، دیا زہرا بلتی و دیگر سماجی تنظیمات کے عمائدین و نمائندگان نے ڈی جی آر ای کے تحت پیغام پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں بڑی تعداد میں شرکا نے شرکت کی مقررین نے کہا کہ پاکستان کی بقا اور استحکام کے لیے سب کو مل کر آگے آنا ہوگا۔ پاک فوج کے جوان دھرتی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں، ان بہادروں کے کردار کو قوم کبھی بھی فراموش نہیں کرے گی۔
مقررین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج مخالف پروپیگنڈے نے پوری قوم کو پریشان کیا ہے، ہماری فوج ہمارا اثاثہ ہے اور اس اثاثے کی قدر بھی ہمیں کرنی ہوگی، اگر اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کی خاطر ایک موقر ادارے کو تنقید کا نشانہ بنانا ملکی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے، یہ صورتحال کسی طور پر بھی قبول نہیں کی جاسکتی۔ سیاسی جماعتوں اور مقتدر حلقوں ایک لائحہ عمل طے کرنا ہوگا جس کے تحت اداروں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لانی چاہیے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے سب کا کردار واضح ہے، یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ افواج پاکستان کے سربراہان ملک کے لیے کیاکچھ نہیں کررہے، معاشی حالات ہوں یا قدرتی آفات افواج پاکستان صف اول میں نظر آتی ہے۔
موجود آرمی چیف کے حوالے سے بھی کئی طرح کے شکوک و شبہات کو پروان چڑھانا بھی ملکی ادارے کی ساکھ کو نقصان پہچانے کے مترادف ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم کو وطن عزیز کو درپیش چیلنجز سے آگاہ کرنا ہوگا، ہر قسم کے لسانی مذہبی انتہا پسندیوں سے نکل کر دشمنان وطن کو ناکام بنانا ہوگا اور ملک کے خلاف اٹھنے والی ہر بری نگاہ کو پھوڑ کر رکھنے کا عزم کرنا ہوگا۔
