سعودی عرب نے پاکستان کو دیے گئے 3 ارب ڈالر قرض کی واپسی میں ایک سال کی توسیع کردی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے تین ارب ڈالر قرض کی واپسی میں ایک سال کی تاخیر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سعودی فنڈ فار ڈیولپمنٹ 3 ارب ڈالر رول اوور کرنے کی تصدیق کردی۔واضح رہے کہ 15 اگست کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر سیف ڈپازٹ کی مدت میں مزید توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ 3 ارب ڈالر کے سیف ڈیپازٹ پر 3 فیصد سود بھی ادا کیا جائے گا جب کہ پاکستان کو ڈیفالٹ کا خطرہ ہوا تو رقم فوری واپس کرنا ہو گی۔ ذرائع نے تین ارب ڈالر سیف ڈپازٹ کی مدت میں توسیع دسمبر 2023 تک کیے جانے کا امکان ظاہر کیا اور بتایا تھا کہ سیف ڈپازٹ کی مد میں رکھی گئی رقم کو استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے امید ظاہر کی تھی کہ سعودی عرب کے ساتھ ایک سالہ توسیع کا معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔ وزیر مملکت کے مطابق سعودی عرب ماہانہ 10 کروڑ ڈالر کا ادھار تیل بھی فراہم کرے گا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ سعودی عرب سے 10 ماہ میں 1 ارب ڈالر کا موخر ادائیگیوں پر تیل ملے گا، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں۔سعودی عرب نے گزشتہ برس پاکستان کے اسٹیٹ بینک میں 3 ارب ڈالر ڈپازٹ کیے تھے تاکہ پاکستان کے قومی ذخائر میں مدد ملے۔
