پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل گزشتہ دو دن سے پاکستانی فوج کے اندر بغاوت پر اکسانے کے الزام میں اسلام آباد پولیس کی حراست میں ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق شہباز گل تھانہ کوہسار میں گزشتہ 48 گھنٹوں سے اکیلے موجود ہیں اور اس تمام عرصے میں ملاقات کے لیے نہ تو کسی پی ٹی آئی رہنما نے رابطہ کیا نہ کسی کارکن نے اور نہ ہی شہباز گل کے اپنے کسی رشتہ دار نے رابطہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق عام طور پر ملزمان کے رشتہ دار دوست وغیرہ ان کے لیے تھانے میں کھانا، کپڑے، ادویات وغیرہ بھیجتے رہتے ہیں اور پولیس اہلکار انہیں قیدیوں تک پہنچا بھی دیتے ہیں، تاہم شہباز گل کے معاملے میں ان کی پارٹی یا اہل خانہ کی جانب سے ایسی کوئی چیز مہیا نہیں کی گئی۔ایک اعلی اہلکار نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ شہباز گل کے پاس کپڑوں کا ایک ہی جوڑا تھا جو انہوں نے گرفتاری کے وقت پہنا ہوا تھا۔ انہیں دوسرا لباس دینے کوئی نہیں آیا۔ تاہم اب پولیس نے ان کو خود کپڑے منگوا کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق انہیں پولیس کی جانب سے کھانا وغیرہ مہیا کیا جا رہا ہے اور بستر بھی مہیا کر دیا گیا ہے تاہم وہ تھانے میں خاصے رنجیدہ رہتے ہیں۔بدھ کو شہباز گل کی عدالت میں پیشی کے موقع پر بھی تحریک انصاف کا کوئی قابل ذکر رہنما موجود نہیں تھا۔یاد رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے علاوہ کسی اور اہم رہنما نے کھل کر شہباز گل کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی نہیں کیا۔ خود عمران خان نے ان کی گرفتاری کے طریقہ کار کی مذمت کی اور کہا کہ اگر شہباز گِل نے کچھ غلط کہا ہے تو قانون موجود ہے۔ ان کی گاڑی کے شیشے توڑے گئے، ڈرائیور کو مارا گیا یہ کون سا آئین و قانون کے مطابق تھا؟ شہباز گِل کو عدالت میں اپنی صفائی دینے کا موقع ملنا چاہیے۔
