پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی عدالت کی جانب سے کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کو دہشت گردی کے جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا کی مذمت کرتے ہوئے اس فیصلے کو بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بھارتی جبر اور مظالم کی نئی مثال قرار دیا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے سلامتی کونسل میں مسلح تصادم میں شہریوں کا تحفظ کے موضوع پر بحث کے دوران کہا کہ دیگر نو آبادی طاقتوں کی طرح بھارت نے کشمیر کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کے طور پر پیش کیاہے جو ان کی ایک قانونی جدو جہد کو دبانے کی کوشش ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتاہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی کینگرو عدالت کا کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کے خلاف دہشت گردی کے جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا کا فیصلہ بھارتی جبر کی تازہ مثال ہے۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ بھارت یاسین ملک کو قید کر سکتا ہے لیکن انہوں نے جدوجہد آزادی کا جو تصور پیش کیا اسے کبھی قید نہیں کر سکتا۔پاکستانی مندوب منیر اکرم نے سوال اٹھایا کہ جب فوج کی کارروائیوں کا مقصد شہریوں کی آواز کو دبانا ہے تو شہریوں کو کیسے تحفظ دیا جائے؟ یہ وہ معاملہ ہے جب غیر ملکی قابض افواج لوگوں کو ان کے حق خود ارادیت سیمحروم کرکے اپنے غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں کشمیری عوام کے جدوجہد آزادی کے مطالبے اور ان کے اقوام متحدہ کے وعدہ کردہ حق خودارادیت کو دبانے کے لیے9لاکھ بھارتی فوجیوں نے علاقے کا محاصرہ کر رکھا ہے ۔5 اگست 2019 کو بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی اور اس اقدام کے بعد سے متنازعہ علاقے کے ہر شہر، قصبے، گاں اور محلے میں بھارتی فوجی تعینات ہیں تاکہ بھارتی رہنمائوں کے مسئلہ کشمیر کے نام نہاد حتمی حل کا نفاذ کیا جائے
پاکستان کی اقوام متحدہ میں یاسین ملک کو دی گئی سزا دی شدید مذمت
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
