بھارتی عدالت میں آج کشمیری رہنما یسین ملک کے خلاف سزا کے تعین کیلئے کیس کی سماعت کر رہی ہے،اس دوران یاسین ملک کا عدالت میں جج سے مکالمہ سامنے آیا ہے،بھارتی تحقیقاتی اداروں نے عدالت سے سزائے موت دینے کی درخواست کی۔یاسین ملک نے جواب دیتے ہوئے عدالت سے کہا:میں یہاں کوئی بھیک نہیں مانگوں گا۔ آپ نے جو سزا دینی ہے دے دیجیے۔لیکن میرے کچھ سوالات کا جواب دیجیے:اگر میں دہشت گرد تھا تو ملک(انڈیا) کے سات وزیراعظم مجھ سے ملنے کشمیر کیوں آتے رہے؟اگر میں دہشت گرد تھا تو اس پورے کیس کے دوران میرے خلاف چارج شیٹ کیوں نہ فائل کی گئی؟اگر میں دہشت گرد تھا تو وزیراعظم واجپائی کے دور میں مجھے پاسپورٹ کیوں جاری ہوا؟اگر میں دہشت گرد تھا تو مجھے انڈیا سمیت دیگر ملکوں میں اہم جگہوں ہر لیکچر دینے کا موقع کیوں دیا گیا؟عدالت نے یسین ملک کے سوالات کو نظر انداز کیا اور کہا کہ ان باتوں کا وقت گزر گیا، اب یہ بتائیں کہ آپ کو جو سزا تجویز کی گئی ہے اس پر کچھ کہنا چاہتے ہیں تو بولیے:یسین ملک: میں عدالت سے بھیک نہیں مانگوں گا۔ جو عدالت کو ٹھیک لگتا وہ کرے۔عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا جو انڈیں وقت کے مطابق اج 25 مئی 2022 (بدھ) کو سہ پہر ساڑھے تین بجے سنایا جائے گا۔اس سے پہلے یاسین ملک پر فرد جرم عائد کردی گئی تھیں ۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کشمیری حریت رہنما محمد یاسین ملک نے بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کا اعتراف نہیں کیا جیسا کہ بھارتی میڈیا نے دعوی کیا ہے۔ڈوئچے ویلے نے ایک رپورٹ میں کہا کہ ابھی چند روز قبل بھارتی میڈیا میں سب سے بڑی خبر یہ تھی کہ یاسین ملک نے عدالت کے سامنے اپنے اوپر عائد الزامات کا اعتراف کر لیا ہے۔تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ اس حوالے سے چند روز بعد جب ڈی ڈبلیو اردو نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر صحافی سے بات کی تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ محمد یاسین ملک نے اعتراف جرم نہیں کیا بلکہ بھارتی عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔انہوں نے مقدمے کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔
یاسین ملک کا بھارتی جج سے بھیک مانگنے سے انکار،عدالت سے 7سوال پوچھ لیے
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
