چراغِ راہ
سمندر سے خوش حالی تک: وسائل کی فروخت نہیں، قدر میں اضافہ ہی اصل ترقی ہے
تحریر: شاہد زمان
بلوچستان کی ترقی کا ذکر ہو تو عموماً معدنیات، گوادر بندرگاہ، شاہراہوں اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کی بات ہوتی ہے۔ یہ تمام شعبے اہم ہیں، لیکن بلوچستان کی معاشی ترقی کا ایک ایسا امکان بھی موجود ہے جسے قومی منصوبہ بندی میں زیادہ اہمیت ملنی چاہیے: سمندر، ماہی گیری اور سمندری وسائل کو مقامی صنعت، روزگار اور برآمدات میں تبدیل کرنا۔
بلوچستان کی طویل ساحلی پٹی، بحیرۂ عرب سے قربت، گوادر اور پسنی جیسے ساحلی مراکز اور ماہی گیری سے وابستہ آبادی اس شعبے میں ترقی کے وسیع امکانات فراہم کرتے ہیں۔ اگر ان وسائل کو جدید ٹیکنالوجی، معیاری پراسیسنگ، کاروباری سرمایہ کاری اور مؤثر انتظام کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو ساحلی معیشت صوبے کی خوش حالی اور پاکستان کی برآمدات میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ہم سمندر سے کتنی مچھلی حاصل کر سکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس مچھلی سے اپنے لوگوں کے لیے کتنی آمدنی، روزگار اور معاشی قدر پیدا کر سکتے ہیں۔
بلیو اکانومی کیا ہے؟
بلیو اکانومی یا نیلی معیشت سے مراد سمندری اور ساحلی وسائل کا ذمہ دارانہ اور پائیدار استعمال ہے، جس سے معاشی ترقی، روزگار اور تجارت میں اضافہ ہو، لیکن سمندری حیات اور قدرتی ماحول کو ناقابلِ تلافی نقصان نہ پہنچے۔
اس تصور میں ماہی گیری کے ساتھ مچھلی کی پراسیسنگ، آبی زراعت، کولڈ اسٹوریج، بندرگاہی خدمات، سمندری خوراک کی برآمد، ساحلی سیاحت، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی بھی شامل ہیں۔
بلوچستان کے لیے اس تصور کی اہمیت یہ ہے کہ ساحلی علاقوں میں ترقی کے لیے ہر جگہ بڑے صنعتی منصوبے ضروری نہیں۔ برف بنانے کا یونٹ، مچھلی محفوظ کرنے کی سہولت، چھوٹا پراسیسنگ مرکز، کشتیوں کی مرمت کا کاروبار یا خواتین کے لیے پیکنگ اور معیار کی جانچ کا تربیتی مرکز بھی مقامی معیشت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
یوں بلیو اکانومی کو محض سمندر سے آمدنی حاصل کرنے کے بجائے ایک ایسے معاشی نظام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو مقامی آبادی کو ترقی کے عمل میں شریک کرے۔
بلوچستان کی ماہی گیری: وسائل سے صنعت تک
بلوچستان میں ماہی گیری کی صنعت کو درپیش اہم مسائل میں مچھلی کو پکڑنے کے بعد محفوظ رکھنے، اس کی درجہ بندی، پراسیسنگ، پیکنگ اور برآمدی معیار کے مطابق تیار کرنے کی سہولتوں کی کمی شامل رہی ہے۔ صوبائی فشریز پالیسی میں بھی بنیادی ڈھانچے، بعد از صید نقصانات اور مقامی صنعت کی ترقی کو اہمیت دی گئی ہے۔
فروری 2025 میں بلوچستان کی صوبائی کابینہ نے بلوچستان سسٹین ایبل فشریز اینڈ ایکواکلچر پالیسی 2025–2035 منظور کی۔ یہ ایک اہم پالیسی بنیاد ہے، لیکن اصل کامیابی اس کے عملی نفاذ، مناسب بجٹ، ادارہ جاتی تعاون اور قابلِ پیمائش نتائج سے طے ہوگی۔
مچھلی کو کشتی سے اتارنے کے بعد اگر فوری طور پر برف اور مناسب درجۂ حرارت کی سہولت نہ ملے تو اس کا معیار متاثر ہو سکتا ہے اور قیمت کم ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر مچھلی کو صاف کرکے، مطلوبہ سائز کے مطابق درجہ بند کرکے، محفوظ پیکنگ میں تیار کیا جائے اور خریدار کے معیار کے مطابق برآمد کیا جائے تو اس کی تجارتی قدر بڑھ سکتی ہے۔
یہی ویلیو ایڈیشن ہے: خام مال کو ایسی مصنوعات میں تبدیل کرنا جن کے لیے منڈی میں زیادہ قیمت حاصل کی جا سکے۔
اس تبدیلی سے بلوچستان میں پراسیسنگ، پیکنگ، کولڈ اسٹوریج، ٹرانسپورٹ، مشینری کی مرمت اور تجارتی خدمات کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مچھلی سے پیدا ہونے والی معاشی قدر کا زیادہ حصہ صوبے کے اندر رہ سکے گا۔
ویلیو ایڈڈ ماہی گیری کے امکانات
بلوچستان میں مقامی حالات اور منڈی کی طلب کے مطابق تازہ مچھلی کی صفائی اور درجہ بندی، منجمد فلیٹس، جھینگوں کی پراسیسنگ، اسکویڈ اور کٹل فش کی پیکنگ، تیار سمندری غذاؤں اور مچھلی کے قابلِ استعمال ضمنی اجزا سے فش میل یا فش آئل کی تیاری جیسے شعبوں پر کام کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، ہر مقام پر ہر قسم کی صنعت قائم کرنا دانش مندی نہیں۔ پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کون سی مچھلی کتنی مقدار میں پائیدار طور پر دستیاب ہے، خریدار کس معیار کی مصنوعات چاہتے ہیں، توانائی اور پانی کی لاگت کیا ہوگی اور کاروبار منافع بخش رہ سکے گا یا نہیں۔
بہتر حکمتِ عملی یہ ہے کہ پہلے ممکنہ خریداروں اور منڈیوں کی ضروریات معلوم کی جائیں، پھر مصنوعات، معیار، پیکنگ اور پیداواری صلاحیت طے کی جائے۔ آزمائشی کھیپ اور مستقل آرڈرز کے بعد ہی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جائے۔
گوادر، پسنی اور دیگر ساحلی مراکز کو ان کی ضروریات کے مطابق مختلف معاشی کردار دیے جا سکتے ہیں۔ کہیں برف اور کولڈ اسٹوریج، کہیں ابتدائی پراسیسنگ، کہیں برآمدی سہولتیں اور کہیں چھوٹے ماہی گیروں کے لیے مرمت، تربیت اور کاروباری خدمات کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔
اس طرح بندرگاہوں، شاہراہوں اور دیگر بنیادی سہولتوں کو مقامی صنعت سے جوڑ کر ایک مربوط معاشی سلسلہ قائم کیا جا سکتا ہے۔
آبی زراعت: مستقبل کی پیداوار کا ایک راستہ
قدرتی سمندری ذخائر لامحدود نہیں۔ اگر ضرورت سے زیادہ ماہی گیری کی جائے تو آج کی آمدنی مستقبل کے وسائل کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس لیے آبی زراعت (Aquaculture) کو بھی سائنسی بنیادوں پر فروغ دینا ضروری ہے۔
موزوں مقامات پر جھینگوں اور مقامی ماحول سے مطابقت رکھنے والی مچھلیوں کی فارمنگ، معیاری بیج کی فراہمی، پانی کے معیار کی نگرانی اور بیماریوں سے بچاؤ کے نظام پر کام کیا جا سکتا ہے۔ چھوٹے کاروباری افراد اور ماہی گیروں کو تربیت اور مالی معاونت دے کر اس شعبے میں شامل کیا جائے۔
تاہم، کسی بھی منصوبے سے پہلے پانی کی دستیابی، زمین کے استعمال، حیاتیاتی خطرات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ ضروری ہے۔ مینگرووز، قدرتی نرسریوں اور حساس ساحلی ماحول کو نقصان پہنچا کر حاصل ہونے والی معاشی ترقی پائیدار نہیں ہو سکتی۔
عالمی منڈی میں مقابلہ کیسے کیا جائے؟
دنیا کی کامیاب سمندری خوراک کی صنعتوں سے ایک بنیادی سبق ملتا ہے: قدرتی وسائل کی دستیابی کے ساتھ معیار، ٹیکنالوجی، قابلِ اعتماد فراہمی اور منڈی کی ضروریات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
ناروے کی صنعت سے تحقیق، معیار اور تجارتی شناخت کی اہمیت سیکھی جا سکتی ہے، جبکہ ویتنام جیسے ممالک کی پراسیسنگ اور برآمدی صنعتیں یہ دکھاتی ہیں کہ خام مال کو مختلف مصنوعات میں تبدیل کرکے متعدد منڈیوں تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
بلوچستان کو بھی عالمی مسابقت کے لیے چند اصول اپنانے ہوں گے۔
معیار پر سمجھوتہ نہ ہو۔ خوراک کی حفاظت، صفائی، درجۂ حرارت، ٹریس ایبلٹی اور متعلقہ درآمدی ملک کے تقاضوں کے مطابق کام کیا جائے۔ HACCP جیسے نظام کو عملی طور پر نافذ کیا جائے اور ضروری سرٹیفکیشن حاصل کی جائے۔
ہر منڈی کی ضرورت سمجھی جائے۔ چین، خلیجی ممالک، جاپان، یورپ اور دیگر منڈیوں کی مصنوعات، پیکنگ اور درآمدی شرائط مختلف ہو سکتی ہیں۔ ہر منڈی کے لیے الگ تجارتی حکمتِ عملی ضروری ہے۔
مصنوعات میں تنوع پیدا کیا جائے۔ صرف خام یا منجمد مچھلی پر انحصار کرنے کے بجائے ایسی مصنوعات تیار کی جائیں جن کے لیے خریدار بہتر قیمت ادا کرنے کو تیار ہوں۔
لاگت کم اور فراہمی مستقل رکھی جائے۔ برف، توانائی، ٹرانسپورٹ اور پیکنگ کے اخراجات قابو میں ہوں، جبکہ خریدار کو مطلوبہ مقدار اور معیار کے مطابق مسلسل سپلائی فراہم کی جائے۔
اپنی تجارتی شناخت قائم کی جائے۔ بلوچستان کی سمندری مصنوعات کے لیے ایسا برانڈ اور شناخت تیار کی جا سکتی ہے جو معیار، محفوظ خوراک اور قابلِ تصدیق اصل مقام کی نمائندگی کرے۔ تاہم، برانڈنگ سے پہلے مصنوعات کے معیار اور مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
معیشت پر ممکنہ اثرات
ویلیو ایڈڈ ماہی گیری سے صرف برآمدات ہی نہیں بڑھ سکتیں بلکہ مقامی سطح پر روزگار، کاروباری سرگرمی، ہنرمندی اور خدمات کی طلب میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ پراسیسنگ یونٹس کو پیکنگ، ٹرانسپورٹ، مرمت، کولڈ اسٹوریج اور دیگر معاون کاروباروں کی ضرورت ہوگی، جس سے ساحلی اضلاع میں معاشی سرگرمی کو وسعت مل سکتی ہے۔
وفاقی حکومت کے 9 جولائی 2026 کے بیان کے مطابق مالی سال 2025–26 میں پاکستان کی مچھلی اور اس سے تیار کردہ مصنوعات کی برآمدات 568 ملین امریکی ڈالر تک پہنچیں۔ یہ پورے پاکستان کا عدد ہے، بلوچستان کا الگ حصہ نہیں۔
بلوچستان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ قومی برآمدات میں صوبے کا حصہ کیسے بڑھے اور اس کے اندر کتنی معاشی قدر پیدا ہو۔ اس کے لیے صرف برآمدی مالیت نہیں بلکہ ماہی گیروں کی حقیقی آمدنی، مقامی پراسیسنگ، مستقل روزگار، چھوٹے کاروباروں کی ترقی اور قدرتی وسائل کی حالت بھی جانچنا ہوگی۔
میری سفارشات: بلوچستان کی بلیو اکانومی کے لیے عملی لائحۂ عمل
بلوچستان کے سمندری وسائل کو معاشی خوش حالی میں تبدیل کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
1۔ صوبائی بلیو اکانومی ایکشن پلان تشکیل دیا جائے۔
بلوچستان کی 2025–2035 کی ماہی گیری اور آبی زراعت کی پالیسی کو عملی شکل دینے کے لیے واضح اہداف، مخصوص بجٹ، ذمہ دار اداروں اور مقررہ مدت پر مشتمل جامع ایکشن پلان بنایا جائے۔ اس پر سہ ماہی جائزہ لیا جائے اور سالانہ رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔
2۔ مچھلی کی مقامی پراسیسنگ کو اولین ترجیح دی جائے۔
گوادر، پسنی اور دیگر موزوں ساحلی مراکز میں جدید کولڈ اسٹوریج، برف سازی، صفائی، درجہ بندی، منجمد کرنے، پیکنگ اور برآمدی معیار کی جانچ کی سہولتیں مرحلہ وار قائم کی جائیں۔ مقصد یہ ہو کہ خام مچھلی کی فروخت کے بجائے اس کی زیادہ سے زیادہ مناسب ویلیو ایڈیشن بلوچستان میں ہو۔
3۔ ماہی گیروں کو ترقی کے مرکز میں رکھا جائے۔
ماہی گیر کو صرف خام مال فراہم کرنے والا فرد نہ سمجھا جائے بلکہ اسے پوری ویلیو چین کا اہم شراکت دار بنایا جائے۔ کوآپریٹو تنظیموں، منصفانہ قیمتوں، بروقت ادائیگی، محفوظ کشتیوں، بہتر آلات اور کاروباری تربیت کے ذریعے ان کی آمدنی اور معاشی تحفظ بہتر کیا جائے۔
4۔ مقامی اور چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے مالی سہولتیں فراہم کی جائیں۔
بینکوں اور مالیاتی اداروں کے تعاون سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے موزوں قرض، لیزنگ اور کاروباری ضمانت کی سہولتیں متعارف کرائی جائیں۔ مالی معاونت کو فزیبلٹی، تربیت اور کاروباری منصوبے سے منسلک کیا جائے تاکہ سرمایہ کاری پائیدار ہو۔
5۔ برآمدی معیار اور عالمی منڈی تک رسائی یقینی بنائی جائے۔
معیاری لیبارٹریوں، فوڈ سیفٹی نظام، HACCP، ٹریس ایبلٹی اور متعلقہ درآمدی ممالک کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مقامی صنعت کی مدد کی جائے۔ برآمد کنندگان کو ممکنہ منڈیوں کی ضروریات سے آگاہ کیا جائے اور مستقل خریداروں کے ساتھ تجارتی روابط قائم کیے جائیں۔
6۔ آبی زراعت کو سائنسی بنیادوں پر فروغ دیا جائے۔
موزوں مقامات پر جھینگوں اور مقامی ماحول سے مطابقت رکھنے والی مچھلیوں کی فارمنگ کے آزمائشی منصوبے شروع کیے جائیں۔ پانی، خوراک، بیماریوں اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے بعد ہی ان منصوبوں کو وسعت دی جائے۔
7۔ خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مخصوص مواقع پیدا کیے جائیں۔
پراسیسنگ، پیکنگ، معیار کی جانچ، کولڈ چین، ڈیجیٹل تجارت، مشینری کی مرمت اور کاروباری انتظام میں تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں۔ مقامی تعلیمی اور فنی اداروں کو صنعت کی ضروریات کے مطابق تربیت فراہم کرنے کی ذمہ داری دی جائے۔
8۔ ساحلی مراکز کو مربوط معاشی کلسٹرز میں تبدیل کیا جائے۔
گوادر، پسنی اور دیگر ساحلی مقامات کی ضروریات کے مطابق ان کے معاشی کردار متعین کیے جائیں۔ بندرگاہوں، شاہراہوں، بجلی، پانی، کولڈ چین، پراسیسنگ اور برآمدی سہولتوں کو ایک مربوط نظام کے تحت ترقی دی جائے، تاکہ وسائل مؤثر انداز میں استعمال ہوں۔
9۔ سمندری وسائل کے تحفظ اور قانونی نگرانی کو مؤثر بنایا جائے۔
غیر قانونی اور حد سے زیادہ ماہی گیری کی روک تھام، مچھلی کے ذخائر کی سائنسی نگرانی، ذمہ دارانہ شکار اور آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات کیے جائیں۔ ماہی گیروں کو تربیت اور متبادل ذریعۂ معاش فراہم کیا جائے تاکہ ماحولیاتی تحفظ اور معاشی ضروریات میں توازن قائم رہے۔
10۔ سرمایہ کاری سے پہلے مارکیٹ اور فزیبلٹی کی تصدیق لازمی ہو۔
بڑی فیکٹری یا صنعتی زون بنانے سے پہلے خام مال کی پائیدار دستیابی، توانائی، پانی، ٹرانسپورٹ، پیداواری لاگت اور خریداروں کی طلب کا جائزہ لیا جائے۔ پہلے محدود پیمانے پر منصوبے شروع کیے جائیں اور نتائج کی بنیاد پر انہیں وسعت دی جائے۔
11۔ مقامی قدر میں اضافے کو ترقی کا بنیادی پیمانہ بنایا جائے۔
حکومت صرف برآمدات یا سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت کو کامیابی نہ سمجھے۔ یہ بھی جانچا جائے کہ بلوچستان میں کتنی پراسیسنگ ہوئی، کتنے مقامی افراد کو روزگار ملا، ماہی گیروں کی حقیقی آمدنی میں کتنا اضافہ ہوا، کتنے مقامی کاروبار قائم ہوئے اور سمندری ماحول کی حالت میں کیا تبدیلی آئی۔
12۔ ادارہ جاتی جواب دہی اور شفافیت یقینی بنائی جائے۔
ہر منصوبے کے لیے ذمہ دار ادارہ، بجٹ، مدت اور متوقع نتائج واضح کیے جائیں۔ سرکاری و نجی منصوبوں کی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے اور تاخیر یا اہداف پورے نہ ہونے کی وجوہات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔
میری بنیادی تجویز یہ ہے کہ بلوچستان کو خام مچھلی فراہم کرنے والے خطے کے بجائے ایک ایسے ساحلی معاشی مرکز میں تبدیل کیا جائے جہاں پراسیسنگ، معیاری مصنوعات کی تیاری، تحقیق، تربیت، کاروباری سرمایہ کاری اور برآمدی سرگرمیاں مقامی سطح پر ترقی کریں۔ اس تبدیلی کا فائدہ اسی وقت وسیع ہوگا جب ماہی گیر، نوجوان، خواتین اور چھوٹے کاروباری افراد بھی اس ترقی میں شریک ہوں۔
آغاز کہاں سے ہو؟
عملی پیش رفت کے لیے پہلے سو دنوں میں ساحلی مراکز، مچھلی کی اقسام، دستیاب مقدار، موجودہ سہولتوں، قیمتوں اور ممکنہ خریداروں کا قابلِ اعتماد سروے کیا جائے۔ اسی بنیاد پر تین سے پانچ ابتدائی منصوبے منتخب کرکے ان کی فزیبلٹی تیار کی جائے۔
اگلے چھ سے بارہ ماہ میں منتخب مقامات پر برف، محفوظ لینڈنگ، کولڈ چین، تربیت اور چھوٹے پیمانے کی پراسیسنگ کے منصوبے شروع کیے جائیں۔ ممکنہ خریداروں کے ساتھ آزمائشی معاہدے کیے جائیں اور نتائج کا جائزہ لیا جائے۔
دوسرے اور تیسرے سال میں کامیاب منصوبوں کو وسعت دی جائے، مزید کاروباروں کو سپلائی چین میں شامل کیا جائے اور برآمدی منڈیوں میں تنوع پیدا کیا جائے۔ ہر سال یہ رپورٹ بھی جاری ہو کہ مقامی پراسیسنگ کتنی بڑھی، مچھلی کے ضیاع میں کتنی کمی آئی، کتنے روزگار پیدا ہوئے، ماہی گیروں کی آمدنی میں کیا تبدیلی آئی اور قدرتی ذخائر کی حالت کیا رہی۔
نتیجہ: سمندر کو خوش حالی کے نظام میں بدلنے کا وقت
بلوچستان کے لیے بلیو اکانومی ایک ایسا موقع ہے جس کے ذریعے سمندری وسائل کو مقامی صنعت، ہنر، روزگار اور تجارت سے جوڑا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے اعلانات سے آگے بڑھ کر منصوبہ بندی، سرمایہ کاری، معیاری پیداوار اور ادارہ جاتی جواب دہی کو یقینی بنانا ہوگا۔
دنیا میں معاشی برتری صرف قدرتی وسائل کی فراوانی سے حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے علم، ٹیکنالوجی، معیاری پیداوار، بہتر انتظام اور مسلسل سیکھنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔
بلوچستان کے سمندر کی اصل دولت صرف وہ مچھلی نہیں جو آج پکڑی جا سکتی ہے؛ اصل دولت وہ معاشی نظام ہے جو سمندر سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مقامی ہنر، صنعت، روزگار اور آنے والی نسلوں کی خوش حالی میں تبدیل کر دے۔
ماخذ برائے مزید مطالعہ
- بلوچستان سسٹین ایبل فشریز اینڈ ایکواکلچر پالیسی 2025–2035:
https://fisheries.balochistan.gov.pk/wp-content/uploads/2025/03/Balochistan-Sustainable-Fisheries-Aquaculture-Policy-ApprovedbyCabineton20Feb25.pdf - FAO — بلوچستان کی ماہی گیری اور آبی زراعت کی پالیسی:
https://www.fao.org/pakistan/news/detail-events/ar/c/1733827/ - بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ — فشریز:
https://bboit.gob.pk/fisheries/ - ورلڈ بینک — پاکستان کی ماہی گیری کی صنعت کی بحالی:
https://documents1.worldbank.org/curated/en/122481529566117025/pdf/Revitalizing-Pakistan-s-Fisheries-Options-for-Sustainable-Development.pdf
