اسلام آباد(سب نیوز)اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(آئی سی سی آئی)کے صدر محمد زکریا اکبر ضیا نے پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی تعاون کو فروغ دینے، مشترکہ منصوبوں کے قیام، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صنعتی ترقی پاکستان کی پائیدار معاشی نمو، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار پاکستان چین بزنس فورم کے 13 رکنی وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کی قیادت چیف پیٹرن لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقیوم اور شریک چیئرمین شیخ اعجاز اصغر کر رہے تھے۔
محمد زکریا اکبر ضیا نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان کاروباری روابط کو عملی اقتصادی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل رابطہ کاری، موثر کاروباری روابط کا قیام اور دونوں ممالک کے تجارتی مفادات کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ چینی کمپنیوں اور ان کی مصنوعات کی جامع ڈائریکٹری مرتب کی جائے، آئی سی سی آئی میں مصنوعات اور جدید ٹیکنالوجی کی نمائش کے لیے ایک خصوصی مرکز قائم کیا جائے اور اسلام آباد میں چینی کاروباری اداروں کی سہولت کے لیے ایک سہولت ڈیسک قائم کیا جائے۔صنعتی بنیادی ڈھانچے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں 8,000 ایکڑ یا اس سے زائد رقبے پر مشتمل ایک نئے صنعتی اسٹیٹ کے قیام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، جس کی ترقی میں چینی کمپنیوں کو بھی سرمایہ کاری کی دعوت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ صنعتی اسٹیٹ مینوفیکچرنگ، الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر جدید صنعتوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔
چینی مہارت سے جدید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، ویسٹ مینجمنٹ، ری سائیکلنگ اور کچرے سے توانائی پیدا کرنے کے منصوبوں کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کا تزویراتی محل وقوع اور اہم سرکاری اداروں سے قربت اسے سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام بناتی ہے۔محمد زکریا اکبر ضیا نے مزید تجویز دی کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)کی آئندہ سرگرمیوں سے قبل مارچ 2027 میں اسلام آباد میں ایک بڑی پاکستان چین ایکسپو منعقد کی جائے، جس کے ذریعے دونوں ممالک کی مصنوعات کی نمائش، سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کرنے اور کاروباری برادری کے درمیان براہ راست روابط کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ دیرپا تعاون، مثر ادارہ جاتی سہولت کاری اور عملی کاروباری روابط کے ذریعے پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی کو باہمی مفاد پر مبنی تجارتی شراکت داری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
وفد کا تعارف کراتے ہوئے پاکستان چین بزنس فورم کے شریک چیئرمین اور وولٹرکس بیٹریز کے چیئرمین شیخ اعجاز اصغر نے کہا کہ وہ گزشتہ 30 سال سے پاکستان اور چین کے درمیان کاروباری شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفد مجوزہ اسلام آباد صنعتی اسٹیٹ میں سرمایہ کاری اور دونوں ممالک کی مصنوعات کی نمائش کے لیے جدید ترین ایکسپو مرکز کی ترقی میں تعاون کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفد پاکستانی کاروباری اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے معاہدے کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے پاکستان میں الیکٹرک بس منصوبہ متعارف کرانے کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں، برقی آلات، مینوفیکچرنگ، تجارت اور تقسیم کاری کے شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے مقامی سطح پر پیداوار، تکنیکی تربیت اور صنعتی صلاحیت میں اضافے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ان کے مطابق وفد پاکستان میں طویل مدتی کاروباری سرگرمیوں کے قیام کے لیے قابلِ اعتماد مقامی شراکت داروں، موثر سیلز نیٹ ورک اور صنعتی سہولیات کی تلاش میں ہے۔اس موقع پر لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقیوم نے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے فورم کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ پاکستان چین بزنس فورم بیجنگ کے صدر وی لنژو اور شینگ تانگ الیکٹرک بسز کے چیئرمین یوان بانگ شیانگ بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ آئی سی سی آئی کے سابق صدور میاں اکرم فرید اور محمد اعجاز عباسی نے بھی سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور نجی شعبے کے درمیان مسلسل تعاون کے ذریعے دوطرفہ کاروباری تعلقات کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔اجلاس میں آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر محمد اشفاق چٹھہ، نائب صدر محمد وقاص خان، ایگزیکٹو ممبران افتخار انور سیٹھی، عباس ہاشمی، اسرار الحق، سید عمران بخاری، ملک راشد طفیل، ابرار الحق، بلال سہیل صدیقی، محمد عارف اور محترمہ صدف عاصم عباسی سمیت کاروباری برادری کے دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔
پاکستان چین بزنس فورم کے وفد کاآئی سی سی آئی کا دورہ ، مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
