کراچی(سب نیوز) پاکستان عوام راج تحریک کے سربراہ اور ٹی وی اینکر اقرار الحسن کو لاہور سے گرفتاری کے بعد کراچی کی عدالت نے 4 روزہ ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)کے حوالے کر دیا ہے۔
ایجنسی کی جانب سے اقرار الحسن کو کراچی کی سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا اور تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔اقرار الحسن کو ایک روز قبل لاہور کے علاقے ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ایجنسی حکام کے مطابق اقرار الحسن کے خلاف این سی سی آئی اے میں پیکا ایکٹ کی دفعات 9، 10، 20، 24، اور 26۔اے کے تحت مقدمہ نمبر 101/2026 درج ہے ۔
مقدمہ میں اقرار الحسن پر ایکس، فیس بک، اور انسٹاگرام پر عوام کو بڑھکانے کے ارادے سے ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف جھوٹی اور من گھڑت پوسٹیں کرنے کا الزام لگایا گیا۔عدالتی کارروائی کے بعد این سی سی آئی اے کی ٹیم انہیں واپس اپنے ساتھ لے گئی۔
اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے ایک روز قبل بتایا تھا کہ ان کے خاوند کو مبینہ طور پر گرفتار کیا گیا ہے تاہم گرفتاری کی وجہ معلوم نہیں اور این سی سی آئی اے سے رابطے کے باوجود انہیں ان کے مقام اور حراست کے حالات کے بارے میں معلومات نہیں مل سکیں۔فرح اقرار کے مطابق رات کے وقت کچھ افراد ان کے گھر آئے اور اقرار الحسن کو باہر آنے کے لیے کہا۔ ان کا دعوی ہے کہ افراد نے دھمکی دی کہ اقرار الحسن کو باہر نہ لایا گیا تو وہ گھر میں توڑ پھوڑ کریں گے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ان افراد نے دیوار پھلانگی، انہیں دھکا دیا اور اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کے مطابق 2 افراد نے اقرار الحسن کو پکڑا جبکہ دیگر افراد موبائل فون اور لیپ ٹاپ لے گئے۔فرح اقرار نے یہ بھی دعوی کیا کہ جب انہوں نے واقعے کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو ان افراد نے سی سی ٹی وی کیمرے اور ان کا فون بھی لے لیا۔
اقرار الحسن کو عدالت پیش کر دیا گیا،4روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
