اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے جیفریز انٹرنیشنل کے زیر اہتمام ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے گول میز اجلاس میں شرکت کی، جس میں پاکستان کی معاشی صورتحال، مالیاتی اصلاحات، بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد بھی شریک تھے۔
اجلاس کے دوران پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی مالیاتی اور بیرونی ادائیگیوں کی صورتحال، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر معاشی استحکام کو مزید مضبوط بنانے اور پائیدار، برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کی جانب پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ٹیکس نظام، توانائی، سرکاری ملکیتی اداروں اور عوامی مالیات کے شعبوں میں اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
اجلاس میں عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کے پروگرام پر پیش رفت، قرضوں کی پائیدار ادائیگی اور مالیاتی ضروریات پوری کرنے کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سلسلے میں مالی معاونت کے ممکنہ ذرائع کا جائزہ لیا گیا، جن میں صکوک، پانڈا بانڈز کے مزید اجرا اور ٹوکنائزیشن کے امکانات شامل ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ نے پاکستان میں نجکاری کے مواقع کا بھی ذکر کیا اور کاروباری اداروں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس کے دوران ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے ٹیکس قوانین پر عمل درآمد بہتر بنانے سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ اس کے علاوہ مالیاتی اہداف کے حصول کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان رابطہ کاری کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔شرکا نے خطے کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال سے وابستہ خطرات، توانائی کے تحفظ، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) سے متعلق ذمہ داریوں اور امریکا و دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے معاشی روابط پر بھی گفتگو کی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے ملاقات، معاشی اصلاحات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
