اسلام آباد (سب نیوز)پاک سعودی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کی میزبانی میں پریس کانفرنس میں پاکستان کی بڑی مذہبی قیادت نے عمرہ زائرین پر حوثی حملوں کی شدید الفاظ میں کی ہے۔ اور کہا ہے کہ حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہے۔ سرپرست پاک سعودی یکجہتی کونسل وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، سرپرست پاک سعودی یکجہتی کونسل سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم، جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری، نائب صدر صاحب زادہ شاہ اویس نورانی سیکرٹری جنرل جمعیت علمائیپاکستان،اہلسنت والجماعت کے سرپرست مولنا محمد احمد لدھیانوی،صدر پاک سعودی یکجہتی کونسل ڈاکٹر علی محمد ابو تراب، سیکرٹری جنرل مولنا فضل الرحمان خلیل، رابطہ سیکرٹری مولنا عتیق الرحمان شاہ، ترجمان پاک سعودی یکجہتی کونسل پروفیسر سجاد قمر نے بھی خطاب کیا۔
سرپرست پاک سعودی یکجہتی کونسل،سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے قابل مذمت ہیں، خصوصا عمرہ زائرین کو نشانہ بنانے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تمام مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس مقامات ہیں اور ان کی سلامتی پوری امت مسلمہ کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور ان حملوں کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔پوری پاکستانی قوم اور امت مسلمہ ان ناپاک حملوں کی مذمت کرتی ہے۔ اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کرتی ہے ۔اور انہوں نے حکومت پاکستان کے موقف سراہااور اسکی مکمل تائید کیوفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے کہا کہ احرام کی حالت میں اللہ کے مہمانوں کو شہید کرنا کسی طور پر قابل قبول نہیں۔ ہم واضح اور واشگاف الفاظ میں اس کی مذمت کرتے ہیں۔ حرمین کی حدود میں جہاں چیونٹی مارنا حرام ہے وہاں ضیوف الرحمن کو شہید کرنا ظلم عظیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہے اور اس کے دفاع کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق یہ حملے امت مسلمہ میں اشتعال پیدا کرنے کی کوشش ہیں، جن کی مذمت کرتے ہیں، جبکہ حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام حرمین الشریفین کے دفاع کے معاملے پر متحد ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے اپنی واضح پالیسی کا اعلان کر چکے ہیں۔مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ سعودی عرب کے معاملے پر پاکستانی حکومت اور عوام کا ایک پیج پر ہونا خوش آئند ہے۔ سعودی عرب محض ایک ملک نہیں بلکہ مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم ممالک سعودی عرب کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہوں۔
صاحب زادہ شاہ اویس نورانی نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب بظاہر دو الگ ممالک ہیں، لیکن دونوں کے درمیان ایمان کا رشتہ قائم ہے۔ پاکستان کو اسلام کا قلعہ جبکہ سعودی عرب کو اسلام کا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔ بیت اللہ اور روضہ رسول ۖ کی حرمت اور سلامتی امت مسلمہ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔سرپرست اہل سنت والجماعت علامہ محمد احمد لدھیانوی نے کہا کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان عزت و احترام کے تعلق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب کو افرادی قوت کی ضرورت پیش آئی تو پاکستانی قوم حرمین الشریفین کے دفاع کے لیے حاضر ہوگی۔ ان کے بقول حوثیوں کی کارروائیوں کے پس منظر میں علاقائی قوتوں کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے اور پاکستانی حکمرانوں کو اس حوالے سے محتاط رہنا ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 22 اکتوبر کو اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں ایک عظیم الشان اجتماع منعقد کیا جائے گا، جس میں حوثیوں کی مذمت اور سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔مولانا فضل الرحمان خلیل نے کہا کہ مقدس مقامات پر پر حملہ افسوسناک ہے۔ حرمین الشریفین کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے دفاعی معاہدہ پر مکمل عمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض دو حکومتوں کے درمیان روابط تک محدود نہیں بلکہ ریاستی، تاریخی اور مذہبی بنیادوں پر استوار ہیں۔ رہنماں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے عوام سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور حرمین الشریفین کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت جاری رکھیں گے۔ حرمین شریفین پر حملے کرنے والے قابل مذمت ہیں۔ سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے۔ سعودی عرب کی جنگ کوئی ذاتی جنگ نہیں بلکہ ایک مقدس جہاد ہے۔ پروفیسر سجاد قمر نے کہا کہ پاک سعودی یکجہتی کونسل پاکستان کے علمائے کرام، عوام کی ترجمان ہے ۔ حوثیوں نے تو کفار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ عمرہ زائرین پر حملہ کر کے حرمین دشمنی کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کی پوری قوم اس کی مذمت کرتی ہے۔
