اسلام آباد (سب نیوز)خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی خطرناک صورتحال اور آئینی نظام کی ناکامی پر وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت، وزیراعلی اور وزرا کو معطل کر کے تمام اختیارات گورنر کے سپرد کر دیے ہیں۔وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، عطا اللہ تارڑ، محسن نقوی اور ثمر ہارون بلور نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نئے صوبائی سیٹ اپ کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں اور ان کے اثرات ملک کے دیگر حصوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔عالمی دہشتگردی انڈیکس میں پاکستان کو سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار دیا گیا ہے، جبکہ دہشتگردی کے باعث ملکی معیشت اور غیر ملکی سرمایہ کاری بھی متاثر ہو رہی ہے۔وزیر قانون کا کہنا تھا کہ آئینی طریقہ کار کے تحت صوبائی حکومت کو معطل کیا گیا ہے اور وفاقی حکومت نے آئینی اختیارات کے تحت گورنر کو ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔ اب گورنر خیبرپختونخوا آئین کے تحت صوبائی اختیارات استعمال کریں گے۔اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ اس فیصلے کے تحت وزیراعلی، صوبائی وزرا اور معاونین خصوصی کے اختیارات معطل کر دیے گئے ہیں، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل سمیت دیگر آئینی عہدے داروں کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عبوری مدت میں صوبے کے معاملات چلانے کے لیے باصلاحیت افراد کا انتخاب کیا گیا ہے اور خیبرپختونخوا کے معاملات کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تجویز کی گئی ہے۔ تعمیِر نو اور ترقیاتی امور کے لیے بھی یہ مشاورتی کونسل قائم کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر قانون کے مطابق خیبرپختونخوا کے 12 متاثرہ اضلاع کے لیے خصوصی سیکرٹریٹ قائم کیا گیا ہے جو گورنر اور چیف سیکرٹری کے ماتحت کام کرے گا۔یہ خصوصی سیکرٹریٹ 12 متاثرہ اضلاع کی صورتحال کی نگرانی کرے گا اور وفاقی حکومت کو مسلسل آگاہ رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 12 متاثرہ اضلاع کے انتظامی امور کے لیے ایڈیشنل چیف سیکریٹری سطح کا افسر تعینات ہوگا اور تمام انتظامی معاملات نئے طریقہ کار کے تحت چلائے جائیں گے۔ گورنر خیبرپختونخوا اس نئے انتظامی نظام کی نگرانی کریں گے۔اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم کو آئینی طریقہ کار اختیار کرنے اور دستیاب آئینی آپشنز استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ صدر مملکت کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کرنے کی ایڈوائس دی گئی ہے۔وفاقی وزیر قانون کے مطابق خیبرپختونخوا کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آئین میں موجود آپشنز استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی صورتحال کے دو پہلو ہیں، جن میں ایک سکیورٹی اور دوسرا قانونی ہے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال اور دہشت گردی کے معاملے پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تمام سیاسی جماعتوں پر دہشت گرد حملے ہوئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی اور دہشت گردوں کے درمیان ناپاک اتحاد ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردوں کو سکیورٹی تک رسائی اور مالی وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ صوبائی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، مگر دہشتگردوں کو بااختیار بنانا اور عوام کا تحفظ نہ کرنا دو الگ معاملات ہیں۔مساجد، اسپتالوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں دہشتگرد ملوث رہے ہیں، اس لیے صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کے معاملے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت نے دہشتگردوں کو انتظامی امور میں اپنا سٹیک ہولڈر بنا لیا ہے اور خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع کو دہشتگردوں کے حوالے کر کے آوٹ سورس کر دیا گیا ہے۔صوبے میں امن و امان کے ذمہ داروں نے دہشتگردوں کی سہولت کاری کی ہے، جبکہ دہشتگرد بیرونی فنڈنگ کے ذریعے ملک کو تباہی کے دہانے پر لانا چاہتے ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف لڑنے والے شہدا اور ان کے اہل خانہ ہی اصل ہیرو ہیں اور قوم ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ ہمارے لیے آسان نہیں تھا۔ صوبائی حکومت کو اعتماد میں لینے کے لیے ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک کوششیں کی گئیں، وفاقی حکومت کی کوشش تھی کہ خیبرپختونخوا حکومت کو ساتھ ملا کر دہشتگردی کا مقابلہ کیا جائے۔محسن نقوی نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ تمام حکومتوں کو مل کر لڑنی چاہیے، اسی مقصد کے تحت وفاقی حکومت خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہی اور مختلف معاملات پر پیشرفت جاری تھی۔وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے اعلان سے پہلے ہی اس کے بیشتر مطالبات پر پیشرفت ہو رہی تھی، جبکہ ملاقاتوں سمیت متعدد معاملات پر بھی کام جاری تھا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب مطالبات پر پہلے ہی پیشرفت جاری تھی اور مختلف معاملات حل کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی تھیں تو پھر لانگ مارچ کا اعلان کیوں کیا گیا؟وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہاکہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے درمیان دو روز تک مذاکرات ہوئے، مذاکراتی مسودے کو چار مرتبہ حتمی شکل دی گئی اور پی ٹی آئی کی جانب سے نشاندہی کی گئی 5 سے 6 ترامیم بھی قبول کرلی گئیں، تاہم مسودے پر اتفاق ہونے کے بعد اچانک ایک نیا ڈرافٹ سامنے آگیا۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن رہنماوں سے ملاقات 15 یا 16 ستمبر کو طے کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ حکومت چاہتی تھی کہ وزیراعظم کے بیرون ملک روانہ ہونے سے قبل اپوزیشن رہنماں سے ملاقات کرا کر صورتحال معمول پر لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے پر بھی بات چیت ہوئی تھی، جس کے بعد وزیراعظم اور اپوزیشن رہنماں کی ملاقات ہوئی اور مذاکراتی کمیٹی قائم کی گئی۔ اس کمیٹی کے ذریعے پی ٹی آئی کے ساتھ دو روز تک مذاکرات جاری رہے۔وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دہشتگردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے عزم کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اس موقع پر خیبرپختونخوا حکومت کو بھی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں میں شامل کرنے پر زور دیا گیا۔محسن نقوی نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران مجوزہ مسودے کو چار مرتبہ حتمی شکل دی گئی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے 5 سے 6 ترامیم کی نشاندہی کی گئی، جنہیں حکومت نے قبول کرلیا، تاہم تمام نکات پر اتفاق ہونے کے بعد اچانک ایک نیا مسودہ سامنے آگیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا نے مذاکراتی ٹیم کو پہلے ہی طے شدہ معاملات کی منظوری دے رکھی تھی، جبکہ پی ٹی آئی رہنماں کے ساتھ رات 12 بجے تک رابطہ بھی برقرار رہا۔وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مجوزہ مسودے کے ایک پیراگراف پر پی ٹی آئی سے تجاویز مانگی گئیں، لیکن اس حوالے سے کوئی جواب نہیں ملا، حالانکہ مسودے کے باقی تمام نکات پر پی ٹی آئی کو اتفاق تھا۔محسن نقوی نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دوران پیش آنے والے تمام معاملات اور تفصیلات کی تصدیق پی ٹی آئی کے رہنماں سے بھی کی جاسکتی ہے۔وزیر داخلہ نے کہاکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دوران فیصلہ ہوا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کریں گے اور انہیں لانگ مارچ مخر کرنے کی درخواست کریں گے، تاہم مسلسل رابطوں اور کوششوں کے باوجود مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے۔وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف سے جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات بھی ہوئی۔ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی رہنماں سے بھی ملاقات کی، تاہم ان کی کوششوں کے باوجود کوئی نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے 12 اضلاع میں حالات انتہائی خراب ہیں، جہاں صورتحال اس حد تک سنگین ہوچکی ہے کہ لوگ شام کے بعد اپنے گھروں سے باہر بھی نہیں نکل سکتے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ ان کی متعدد ملاقاتیں ہوئیں، تاہم ان ملاقاتوں میں صرف دہشتگردی کے معاملے پر گفتگو کی گئی اور کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی۔
خیبرپختونخوا حکومت معطل، صوبائی معاملات چلانے کیلئے 11رکنی مشاورتی کونسل اور خصوصی سیکرٹریٹ قائم کرنے کا اعلان
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
