اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس نےچین کی جانب سے 47 ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے مکمل انسانی حقوق سے استفادے کے لیے بلارکاوٹ رسائی کے فروغ”کے عنوان سے پیش کردہ قرارداد کی منظوری دے دی۔اقوام متحدہ کے جنیوا دفتر اور سوئٹزرلینڈ میں دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے لیے چین کے مستقل مندوب جیا گوئی دہ نے قرارداد کا مسودہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ رکاوٹوں سے پاک ماحول کی تعمیر تمام گروہوں کو معاشرتی زندگی میں برابری اور آسان شرکت کے قابل بناتی ہے اور مختلف انسانی حقوق کے عملی حصول کو یقینی بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد کے موجودہ مسودے میں عمر رسیدگی کے مسئلے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے اور رکاوٹوں سے پاک تعمیرات اور عمر رسیدہ افراد کے لیے موزوں ماحول کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے پیدا ہونے والے مواقع اور چیلنجز پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تمام ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی ترقی اور استعمال میں جدت، شمولیت، کھلے پن، انصاف، سلامتی اور اعتبار کے اصولوں کو برقرار رکھیں اور رکاوٹوں سے پاک معلوماتی رابطے کو فروغ دیں۔کیوبا اور مصر سمیت دیگر متعدد ممالک نے اپنے بیانات میں کہا کہ قرارداد میں ترقی پذیر ممالک کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے اور متعلقہ شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے، جو ترقی پذیر ممالک کی ضروریات سے ہم آہنگ ہے۔ یاد رہے کہ 2024 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے چین کی بنیادی پیشکش پر اسی عنوان سے ایک قرارداد پہلی بار منظور کی تھی، جو اقوام متحدہ کی تاریخ میں رکاوٹوں سے پاک رسائی سے متعلق پہلی موضوعاتی قرارداد تھی۔ رواں برس انسانی حقوق کونسل نے ایک بار پھر چین اور دیگر ممالک کی بنیادی پیشکش پر کے لیے بلا رکاوٹ رسائی” سے متعلق قرارداد منظور کی ہے۔ یہ قرارداد مختلف گروہوں کے انسانی حقوق کے مزید فروغ اور تحفظ، عمر رسیدگی سے فعال طور پر نمٹنے اور متعلقہ شعبوں میں عالمی حکمرانی اور معیار سازی کو مضبوط بنانے کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں چین کی پیش کردہ بلا رکاوٹ رسائی کی قرارداد منظور
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
