ہومپاکستانرومانیہ پاکستان اقتصادی شراکت داری کیلئے عملی اقدامات ناگزیر ہیں: ڈین اسٹونیسکو

رومانیہ پاکستان اقتصادی شراکت داری کیلئے عملی اقدامات ناگزیر ہیں: ڈین اسٹونیسکو

بخارسٹ:: پاکستان میں رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹونیسکو نے کہا ہے کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان موجود اقتصادی صلاحیت کو ٹھوس کاروباری شراکت داری، سرمایہ کاری اور تجارت میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
رومانیہ کے سفیر نے بخارسٹ میں منعقدہ رومانیہ۔پاکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط سفارتی تعلقات کو ایسی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جانا چاہیے جو حقیقی اور عملی نتائج فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان سیاسی تعلقات بہترین، نجی شعبے متحرک اور دونوں ممالک کی معیشتیں ایک دوسرے کیلئے معاون ہیں، تاہم دوطرفہ تجارت کے اعداد و شمار دونوں ممالک کی حقیقی اقتصادی صلاحیت کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔ اب وقت آگیا ہے کہ کاروباری روابط سفارتی تعلقات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔
ڈاکٹر ڈین اسٹونیسکو نے کہا کہ رومانیہ کا سفارتخانہ اسلام آباد، پاکستان۔رومانیہ بزنس کونسل اور رومانیہ کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (CCIR) نے پاکستانی کاروباری وفد کو رومانیہ لانے کیلئے مشترکہ کوششیں کی ہیں۔
انہوں نے پاکستانی کاروباری رہنماؤں، بالخصوص عاطف فاروقی اور سہیل شمیم فیرو سمیت وفد کے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی تاجر محض کاروباری روابط قائم کرنے کیلئے نہیں بلکہ شراکت دار تلاش کرنے، مواقع کا جائزہ لینے اور عملی کاروبار کیلئے رومانیہ آئے ہیں۔

رومانیہ کے سفیر نے کہا کہ رومانیہ پاکستانی کمپنیوں کیلئے یورپی یونین اور اس کی سنگل مارکیٹ تک رسائی کا اہم دروازہ ہے۔ زراعت، آئی ٹی، توانائی، مینوفیکچرنگ، تعلیم اور لاجسٹکس سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے کراچی پورٹ اور رومانیہ کی کانستانتا بندرگاہ کے درمیان قائم ہونے والے نئے تعاون کے فریم ورک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب اس رابطے کو عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مزید بحری جہاز، کنٹینرز، تجارت اور سرمایہ کاری دیکھنا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر ڈین اسٹونیسکو کے مطابق پاکستانی وفد اپنے دورے کے دوران بخارسٹ کے علاوہ پلوئیشتی، کانستانتا اور براشوو میں رومانیہ کی کمپنیوں، چیمبرز آف کامرس، جامعات اور سرکاری اداروں سے ملاقاتیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری مشن کی کامیابی کا اندازہ ملاقاتوں، تصاویر یا مفاہمتی یادداشتوں کی تعداد سے نہیں بلکہ معاہدوں، نئی سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، برآمدات میں اضافے اور دیرپا کاروباری شراکت داریوں سے ہونا چاہیے۔

رومانیہ کے سفیر نے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ رومانیہ پاکستانی کاروبار کیلئے کھلا ہے جبکہ پاکستان بھی رومانیہ کی کمپنیوں کیلئے حقیقی مواقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا، “اب وقت ہے کہ ہم امکانات کو شراکت داری اور شراکت داری کو خوشحالی میں تبدیل کریں۔”

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔